بریڈفورڈ (محمد رجاسب مغل) ویسٹ یارکشائر کے ایک حالیہ سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 35 سال سے کم عمر کی مقامی اکثریتی خواتین رات کو بس میں سفر کرنے میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں وہ ہراساں کیے جانے کے خوف کی وجہ سے بس یا ٹرین کے بجائے ٹیکسی یا پرائیویٹ کار میں سفر کو ترجیح دیتی ہیں۔خواتین وہ علاقے جہاں ایشیائی یا نسلی اقلیتیں آباد ہیں حفاظتی وجوہات کی بنا پر بسوں میں سفر کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔ سروے کے اعدادوشمار کو کونسلرز نے خوفناک قرار دیا ہے جبکہ بس کمپنی کے مالکان نے بھی تسلیم کیا کہ خواتین کی حفاظت کا مسئلہ انتہائی اہم ہے ٹرانسپورٹ کی صنعت کو اسے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ویسٹ یارکشائر کمبائنڈ اتھارٹی کے ذریعہ کئے گئے 1,800سے زیادہ لوگوں کے سروے میں مختلف لوگوں سے بسوں کی وقت کی پابندی، معیار اور خطے کی سڑکوں کی حالت سے متعلق پوچھا گیا تھا کہ وہ اس پر کتنے مطمئن ہیں سروے کے نتائج کو بریڈفورڈ کونسل کے ہونے والے اجلاس میں ٹرانسپورٹ کمیٹی اتھارٹی کو پیش کیے گئے سروے جو 87 فیصد خواتین اور 88فیصد مردوں سے کیے گئے تھے میں اکثریت نے دن میں سفر کرنے کو محفوظ محسوس کیا جبکہ 68 فیصد مردوں اور صرف 41فیصد خواتین نے اندھیرے میں سفر کرنے کو محفوظ تصور کرتے ہیں 65سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں بھی رات کے وقت سفر کرنے پر اعتماد کی کمی تھی صرف 43فیصد رات کے سفر کومحفوظ محسوس کرتے ہیں، اور 36فیصد معذور افراد اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ لوگوں سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے پبلک ٹرانسپورٹ پر سماج مخالف رویے یا جرائم سے بچنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ واضح رہے کہ محروم علاقوں میں رہنے والے لوگ بس سروسز پر زیادہ انحصار کرتے ہیں ایسے علاقوں میں 38فیصد لوگ خود کو باقاعدہ بس سروس استعمال کرنے والے بتاتے ہیں جبکہ زیادہ امیر علاقوں میں رہنے والے صرف 26فیصد لوگ ہیں جو بس سروس استعمال کرتے ہیں میٹنگ میں کیتھلے ایسٹ کے لیبر پارٹی کے کونسلر کیرولین فرتھ نے کہا کہ سروے کے یہ اعدادوشمار خوفناک ہیں خواتین کو رات کے وقت پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس کرنے کی ضرورت ہے اس معاملے پر مزید کام کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا یہ خوف تصور یا حقیقت پر مبنی ہے کمبائنڈ اتھارٹی اور پولیس اس بارے میں کیا کرنے جا رہے ہیں؟ ہم جانتے ہیں کہ خواتین کے پاس مردوں کے مقابلے میں کار تک رسائی کا انتخاب کم ہوتا ہے اتھارٹی کے ٹرانسپورٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سائمن واربرٹن نے تسلیم کیا کہ بس ٹرانسپورٹ کے بارے میں فیصلے زیادہ تر مرد ہی کرتے ہیں اتھارٹی زیادہ خواتین کو ٹرانسپورٹ کے سینئر کرداروں میں شامل کرنے کے بارے میں ’’بہت سنجیدہ‘‘ ہے اور اس سے پبلک ٹرانسپورٹ کو متاثر کرنے والے مسائل کے بارے میں خواتین کو نقطہ نظر دینے میں مدد ملے گی خواتین صارفین کو محفوظ سفر کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے پولیس سارجنٹس کو ویسٹ یارکشائر میں بس ا سٹیشنوں اور بسوں میں گشت بڑھانے کی ضرورت ہے جس سے جرائم اور سماج مخالف رویے کو کم کرنے خواتین اور لڑکیوں کی حفاظت میں اضافہ اور سفر کرنے والے کمزور صارفین کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے گی۔