• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی تجارت کیخلاف پالیسیوں، پابندیوں کا مقابلہ کرنا ناگزیر، خودمختاری، آزادی، سالمیت کا باہمی احترام ترقی کی بنیاد، SCO اعلامیہ

اسلام آباد (نمائندہ جنگ)شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان حکومت اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیاجس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ریاستوں کی خودمختاری‘ آزادی اور علاقائی سالمیت کے باہمی احترام کے اصول، مساوات، باہمی فائدے، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، طاقت کا استعمال نہ کرنا یا طاقت کے استعمال کی دھمکی نہ دینا بین الاقوامی تعلقات کی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے‘یکطرفہ اور تجارتی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے ایس سی اونے عالمی پائیدار ترقی کی حمایت کے لیے کثیر الجہتی تجارتی نظام کی ضرورت پر زور دیااورقرار دیا کہ عالمی تجارت کے خلاف پالیسیوں اور پابندیوں کا مقابلہ کرنا ناگزیر ہوچکا ‘۔

 اعلامیہ میں مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے ملکوں کے درمیان اختلافات اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم کا اعادہ کیا گیا جبکہ وزیراعظم شہبازشریف نے کہاہےکہ عالمی برادری غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کی اپنی ذمہ داری نبھائے‘معاشی ترقی‘استحکام اورخوشحالی کیلئے ہمیں مل کرآگے بڑھنا ہے ‘عالمی برداری افغانستان کی عبوری حکومت سے جامع بنیادوں پر سیاسی شمولیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی بنیادوں پر ان کی مدد کو آگے آئے تاکہ افغانستان کی سرزمین کو کوئی بھی تنظیم ان کے پڑوسیوں کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کر سکے۔

اجلاس میں شریک علاقائی رہنمائوں نے خطے کی استعدادو امکانات خاص طور پر تجارت اور رابطوں میں اضافہ کیلئے تعاون اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے‘ایس سی او کے سربراہان حکومت کے سالانہ اجلاس کی صدارت وزیر اعظم شہباز شریف نے کی۔ 

اجلاس میں چین کے وزیر اعظم لی چیانگ، بیلاروس کے وزیر اعظم رومن گولوو چینکو، قازقستان کے وزیر اعظم اولزہاس بیکوتینوو ، روس کے وزیر اعظم میخائل مشوستن، تاجکستان کے وزیراعظم قاہررسول زادہ، ازبکستان کے وزیراعظم عبداللہ اریپوف،کرغزستان کے وزراء کابینہ کے چیئرمین اکیل بیک جاپاروف ، ایران کے وزیر تجارت سید محمد عطابیک اور بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنيم جے شنکر نے شرکت کی۔علاوہ ازیں منگولیا کے وزیراعظم اويون اردين لويسنامسراياور ترکمانستان کے نائب وزیراعظم راشد میریدوف بھی اجلاس میں شریک تھے۔

تفصیلات کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان حکومت کے اجلاس کے آغازپراپنے افتتاحی کلمات میں وزیراعظم نے کہاکہ پائیدارترقی کیلئے علاقائی تعاون اورروابط کافروغ ضروری ہے‘ہم نے اپنے لوگوں کوبہترمعیارزندگی اورسہولیات فراہم کرنی ہیں ۔معاشی ترقی، استحکام اورخوشحالی کیلئے مل کرآگے بڑھناہے۔

ہم عالمی منظرنامہ میں تبدیلی اورارتقاء کاسامنا کررہے ہیںجبکہ ایس سی او سربراہان حکومت کی کونسل کے 23 ویں اجلاس میں اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہاکہ متحدہوکرہم سماجی واقتصادی ترقی، علاقائی امنواستحکام اوراپنے شہریوں کے معیارزندگی کوبہترکرسکتے ہیں۔ ہم تاریخی تبدیلیوں کاسامنا کررہے ہیں جہاں تیزترتبدیلیاں سماجی، سیاسی،معاشی اورسلامتی کے منظرنامہ کوبدل رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ مستحکم افغانستان تمام رکن ممالک کو بہتر رابطوں کے لیے فائدہ مند تجارتی اور ٹرانزٹراہداریاں پیش کر سکتا ہے

 اس مقصد کے حصول کے لیے مستحکم افغانستان بہت ضروری ہے،بین الاقوامی برادری کوجہاں انسانی بحران اور معاشی بدحالی کو روکنے کے لیے افغانستان کی عبوری حکومت کی مدد کے لیے درکار مدد فراہم کرنی چاہیے، وہیں اسے افغان عبوری حکومت سے سیاسی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کرنا چاہیے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ادارے یاتنظیم کے ذریعے اس کے پڑوسیوں کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہوں۔

بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچہ، عالمی تجارت، ٹیکنالوجی کے نظام اور عالمی مساوات کو فروغ دینے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہےوزیراعظم نبے شنگھائی تعاون تنظیم کی جانب سے متبادل ترقیاتی فنڈنگ میکانزم بنانے کی تجویزکی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ اس سے تعطل کا شکار مختلف ترقیاتی اقدامات کو آگے بڑھانے میں مددملے گی ۔

اہم خبریں سے مزید