• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاپ لفٹنگ کی روک تھام کیلئے قائم پولیس اسکواڈ نے 93 افراد کو گرفتار کرلیا

لندن (پی اے ) شاپ لفٹنگ کی روک تھام کیلئے قائم پولیس اسکواڈ نے آپریشن پیگاسس کے تحت گزشتہ 7ماہ میں کارروائی کرتے ہوئے93افراد کو گرفتار کر لیا۔ آپریشن پیگاسس کے تحت 28منظم جرائم کے گروپوں اور بہت زیادہ خطرات والے افراد کو گرفتار کیا ہے جو دکانداروں کے4ملین پونڈ سے زیادہ کے نقصانات کا ذمہ دار ہیں، نیشنل پولیس چیفس کونسل (NPCC) نے کہا۔ اکتوبر میں جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار میں ظاہر کیا گیا کہ دکانوں میں چوری کی وارداتیں 20سال کی نئی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں ۔ رواں سال جون تک 469,788جرائم کی وارداتیں ریکارڈ کی گئیں، جوکہ پچھلے 12مہینوں میں ریکارڈ کی گئی 365,173 وارداتوں سے 29فیصد زیادہ ہیں اور مارچ 2003 کے بعد سے یہ سالانہ سب سے زیادہ ہے۔ نومبر میں ایوان بالا کی انصاف اور داخلہ امور کمیٹی نے پولیسنگ وزیر ڈیم ڈیانا جانسن کو خط لکھا تھاجس میں کہا گیا تھاکہ دکاندانوں میں چوری کی وارداتوں کی بہت ہی کم رپورٹ کی جاتی ہے اور اس کا مناسب طور پر مقابلہ نہیں کیا جا رہا۔ خط میں کہا گیا تھاکہ اس مسئلے کے سبب پولیس اور فوجداری انصاف کے نظام پر اعتماد کو کمزور ہونے کا خطرہ ہے۔ آپریشن پیگاسس، جو ریٹیل جرائم پر انٹیلی جنس اکٹھا کرتا ہے، نے خوردہ فروشوں اور دیگر اداروں سے 92شکایات وصول کیں، جن کی وجہ سے پولیس نے 228ایسے مجرموں کا پتہ چلایا جن کے نام پہلے کسی کو معلوم نہیں تھے۔ اس ٹیم نے 70ایسی گاڑیوں کا بھی پتہ چلایا جو دکانوں میں منظم جرائم میں استعمال ہو رہی تھیں۔ آپریشن کے تحت گرفتار کئے گئے 93گرفتار شدگان میں سے اب تک32کو عدالت میں پیش کیا جاچکاہے ان میں سے 5کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا 93گرفتاریاں کافی ہیں؟ تو چیف کانسٹیبل ایماںڈا بلیک مین نے جو نیشنل پولیس چیفس کونسل (NPCC) کی جانب سے جرم میں اضافے کو کنٹرول کرنے کے ذمہ دار ہیں، نے کہاکہ ہم ان مجرموں کو ہدف بنا رہے ہیں جو ہر روز ملک بھر کی دکانوں میں شناخت کیے جاتے ہیں، جنہیں ملک بھر کی43 پولیس فورسز سخت محنت کر کے گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ گرفتاریاں توقع سے کہیں زیادہ ہیں، مجموعی طور پر، یہ صرف 93 گرفتاریاں ہیں ، ہم نے مجرموں کو گرفتار کرنے کیلئے پیگاسس کے ساتھ کی جانے والی تحقیق میں منظم گروپوں کے بارے میں نقشہ بنایا ہے۔ پولیس نے تسلیم کیا کہ مجرم جان بوجھ کر مختلف جغرافیائی علاقوں اور دکانوں کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ انہیں پکڑا نہ جا سکے۔ مس بلیک مین نے کہا کہ اس جرم میں مختلف طرح کے لوگ ملوث ہیں، جن میں منظم گینگز کے ارکان اور شراب و منشیات کے عادی افراد شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ چوریاں دکانوں سے چوری کےمنظم جرائم کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ جبکہ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس میں سے کچھ چوریاں ایسے مجرم کرتے ہیں جو شاید شراب یا منشیات کے عادی ہیں، اور ہم اس میں کچھ ایسے افراد کو بھی دیکھتے ہیں جو پہلی بار اس میں ملوث ہوئے ہیں۔انھوں نے سال کے اس حصے میں حیران کن طور پر سستاسامان خریدنے والوں کو متنبہ کیا کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ یہ سامان کہاں سے آیا ہے، اگر یہ کسی ریٹیلر سے نہیں ہے تو پھر کس کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کمیونٹی سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ جب کچھ خریدیں، خاص طور پر اگر یہ ریٹیلر سے نہیں ہے اور یہ انتہائی سستا لگ رہا ہے تو شاید اس کا پس منظر مشکوک ہو لہٰذااسے خریدنے سے گریز کریں۔ عوامی امور کے ڈائریکٹر پال گیراڈنے کہا کہ ریٹیلر نے دیکھا ہے کہ اس سخت کارروائی سے کیا فرق پڑ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک کمیونٹی پر مبنی ریٹیلر کے ساتھ کام کرتے ہوئےہم جانتے ہیں کہ پولیس کے ساتھ شراکت داری میں کام کرنا ہی وہ طریقہ ہے جس سے ہم مل کر ریٹیل جرائم کا مقابلہ جاری رکھ سکتے ہیں انھوں نے کہا کہ نہ تو دکاندار اور نہ ہی پولیس تنہا یہ مسئلہ حل کر سکتی ہے۔ انھوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ منظم جرائم کس طرح ریٹیل جرائم میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں اور ہماری کمیونٹیز کو محفوظ بنانے کے لیے مقامی اسٹورز میں سرمایہ کاری ہماری ترجیح ہے تاکہ وہ پھلیں پھولیں اور ترقی کریں۔

یورپ سے سے مزید