• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسانی اسمگلنگ، تحقیقات جلد مکمل کرکے ٹھوس سفارشات پیش کی جائیں، وزیر اعظم

اسلام آباد(نمائندہ جنگ )وزیراعظم شہباز شریف نے انسانی اسمگلنگ کے متعلق جاری تحقیقات جلد از جلد مکمل کر کے ٹھوس سفارشات پیش کرنے‘ سہولت کاری میں ملوث ایف آئی اے اہلکاروں کی نشاندہی اور ان خلاف کے سخت کارروائی اورا سمگلنگ کی روک تھام کے لئے متعلقہ اداروں کو آپس کے رابطے مزید بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ سرمایہ کاری کے لئے ایسے ہداف مقرر کئے جائیں جن کا حصول جلد از جلد ممکن ہو‘ مؤثر مارکیٹنگ بیرونی سرمایہ کاروں کو مائل کرنے کے لئے ناگزیر ہے‘ملک میں کاروباری سہولت مراکز کی جلد از جلد تعمیر مکمل کرنے اور کاروبار کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لئے ریگولیٹری اصلاحات پر کام تیز کیا جائے۔جمعہ کو وزیر اعظم کی زیر صدارت انسانی سمگلنگ کی روک تھام سے متعلق اہم اجلاس ہوا۔وزیراعظم نے پرائم منسٹر نیشنل یوتھ کونسل کی تشکیل کی منظوری دے دی ۔ کابینہ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا جو فوری طور پر نافذ العمل ہو گا، نیشنل یوتھ کونسل کی میعاد نوٹیفکیشن کی تاریخ سے دو سال کی مدت کیلئے ہو گی، کابینہ ڈویژن سے جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم کونسل کے سرپرست اعلیٰ اور چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام اس کے چیئرپرسن ہوں گے جبکہ 9 حکومتی اراکین پر مشتمل اس کونسل کے دیگر ممبران میں وزیر امور نوجوانان پنجاب، وزیر امور نوجوانان سندھ، وزیر امور نوجوانان خیبرپختونخوا، وزیر امور نوجوانان بلوچستان، وزیر امور نوجوانان آزاد جموں و کشمیر اور وزیر امور نوجوانان گلگت بلتستان بلحاظ عہدہ شامل ہیں جبکہ ڈپٹی سیکرٹری وزیراعظم یوتھ پروگرام اس کے سیکرٹری ہوں گے۔ وزیراعظم نیشنل یوتھ کونسل کے دیگر یوتھ اراکین میں آزاد جموں و کشمیر سے چار، بلوچستان سے 11، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 8، گلگت بلتستان سے 4، خیبرپختونخوا سے 15، پنجاب سے 33 اور سندھ سے 20 اور 13 اوورسیز پاکستانیز اراکین شامل ہیں۔ نوٹیفکیشن میں نیشنل یوتھ کونسل کے بنیادی مقاصد اور موضوعاتی شعبوں کا بھی احاطہ کیا گیا ہے ۔نیشنل یوتھ کونسل کے بنیادی مقاصد میں10 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں کیلئے کام کرنا اور ان کی نمائندگی کرنا شامل ہے ۔دریں اثناء انسانی اسمگلنگ سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعظم نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ پاکستان کے لئے دنیا بھر میں بدنامی کا باعث بنتی ہے‘ 2023ءکے کشتی الٹنے کے حادثے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی میں انتہائی سست روی سے کام لیا گیا ، ذمہ دار افسروں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔

اہم خبریں سے مزید