اسلام آباد(نمائندہ جنگ )وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر سبز معیشت پر منتقلی مشترکہ ذمہ داری ہے‘پاکستان کو گرین انرجی پر منتقلی کیلئے 100ارب ڈالر درکار ہیں‘پاکستان 2030ء تک 60 فیصد کلین انرجی مکس کے حصول کیلئے پرعزم ہے‘30فیصدگاڑیاں الیکٹرک پر منتقل کی جائیں گی‘ پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کے لئے ایک پرکشش مقام بن گیا ہے‘اماراتی کاروباری ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپوراستفادہ کریں‘ فلسطینیوں کی نسل کشی سے پائیدار امن کو دھچکا پہنچا تاہم پائید اور منصفانہ امن صرف دو ریاستی حل کے ذریعے ممکن ہے‘ 1967ءسے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے‘القدس الشریف جس کا دارالحکومت ہو۔تفصیلات کے مطابق شہبازشریف نے منگل کو یواے ای میں ورلڈ گورنمنٹس سمٹ 2025ء کے موقع پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان‘ دبئی کے فرمانروا شیخ محمد بن راشد المکتوم‘کویت کے وزیر اعظم شیخ احمد عبداللہ‘ سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے‘بوسنیاہرزیگووینا کی چیئرپرسن برائے صدارت زلجکاسیویجانووچ‘ممتاز امریکی کاروباری شخصیت و سرمایہ کار جینٹری بیچ‘ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین اور سی ای او سلطان احمد بن سلیم ودیگر سے ملاقاتیں کیں ۔شہبازشریف اور اماراتی صدرکی ملاقات میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر بھی شریک تھےجبکہ شہباز شریف نے ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کے موقع پر "ایج آف گورنمنٹ" نمائش کا دورہ بھی کیا۔دبئی میں ورلڈ گورنمنٹس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہناتھاکہ عالمی سطح پر سبز معیشت پر منتقلی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دریں اثناءوزیراعظم نے ابوظہبی میں یو اے ای کے صدر محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی ہے ، ملاقات کے لئے قصر الشاطی پہنچنے پر ان کا استقبال صدر شیخ محمد بن زید النہیان نے کیا، ملاقات میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔ ملاقات کے دوران شہباز شریف اوراماراتی صدر نےباہمی تعاون کے مزید فروغ کے عزم کا اظہار کیا اور باہمی مفادات کی تکمیل کے لائحہ عمل و تعلقات کی مضبوطی اور اقتصادی، تجارتی اور ترقی و دیگر شعبوں میں دونوں ممالک کے مابین موجود اشتراک و تعاون پر گفتگو کی۔ علاوہ ازیں شہباز شریف اور امارات کے نائب صدر و وزیر اعظم اور دبئی کے فرمانروا شیخ محمد بن راشد المکتوم کی دبئی میں ملاقات ہوئی۔ متحدہ عرب امارات کو پاکستان کا قابل اعتماد اتحادی قرار دیتے ہوئے شہباز شریف نے پاکستان کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر روشنی ڈالی جس کا مقصد توانائی، انفراسٹرکچر، کان کنی اور آئی ٹی جیسے اہم شعبوں میں متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اماراتی کاروباری اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے استفادہ کرنے کی دعوت دی۔دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے اور اقتصادی اور سٹریٹجک تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لئے اعلیٰ سطحی سرگرمیاں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔