• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قائمہ کمیٹی اجلاس: ناز بلوچ نے کےالیکٹرک کے کنسلٹنٹس کے ذریعے رابطوں کا معاملہ اٹھادیا

کولاج فوٹو: فائل
کولاج فوٹو: فائل

رکن پارلیمنٹ حفیظ الدین کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس ہوا۔ جس کے دوران رکن کمیٹی ناز بلوچ نے کےالیکٹرک کے کنسلٹنٹس کے ذریعے رابطوں کا معاملہ اٹھادیا۔

انکا کہنا تھا کہ کےالیکٹرک کی جانب سے کنسلٹنٹس کے ذریعے رابطہ کیا گیا، کنسلٹنٹس کمیٹی اجلاس کے بعد کےالیکٹرک کی وکالت کرتے ہیں۔

ناز بلوچ نے کہا کہ قائمہ کمیٹی پروسیڈنگ میں کنسلٹنٹس کے ذریعے مداخلت کی کوشش کی گئی، ایسا نہیں ہونا چاہیے، کےالیکٹرک کیلئے قائمہ کمیٹی کا فورم موجود ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کےالیکٹرک کیسے براہ راست کسی بھی معاملہ پر ارکان کمیٹی کو اپروچ کرسکتی ہے؟ 

رکن کمیٹی مہرین رزاق کا کہنا تھا کہ کےالیکٹرک کی نجکاری کراچی کے عوام کو سستی اور بلاتعطل بجلی فراہم کرنے کیلئے کی گئی، کراچی کے عوام کو مہنگی بجلی مل رہی ہے اور ترسیلی نظام بھی درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران 40 ارب کی سبسڈی صنعتوں کو تاحال فراہم نہیں کی گئی۔

اجلاس کے دوران سی ای او کےالیکٹرک مونس علوی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اکتوبر 2021 سے جون 2022 تک ہم نے سبسڈی دی، اضافی گروتھ پر باقی سبسڈی صنعتوں کو دینا تھی۔

انکا کہنا تھا کہ کورونا کے دوران ہماری گروتھ گر گئی، سبسڈی کی پوزیشن میں نہیں رہے، کراچی کی انڈسٹری کو سبسڈی نہیں ملی، یہ ان کا حق ہے۔

سی ای او کےالیکٹرک نے کہا کہ 7 ارب کی سبسڈی جو حکومت نے دی تھی وہ ہم آگے دے چکے ہیں، باقی ہم سے وہ سبسڈی مانگی گئی جو حکومت نے دی ہی نہیں۔

اجلاس کے دوران صدر کراچی چیمبر جاوید بلوانی کا کہنا تھا کہ کےالیکٹرک سبسڈی صارفین کو منتقل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

کمیٹی رکن ناز بلوچ نے سی ای او کےالیکٹرک کے کمیٹی اجلاس میں رویے پر اظہار برہمی کیا اور کہا کہ پہلے تو کےالیکٹرک کے سی ای او آتے نہیں تھے، اب آکر اس طرح بات نہ کی جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم یہاں اپنی ذات کی بات نہیں کر رہے، کےالیکٹرک کے سی ای او اپنی کمپنی کا دفاع کریں مگر کمیٹی میں اس طرح بات نہ کریں۔

اجلاس کے دوران نیپرا حکام کا کہنا تھا کہ کےالیکٹرک نے کورونا کے دوران صنعتی صارفین سے اپنا ٹیرف چارج کیا۔

قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں معاملے پر چیئرمین نیپرا کو طلب کرلیا۔

کےالیکٹرک کو آؤٹ آف کورٹ معاملہ ختم کرنے کی آفر کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ نیپرا چیئرمین اور کےالیکٹرک کو بٹھا کر معاملے کا حل نکالتے ہیں، اس پر سی ای او کےالیکٹر کا کہنا تھا کہ اگر فیصلہ موزوں ہوا تو مانیں گے اور اگر خلاف ہوا تو قانونی فورمز کا حق ہے۔

قومی خبریں سے مزید