• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حسن نواز برطانیہ میں دانستہ ٹیکس نادہندہ قرار، سرکاری ویب پر نام شائع

لندن(مرتضیٰ علی شاہ) برطانیہ کی حکومت کے ریونیو اور کسٹمز محکمے نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کو "دانستہ ٹیکس نادہندہ" قرار دے دیا ہے۔برطانوی حکومت نے اپنے سرکاری ویب سائٹ پر نادہندگان کی تازہ فہرست جاری کی ہے، جس میں حسن نواز شریف کا نام شامل کیا گیا ہے۔ حسن نواز کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی قانونی ٹیم معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور جلد جواب دے گی۔ سرکاری ویب سائٹ پر انہیں دانستہ ٹیکس نادہندہ قرار دیا گیا کیونکہ انہوں نے 5 اپریل 2015 سے 6 اپریل 2016 کے درمیان £9.4 ملین ٹیکس ادا نہیں کیا۔ برطانوی ٹیکس اتھارٹی نے اسی مدت کے لیے حسن نواز پر £5.2 ملین جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔حسن نواز سے رابطہ نہ ہو سکا، تاہم ان کے قریبی قانونی ذرائع نے بتایا کہ حسن نواز نے مذکورہ مدت کے تمام "واجب الادا ٹیکس" ادا کر دیے تھے، لیکن HMRC نے کئی سال بعد، مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد، مزید ٹیکسز طلب کیے جنہیں حسن نواز نے متنازع قرار دے کر ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق، "حسن نواز شریف کی دیوالیہ پن کی مدت اگلے ماہ اپریل 2025 میں ختم ہو جائے گی۔"یہ انکشاف گزشتہ سال کے اواخر میں سامنے آیا تھا کہ لندن ہائی کورٹ نے حسن نواز شریف کو برطانوی حکومت کے ٹیکس اور واجبات کے کیس میں دیوالیہ قرار دیا ہے۔برطانوی سرکاری گزٹ، جو عوامی ریکارڈ رکھتا ہے، نے دیوالیہ پن کی تفصیلات شائع کی تھیں۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ حسن نواز، جو فلیٹ 17 ایون فیلڈ ہاؤس، 118 پارک لین کے رہائشی اور ایک کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں، کو ہائی کورٹ آف جسٹس کے مقدمہ نمبر 694 آف 2023 میں دیوالیہ قرار دیا گیا۔ یہ مقدمہ 25 اگست 2023 کو دائر کیا گیا تھا اور عدالت نے 29 اپریل 2024 کو دیوالیہ پن کا حکم جاری کیا تھا، جو قرض خواہوں کی جانب سے عدم ادائیگی کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔یہ سول مقدمہ برطانیہ کے ریونیو اور کسٹمز محکمے (HMRC) کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں حسن نواز کی نمائندگی قانونی فرم کور میکس ویل (Kaur Maxwell) کر رہی تھی۔برطانوی قوانین کے مطابق، دیوالیہ پن کا حکم ذاتی مالی دیوالیہ پن کے عمل کا حصہ ہوتا ہے، جو عدالت کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے اور اس شخص کو دیوالیہ قرار دیتا ہے۔ یہ حکم لندن گزٹ میں اس وقت شائع ہوتا ہے جب یہ انسالوینسی سروس سے موصول ہوتا ہے۔دیوالیہ قرار دیے گئے فرد کو کسی کمپنی کا ڈائریکٹر بننے یا اس کے انتظامی امور میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی، جب تک کہ عدالت سے خصوصی اجازت نہ لے۔ حسن نواز تاحال برطانیہ میں کئی کمپنیوں کے ڈائریکٹر ہیں۔حسن نواز کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی قانونی ٹیم معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور جلد جواب دے گی۔

اہم خبریں سے مزید