اسلام آباد(نمائندہ جنگ)عدالت عظمیٰ میں اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے ہیں کہ ایک وقت تھا جب عدالتیں حکومتیں چلاتی تھیں، اب وہ وقت گزر چکا،ہم یہاں حکومتیں چلانے کیلئے نہیں بیٹھے ہیں ،، ایک شخص غفلت برتے تو یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا ہے پوری ریاست ہی ملوث ہے، جسٹس امین الدین کی سربراہی میںجسٹس جمال خان مندوخیل،جسٹس نعیم اختر افغان،جسٹس شکیل احمد اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل پانچ رکنی آئینی بنچ نے کیس کی سماعت کی تو درخواست گزار کے وکیل فیصل صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ مندر پر حملہ کے نامزد ملزمان کو ضمانتیں مل چکی ہیں، واقعہ کی تفتیش درست طور پر نہیں ہوئی ہے، ہماری سپریم کورٹ اور بھارتی سپریم کورٹ میں بہت بڑا فرق ہے۔