کراچی(اسٹاف رپورٹر)بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ اور کامریڈ بیبرگ بلوچ سمیت سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے لاٹھی چارج کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سمی دین بلوچ سمیت مظاہرے میں شریک خواتین ومردوں سمیت متعددافرادکو حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا جبکہ احتجاج کے پیش نظر پولیس نے سڑک کو کنٹینرز لگا کر بند کررکھا تھا جس کے باعث آئی آئی چند ریگر روڈ اور اطراف کی سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا‘ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے ہزاروں روزے داروں نے سڑک پر افطار کیا۔تفصیلات کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی ،سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پیر کو کراچی پریس کلب پر احتجاج کی کال کے باعث پولیس نے دین محمد وفائی روڈ اور اطراف کی سڑکو ں پر کنٹینر لگاکر کراچی پریس کلب کی طرف آنے اور جانے والے راستوں کو بند کررکھا تھا ، سڑکوں کی بندش کے باعث آئی آئی چند ریگر روڈ ، عبداللہ ہارون روڈ،ایم آر کیانی روڈ،ایم اے جناح روڈ ،صدر ،نیو پریڈی اسٹریٹ سمیت اطراف کی سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا‘مظاہرے کے شرکاء فوارہ چوک پہنچے تو پولیس نے مظاہرین کو کراچی پریس کلب کی جانب بڑھنے سے روک دیا‘ پولیس نے مظاہرین کومنتشر کرنے کے لئے ان پر لاٹھی چارج بھی کیا جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما سمی دین بلوچ سمیت مظاہرے میں شریک متعدد مردوخواتین کو گرفتارکرلیا۔