اسرائیلی افواج کو سوشل میڈیا پر جاری جیبلی ٹرینڈ فالو کرنا مہنگا پڑ گیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اسرائیلی فوج کو آئینہ دکھا دیا۔
اوپن اے آئی پلیٹ فارم چیٹ جی پیٹی کا مصنوعی ذہانت پر مبنی فیچر ’جیبلی آرٹ‘ ان دنوں سوشل میڈیا پر دھوم مچا رہا ہے۔
ہر جانب ہر ایک کی نیوز فیڈ میں حقیقی تصاویر کے بجائے آج کل صرف جیبلی آرٹ سے تیار کردہ تصاویر ہی دکھائی دے رہی ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اسرائیلی فوج کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے بھی اسی رجحان کی پیروی کرتے ہوئے چند تصاویر شیئر کیں، جو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں آگئیں۔
ان تصاویر میں اسرائیلی بحری، بری اور فضائی افواج کے اہلکاروں کو اسرائیل کی حفاظت پر مامور دکھایا گیا ہے۔
مذکورہ سوشل میڈیا پوسٹ کے کمنٹس میں تبصرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین نے بھی چند جیبلی آرٹ سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی ہیں جس میں اسرائیلی فوج کو آئینہ دکھایا گیا ہے۔
ایک صارف کی جانب سے جیبلی آرٹ سے تیار کردہ تصویر شیئر کی گئی جس کے پس منظر میں غزہ کی تباہی کے مناظر ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کو مظلوم، بے سروساماں خواتین اور بچوں پر بندوق تانے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ایک اور صارف کی جانب سے جیبلی آرٹ سے تیار کردہ تصویر میں اسرائیلی افواج کو خاتون کا سرخ لباس تھامے تبصرہ کرتے دکھایا گیا ہے۔
مذکورہ پوسٹ کے جواب میں شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں ہٹلر کی شخصیت کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے جس میں انہیں عالمی رہنماؤں اور جانوروں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے دکھایا گیا ہے اور کیپشن میں لکھا ہے کہ یہ ایک بہترین مواد ہے، ہم بھی جیبلی آرٹ تیار کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ایک اور صارف کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر میں فلسطینی مجاہد کو پریس کانفرنس کرتے دکھایا گیا ہے۔
جیبلی (Ghibli) درحقیقت مشہور جاپانی اینیمیشن اسٹوڈیو ہے۔ یہ اسٹوڈیو 1985 میں جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں قائم کیا گیا تھا۔
اس اینیمیشن اسٹوڈیو کی بنیاد اینیمیٹر و فلم ساز ہیاؤ میازاکی، ہدایت کار اور اسکرین رائٹر ایساؤ تاکاہاٹا، پروڈیوسر توشیو سوزوکی اور ایگزکیٹو پروڈیوسر یاسویوشی توکیما نے مشترکہ طور پر رکھی تھی۔
ہاتھوں سے تیار کردہ اینیمیٹڈ کرداروں اور اینیمیشن کو ایک خاص طرز اور انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جسے جیبلی آرٹ کہتے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین اس وقت دنگ رہ گئے جب اس آئیکونک اینیمیشن اسٹائل کو اوپن اے آئی کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی کے نئے فیچر کے طور پر متعارف کروایا گیا۔
اس امیج جنریٹر کی مدد سے ہاتھوں سے تیار ہونے والی اینیمیٹڈ تصاویر چند لمحوں میں آٹومیٹک تیار ہوجاتی ہیں۔ یہ چیٹ بوٹ آزادانہ طور پر تصاویر بنانے کے قابل ہے، جس کی وجہ سے یہ عوام میں خاصہ مقبول ہورہا ہے۔
کچھ دن تک یہ فیچر چیٹ جی پی ٹی کے ماہانہ فیس ادا کرنے والے صارفین کو دستیاب تھا مگر اب اس اے آئی سروس کو مفت بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، مگر چیٹ جی پی ٹی کو مفت استعمال کرنے والوں کو محدود تصاویر تیار کرانے کی اجازت ہوگی۔