لاہور، اسلام آباد (نمائندہ جنگ، رانا غلام قادر) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ہر صورت امن بحال کرینگے، بلوچستان کی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کیلئے تمام ضروری اقدامات کیے جائینگے، یہ بات انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے ملاقات کے موقع پر کی، وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق ، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان،گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن، مولانا فضل الرحمٰن، چوہدری شجاعت، ڈاکٹر خالد مقبول اور اے این پی کے سربراہ ایمل ولی دیگر سیاسی کو فون کر کے عیدالفطر کی مبارکباد دی، سیاسی رہنمائوں نے بھی وزیراعظم کو عیدالفطر کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا، وزیراعظم نے بلاول بھٹو فون کرکے صدرمملکت آصف علی زرداری کی بیمار پرسی کی، وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملاقات کی اس موقع پر سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے عید پر متحدہ عرب امارات، ایران، قازقستان، ترکمانستان، بحرین، بنگلہ دیش، ملائشیا اور بوسنیا کے سربراہان سے فون پر رابطہ کرکے انہیں عید کی مبارکباد دی، جبکہ میانمار کے وزیر اعظم سے زلزلے سے نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا، دریں اثناء معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف سے آج 336 بڑے تاجروں کے وفد سے ملاقات طے ہے، وزیراعظم آج قوم سے خطاب میں خوشخبری دینگے، بجلی کی قیمتوں میں 7روپے کمی کا اعلان متوقع ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف آج بجلی کے ریلیف پیکج کے حوالے سے اہم اعلان کرینگے۔ پاور ریفارمز اور پیکج کے اعلان کیلئےوزیراعظم آفس میں آج دوپہر دو بجےباضابطہ تقریب کا اہتمام ہو گا۔ذرائع کے مطابق بجلی کی فی یونٹ قیمت میں بڑی کمی کا امکان ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں 6 سے 7 روپے فی یونٹ کمی کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق بجلی کی کمی کا فائدہ اپریل کے بلوں میں آنا شروع ہوگا۔ آئی پی پیز کے ساتھ نظر ثانی شدہ معاہدوں اور کیپٹیو پاوور لیوی کا فائدہ صارفین کو دیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سہ ماہی ٹیرف پٹیشن کا بھی فائدہ صارفین کو دیا جائیگا۔ وزیراعظم نے بجلی پیکج پر وزیر خزانہ سے اہم ملاقات بھی کی ہے۔ آئی ایم ایف سے بجلی پیکج پر مشاورت اور آئی پی پیز سے کامیاب مذاکرات کے بعد پیکج تیار کیا گیا۔ بجلی پیکج میں گھریلو صارفین سمیت انڈسٹری کیلیے بھی ریلیف رکھا گیا ہے۔ وزیراعظم آج کاروباری شخصیات سے بھی ملاقات کرینگے۔ وزیراعظم پاور سیکٹر میں اصلاحات کے حوالے سے جامع پلان کی منظوری دینگے۔ پاور سیکٹر ریفارمز سے متعلق سفارشات پر عملدرآمد کیلئے حکمت عملی بنا لی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی کیلئے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے یہ یقین د ہانی گزشتہ روز وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے ملاقات کے دوران کرائی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے بلوچستان کی موجودہ اقتصادی، سماجی اور امن وامان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ملاقات میںوفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے لیے جاری ترقیاتی منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔علاوہ ازیں وزیراعظم سے گزشتہ روز وزیر داخلہ محسن رضا نقوی نے ملاقات کی۔ وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ملک میں سیکورٹی کیلئے اقدامات کی پیشرفت اور افغان باشندوں کی وطن واپسی کے عمل کی پیشرفت کے حوالے سے آگاہ کیا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کا بالخصوص عید الفطر کے موقع پر ملک میں امن و امان کی صورتحال پر اظہار اطمینان کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے انہیں عیدالفطر کی مبارکباد دی ہے۔وزیرِ اعظم نے چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھی وزیرِ اعظم کو عید الفطر کی مبارکباد دی۔ وزیرِ اعظم نے صدر مملکت آصف علی زرداری کی بیمار پرسی، ان کے لئے نیک خواہشات کا پیغام اور انکی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن اور عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان سے ٹیلی فونک رابطہ کیااور عیدالفطر کی مبارکباد دی ۔ وزیراعظم نے ان سیاسی رہنماؤں کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ سیاسی رہنماؤں نے بھی وزیراعظم کو عیدالفطر کی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے دعاء کی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔مزید برآں وزیراعظم شہباز شریف نے یئرمین سینٹ یوسف گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، وفاقی وزرا خالد مگسی، اور چوہدری سالک سمیت مختلف شخصیات کو بھی ٹیلی فون پر عید کی مبارک باد دی۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔