• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہود مخالف پالیسیاں، ٹرمپ انتظامیہ کی ہارورڈ، کولمبیا اور پنسلوانیا یونیورسٹی کیخلاف کارروائی

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی انتخابی مہم کے وعدوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے امریکی جامعات کیخلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ حکومت نے کولمبیا یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف پینسلوانیا کی کروڑوں ڈالرز کی فیڈرل فنڈنگ روک دی ہے۔ پیر کو ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا کی امیر ترین یونیورسٹی ہارورڈ کو نشانہ بناتے ہوئے تقریباً 9؍ ارب ڈالر کے معاہدوں اور کثیر المدتی گرانٹس کا جائزہ لینے کا اعلان کیا۔ حکومت کا الزام ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی یہودی طلبہ کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی اور انتہا پسند نظریات کو آزادانہ تحقیق پر فوقیت دی جا رہی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں کے دوران ہارورڈ نے ممکنہ حکومتی کارروائی کے پیش نظر محتاط حکمت عملی اپنائی، جس میں کچھ حلقوں کے مطابق آزادیِ اظہار پر قدغن لگانے کے اقدامات بھی شامل تھے۔ تاہم، حکومت کی جانب سے کی گئی کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حکمت عملی ناقدین کو روکنے میں ناکام رہی۔ یونیورسٹی کے 700؍ سے زائد اساتذہ نے ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ ہارورڈ نہ صرف اپنے دفاع میں کھڑا ہو بلکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کیخلاف ان اقدامات کی مزاحمت بھی کرے۔ شعبہ سیاسیات کے پروفیسر اسٹیون لیوٹسکی کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت کا مالی دھچکہ ہمیں متاثر کرے گا، لیکن ہارورڈ کے پاس مقابلے کی صلاحیت ہے۔ ہارورڈ پر جاری دبائو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جامعات اور دیگر شہری ادارے مثلاً لیگل فرمز اور غیر منافع بخش تنظیمیں، اصولوں پر کھڑے ہونے اور اپنے تحفظ کے درمیان انتخاب کرنے کے دوراہے پر کھڑی ہیں۔ ڈاکٹر لیوٹسکی کا کہنا ہے کہ اگر ہر ادارہ صرف اپنی بقا کی فکر کرے گا تو ہم جمہوریت کھو دیں گے۔ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے قبل ہی ہارورڈ نے بالارڈ پارٹنرز نامی ایک لابنگ فرم کی خدمات حاصل کر لی تھیں جس کے ٹرمپ انتظامیہ سے گہرے تعلقات ہیں۔ ٹرمپ کے صدر بننے کے پہلے ہی دن ہارورڈ نے یہود دشمنی کی ایک متنازع تعریف کو اپنایا، جس میں اسرائیل کے وجود پر تنقید کو بھی یہود دشمنی قرار دیا گیا۔ اس اقدام کو آزادیِ اظہار کے حامیوں نے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ فیصلے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امریکا میں اعلیٰ تعلیمی ادارے مزید دبائو کا سامنا کر سکتے ہیں۔ اگر یہ پالیسی برقرار رہی تو دیگر جامعات بھی وفاقی فنڈز سے محروم ہو سکتی ہیں، جس سے امریکی تعلیمی نظام پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
اہم خبریں سے مزید