اسلام آ باد ( رانا غلام قادر )تامل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے خط میں مطا لبہ کیاہے کہ وقف (ترمیمی) بل 2024کو "مکمل طور پر واپس لیا جا ئے ترامیم سے مسلم کمیونٹی کے مفادات کو نقصان پہنچے گا، ایکٹ میں بڑی پیمانے پر تبدیلیاں، اسکی روح کو تحلیل کردینگی۔ وزیر اعلیٰ ایم کےاسٹالن نے وزیر اعظم مودی کو لکھاگیا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس X پر شیئر کیا ہے۔یہ خط بدھ کے روز ایک ایسے دن سامنے آیا جب لوک سبھا وقف بل پر آٹھ گھنٹے کی بحث کر رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت حکمراں قومی جمہوری اتحاد کے پاس بل کی منظوری کو یقینی بنانے کے لیے مطلو بہ تعداد موجود ہے۔ جب کہ اسٹالن کی پارٹی دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) حزب اختلاف کے انڈیا بلاک کی رکن ہے جو بل کی مخالفت کر رہا ہے۔وزیر اعلیٰ ایم کے سٹالن نے خط میں موقف اختیار کیا ہے کہ انڈیا کا آئین ہر شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی کرے۔ یہ منتخب حکومت کا فرض ہےکہ اس حق کا تحفظ کرے اور اسے مقدم رکھے۔تاہم وقف ایکٹ 1995کی مجوزہ ترامیم میں آئین کی جانب سے اقلیتوں کو دیے گئے تحفظ کو پیش نظر نہیں ر کھا گیابلکہ ان ترامیم سے مسلم کمیونٹی کے مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا۔ڈی ایم کے پارٹی کے سر براہ نے کہا کہ موجودہ وقف ایکٹ آ زمودہ اور وقف بورڈ پراپرٹیز کا محافظ ہے۔دوسری جانب وقف ایکٹ میں تجویز کی گئی تر امیم وقف بورڈ کی اپنی پراپرٹیز کی مینجمنٹ اور تحفظ کی ذمہ داریوں کو نبھانے کے اختیارات کو کمزور کردیں گی ۔ایم کے اسٹالن نے وزیر اعظم مودوی کو خط میں تجویز دی ہے کہ مجوزہ تین ترا میم کو واپس لیا جا ئے ۔انہوں نے کہا ہے کہ ایکٹ میں بڑی پیمانے پر تبدیلیاں وقف ایکٹ کی روح کو تحلیل کردیں گی۔