• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاک افغان سرحدی علاقوں میں نیٹو اور سوویت ہتھیاروں کی فروخت جاری

کراچی(نیوزڈیسک)جنیوا میں قائم ادارے اسمال آرمز سروے نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان کے کابل پر قبضے کے تین برس سے زائد عرصے کے بعد بھی افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں نیٹو اور سوویت ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور غیر قانونی فروخت جاری ہے۔افغانستان میں اسلحے کی دستیابی کی دستاویزکے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2021تک افغانستان کے پاس دو لاکھ 58 ہزار 300 رائفلیں تھیں، جن میں ایم4، ایم16 اور اے کے کی مختلف قسمیں 64ہزار، 300پستول، 63ہزارا سنائپر رائفلیں، 56ہزار 155ہلکی، درمیانی اور بھاری مشین گنیں، 31ہزار گرینیڈ لانچرز، نو ہزار 115شاٹ گنز، 60-82 ملی میٹر کے 1845راؤنڈز، نیز سیکڑوں ہزاروں اسلحے سے جڑا سامان اور گولہ بارود شامل تھے۔

دنیا بھر سے سے مزید