اسلام آباد (مہتاب حیدر) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوابی محصولات عائد کرنے کے بعد ایک ایس او ایس (سیو آر سول) کال میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی انتظامیہ سے بات چیت کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد واشنگٹن روانہ کرنے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مصروفیت حکمت عملی وضع کرنے اور وزیر اعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہاکہ24ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جائیں گے، قیمتوں کی نگرانی کا ادارہ جاتی نظام بنے گا، مہنگائی میں کمی کے ثمرات سے نمٹنے کےلیے کسی سیکٹر کوسبسڈی نہیں دینگے، وزیر نے انکشاف کیا کہ چین سے رول اوور کی درخواست، ایگزم بینک سے ری فنانسنگ اور تجارتی سہولت میں اضافے کے معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ بعد ازاں، جب پریس کانفرنس کے اختتام کے بعد ان سے مزید سوالات کیے گئے، تو انہوں نے صرف اتنا کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بیرونی مالیاتی ضروریات پوری ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا، لہٰذا چین کے ساتھ معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں۔ وزیر خزانہ اور محصولات محمد اورنگزیب نے پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت امریکہ کی جانب سے عائد کردہ جوابی ٹیرف کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی بھی شعبے کو سبسڈی فراہم نہیں کرے گی۔ ہم اپنے وفود وزیرِ اعظم شہباز شریف کی منظوری حاصل کرنے کے بعد بھیجیں گے، کیونکہ ایک اسٹیئرنگ کمیٹی اور مشترکہ ورکنگ گروپ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سفارشات کو حتمی شکل دیں گے۔ وزیر نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور اسلام آباد دونوں کے لیے جیت کی صورتحال پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اب تک امریکہ نے تمام ممالک کے لیے 10 فیصد یونیورسل ٹیرف نافذ کیا ہے اور 29 فیصد باہمی ٹیرف 9 اپریل 2025 سے لاگو ہو جائے گا۔ بوم اور بسٹ سائیکلز کے فقرے استعمال کیے بغیر وزیر کی رائے تھی کہ پاکستان نے ایسی میکرو اکنامک استحکام حاصل کیا لیکن پھر ایک ناقابل برداشت راستے پر گامزن ہو گیا جس کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہو گئے اور ملک دوبارہ ادائیگیوں کے توازن کے بحران کے چنگل میں پھنس گیا۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے ذریعے میکرو اکنامک استحکام کا تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معیشت کے ڈی این اے کو تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ وزیر نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ تمام مقداری اور ساختی بینچ مارکس حاصل کر لیے گئے ہیں جس سے اسٹاف لیول معاہدہ طے کرنے اور توسیعی فنڈ سہولت کے تحت 1 بلین ڈالر کی قسط جاری کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ ریزیلینس سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تحت ایک نیا معاہدہ طے پا رہا ہے جو فوری طور پر نہیں ہوگا اور 28 ماہ کی مدت میں مختلف اقساط میں جاری کیا جائے گا۔ ہم نے آرایس ایف کے تحت 13 اصلاحات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر نے کہا کہ یہ ایک تاریخی امر ہے کہ تمام صوبوں نے زرعی انکم ٹیکس کی منظوری دے دی ہے اور اب اس کے نفاذ کے مرحلے پر آسانی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا گورننس اینڈ اینٹی کرپشن ڈائیگناسٹکس اسسمنٹ مشن اس وقت پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلا بجٹ زیر بحث لانے کے لیے کوئی مشن نہیں آ رہا اور ان کے بار بار کے دورے جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا مشن اگلے ماہ 2025-26 کے اگلے بجٹ پر غور کرنے کے لیے پاکستان کا دورہ کر سکتا ہے اور اسے فنڈ کے ساتھ معمول کی بات چیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے مختلف شعبوں میں تکنیکی معاونت کی درخواست کی ہے۔ وزیر نے کہا کہ حکومت ترجیحی شعبوں پر عمل درآمد کرے گی جن میں ٹیکسیشن میں اضافہ، توانائی اور سرکاری ملکیتی اداروں کی اصلاح، اور پہلے مرحلے میں پی آئی اے، مالیاتی اداروں اور تین ڈسکو (ڈسٹری بیوشن کمپنیاں) کی نجکاری شامل ہے۔ وزیر نے تسلیم کیا کہ اگلے بجٹ میں حکومت کی مناسب سائزنگ کے ذریعے اخراجات کو کم کرنا حکومت کے لیے ایک امتحان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس صرف رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹرز سے وصولی بڑھا کر ہی کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ان تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن کو آسان بنانے کا وعدہ کیا جن کی واحد آمدنی تنخواہوں سے حاصل ہوتی ہے۔ کرپٹو کرنسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں احتیاط کے ساتھ آگے بڑھے گی، خاص طور پر جب ملک ایف اے ٹی ایف کی نگرانی سے باہر آ چکا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی استعمال کرنے والے صارفین اور لین دین کا حجم کئی گنا بڑھ چکا ہے، اور اس وقت پاکستانی دنیا بھر میں اس کے استعمال کے لحاظ سے ساتویں نمبر پر ہیں۔