• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبر پختونخوا میں دل کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ

پشاور(ارشد عزیز ملک) خیبر پختونخوا میں دل کی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کا واضح ثبوت پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (PIC) میں مریضوں اور سرجریوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔ صرف ایک سال میں ادارے میں دل کے مریضوں کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے،1 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج ہوا،2023 میں1326 سرجریاں ، 2024 میں بڑھ کر1900 ہوگئیں،ڈاکٹر شاہکار احمد شاہ نے کہا کہ ، پی آئی سی نے تکنیکی طور پر بھی ترقی کی،۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں پی آئی سی میں ایک لاکھ سے زائد دل کے مریضوں کا علاج کیا گیا، جب کہ 2023 میں یہ تعداد 61 ہزار تھی۔ان میں بچوں کی تعداد میں بھی خاصا اضافہ دیکھا گیا، جو 2023 میں 9ہزار تھی، جبکہ 2024 میں یہ بڑھ کر 14ہزار سے تجاوز کرگئی ۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق دل کی سرجریوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 2023 میں1326 سرجریاں کی گئیں، جبکہ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر1900ہو گئی۔ ان میں 236 بچوں کے دل کی سرجریاں بھی شامل ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اسپتال اب پیچیدہ اور خطرناک نوعیت کے آپریشنز انجام دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔انٹروینشنل کارڈیالوجی (Interventional Cardiology) میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا۔ اینجیوگرافی اور اینجیو پلاسٹی کے کیسز 2023 میں 11ہزارسے بڑھ کر 2024 میں15ہزار143 ہو گئے۔ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں آنے والے مریضوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھی۔ 2023 میں 13ہزارمریض آئے تھے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 18ہزارسے تجاوز کر گئی، جو دل کے شدید امراض کے کیسز میں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔پی آئی سی نے بچوں کے انٹروینشنل پروسیجرز کی تعداد بھی دوگنی کر دی، جو 2023 میں 450 تھی اور 2024 میں بڑھ کر 811 ہو گئی۔دوسری جانب ہسپتال، صحت کارڈ پلس پروگرام بھی علاج تک رسائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ 2023 میں 15ہزار 600مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا گیا، جبکہ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 19ہزار 701ہو گئی—جو نہ صرف اس پروگرام کی وسعت بلکہ کم آمدنی والے طبقے میں دل کی بیماریوں کے بڑھتے بوجھ کا ثبوت بھی ہے۔پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے چیف ایگزیکٹو پروفیسر شہکار احمد شاہ نے جنگ کو بتایا کہ پی آئی سی نے صرف مریضوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا بلکہ تکنیکی طور پر بھی ترقی کی ہے۔ 2024 میں ادارے نے متعدد نئی جدید سہولیات متعارف کرائیں، جن میں کم سے کم کٹائی والی والو تبدیلیاں، بائی پاس سرجریز، اور MitraClip پروسیجرز شامل ہیں۔ 2023 میں ادارہ خیبر پختونخوا میں پہلا TAVI (Transcatheter Aortic Valve Implantation) کرنے والا اسپتال بنا، اور اس نے Transcatheter LA appendage بندش اور Rota Pro Plus ٹیکنالوجی بھی اپنائی۔انہوں نے مزید کہا کہ ادارے کو قومی و بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ یہ پاکستان کا پہلا ISO سرٹیفائیڈ سرکاری اسپتال ہے اور خیبر پختونخوا کا واحد کیٹیگری-اے اسپتال بھی ہے۔ اب اسے سول سرونٹس کی تربیت کے نصاب میں بھی شامل کر لیا گیا ہے، جو اس کے مؤثر نظم و نسق اور اعلیٰ معیار کا اعتراف ہے۔ کئی بین الاقوامی فیلو بھی پی آئی سی میں جدید کورونری انٹروینشنز کی تربیت کے لیے آ چکے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید