• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماں، بیٹی اور دو بیٹوں کی لاشیں ملنے کا واقعہ، تفتیش مکمل

کراچی( ثاقب صغیر )مائی کلاچی روڈ کے قریب سے ماں ،بیٹی اور دو بیٹوں کی لاشیں ملنے کے واقعہ پر بنائی گئی اسپیشل ٹیم نے اپنی تفتیش مکمل کر لی اور آلہ قتل ٹوکا بھی برآمد کرلیا ملز م مسرور نےدعویٰ کیاکہ میرے اور مقتولہ کے درمیان تعلقات تھے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا کی جانب سے 5 جنوری کو واقعہ کی جامع تحقیقات کے لئے ایس پی انویسٹی گیشن کیماڑی کی سربراہی میں 5 رکنی اسپیشل ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق گرفتار ملزم مسرور حسین ولد محمد بلال نے بتایا کہ میرے اور مقتولہ انیلہ کے درمیان تعلقات تھے۔جب ہمیں ملنا ہوتا تو بچوں کو باہر بھیج دیتے تھے۔ملزم کے مطابق انیلہ تعویز گنڈوں پر بڑا یقین رکھتی تھی اور ہر کام کے لئے تعویز لے کر آتی تھی ۔کھارادر میمن پلازہ والے فلیٹ میں شفٹ ہونے کے بعد انیلہ نے مجھ ایک دن کہا میں نے تعویز گنڈوں کے لئے کسی سنسان جگہ جانا ہے تو میں اور انیلہ موٹر سائیکل پر سنسان جگہ ڈھونڈنے کے لئے نکلے اور مائی کلاچی روڈ کے آخر میں ریل کی پٹریوں سے گھوم کر اندر سنسان جگہ پر گئے جہاں ایک بیٹھنے کی جگہ ہمیں پسند آئی۔ اس جگہ پر ہفتہ دو ہفتہ میں انیلہ اور میں رات کے وقت جایا کرتے تھے جہاں پر انیلہ پڑھائی کرتی تھی اور میں بیٹھا رہتا تھا ۔ملزم کے مطابق آہستہ آہستہ انیلہ نے مجھ پر قابو پانا شروع کر دیا۔میرے اور انیلہ کے تعلقات کا میری بیوی اور پورے خاندان کو علم ہو گیا جس پر میں نے اپنی بیوی پر زور دیا کہ تم میرے ساتھ چلو، میں انیلہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔میری بیوی مجھ سے ڈر کر انیلہ کے گھر میرے ساتھ آئی اور انیلہ کو شادی کی پیش کش کی مگر انیلہ نے منع کر دیا کہ مجھ سے شادی نہیں کرے گی۔ اس کے بعد بھی ہمارا ملنا جلنا جاری رہا۔ میں نے انیلہ کو کئی بار چھوڑنے کی کوشش کی لیکن اس نے مجھے پوری طرح قابو کیا ہوا تھا۔ملزم کے مطابق انیلہ نے کئی بار مجھے کہا کہ اب تم کہیں نہیں جا سکتے ہو میں نے تمہارے اوپر بہت مضبوط قسم کے تعویز کئے ہوئے ہیں۔ اس وجہ سے میں بہت پریشان تھا اور سوچتا تھا کہ یا تو خود کو ختم کر دوں یا انیلہ اور اس کے بچوں کا کام تمام کر دوں۔ 30 دسمبر کو میں اپنے دفتر میں موجود تھا کہ مجھے انیلہ نے واٹس ایپ پر فون کرکے کہا کہ آج مجھے چلہ اور پڑھائی کرنے مائی کلاچی روڈ کے پاس جنگل سائیڈ پر جانا ہے تم جلدی آ جانا۔ میرے دل میں آیا کہ آج ہی انیلہ کا کام تمام کر دوں۔ میں نے آفس سے چھٹی کی اور جامع کلاتھ سے وزنی ٹوکا خریدا اور مائی کلاچی پر سنسان جگہ پر گیا ۔وہاں کچھ بلاک رکھے تھے جہاں میں نے ٹوکا چھپا دیا۔سات بجے کے قریب میں نے انیلہ کو فون کیا تو اس نے کہا کہ ابھی نہیں آنا کیونکہ کچھ مہمان آئے ہوئے ہیں جس پر میں وہیں مارکیٹ میں ہی گھومتا رہا۔ دس بجے کے قریب انیلہ نے فون کیا کہ مہمان چلے گئے ہیں تم آ جاؤ۔ میں اس کے گھر گیا اور کھانا کھایا اور چائے پی پھر ہم دونوں گھر سے نکل آئے۔ ہم موٹر سائیکل پر مائی کلاچی روڈ پر اس جگہ آئے جہاں انیلہ پڑھائی کرتی تھی۔ انیلہ نے پڑھنا شروع کیا تو پہلے دس پندرہ منٹ میں انیلہ کے ساتھ ہی بیٹھا رہا اس کے بعد میں اٹھا اور پیچھے رکھا ہوا ٹوکا اٹھا کر انیلہ کے سر کے پچھلی جانب وار کرنا شروع کئے جس سے انیلہ گر گئی تو میں نے اس کی لاش گھسیٹ کر پاس ہی بنے ہوئے بڑے مین ہول میں ڈال دی۔ میرے خلاف کوئی ثبوت نہ مل سکے اس لئے میں نے بچوں کو بھی مارنے کا پلان بنایا۔ میں واپس کھارادر گیا۔ بچوں نے اپنی والدہ کے بارے میں پوچھا تو میں نے انھیں کہا کہ تمہاری والدہ بے نظیر پارک کے پاس کھڑی ہے اور تم تینوں کو بلا رہی ہے۔ چونکہ بچے مجھ پر اعتبار کرتے تھے اس لئے میرے ساتھ چل پڑے ۔تینوں بچے پہلے گھر سے نکلے، میں نے فلیٹ کی لائٹس وغیرہ بند کیں اور تینوں بچوں کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر دوبارہ اسی سنسان جگہ آ گیا۔ میں نے کافی دور بچوں کو بٹھایا اور سب سے پہلے کونین جو کہ سب سے چھوٹا تھا کو ساتھ لیا اور کہا کہ باہر روڈ پر دیکھتے ہیں انیلہ آئی ہے یا نہیں اور اسے مین ہول کے پاس لے گیا اور اسے بھی ٹوکے کے وار کر کے قتل کر دیا۔کونین نے چیخیں ماریں لیکن میں نے اس کا منہ بند کر دیا ۔کونین کو قتل کر کے اس کی لاش کو اسی مین ہول میں پھینکا اور پھر باقی دونوں بچوں کو بھی ایک ایک کر کے اسی طرح قتل کیا اور ان کی لاشوں کو بھی اسی مین ہول میں پھینک دیا۔ ملزم کے مطابق خاتون اور تینوں بچوں کو قتل کرنے کے بعد وہ ایک بار پھر انیلہ کے گھر گیا اور ایک موٹا کمبل گھر سے اٹھایا اور لا کر لاشوں پر ڈال دیا اور وہاں پڑے ہوئے بلاک نما پتھر ڈال دئیے اور وہاں سے نکل آیا ۔ملزم کے مطابق اس رات بارش بھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے نیٹی جیٹی پل کے پاس میں گر گیا اور مجھے چوٹیں بھی آئیں۔ میں صبح چھ سے سات بجے کے قریب اپنے گھر پہنچا۔ میرے بیوی بچے سو رہے تھے، میں نے نہاکر کپڑے تبدیل کئے اور پرانے کپڑے ایک شاپر میں ڈال کر گھر سے کافی دور کچرا کنڈی میں ڈال دئیے اور گھر واپس آ گیا۔

اہم خبریں سے مزید