• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پائیڈ نے عالمی بینک کے غربت سے متعلق تازہ ترین تخمینوں کو مسترد کر دیا

اسلام آباد (مہتاب حیدر) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے عالمی بینک کے غربت سے متعلق تازہ ترین تخمینوں کو مسترد کر دیا ہے اور انکشاف کیا ہے کہ غربت کے اعدادوشمار میں اضافہ بنیادی طور پر عالمی پیمائش کے معیار کی دوبارہ ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے ہے نہ کہ اچانک معاشی گراوٹ کے باعث۔ پائیڈ نے تازہ ترین غربت کے تخمینے جاری کیے ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کا تناسب مالی سال 24 میں 24.5 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 25 میں 22.9 فیصد ہوگیا ہے، جو کہ بنیادی ضروریات کے اخراجات (سی بی این) کی تعریف کے مطابق ہے۔ پاکستان میں غربت میں تیزی سے اضافے کے دعوؤں کے درمیان، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ ’’غربت کا فریب: جب اعداد حقیقت کو مسخ کرتے ہیں‘‘ کے ساتھ صورتحال کو واضح کرنے کے لیے قدم بڑھایا ہے۔ یہ نتائج ملک گیر غربت کے پھیلاؤ کے وسیع پیمانے پر گردش کرنے والے بیانیے کو چیلنج کرتے ہیں، اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ غربت کے اعدادوشمار میں اضافہ بنیادی طور پر عالمی پیمائش کے معیار کی دوبارہ ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے ہے نہ کہ اچانک معاشی گراوٹ کے باعث۔ پاکستان میں غربت سے متعلق سنسنی خیز خبروں کے جواب میں، ڈاکٹر ندیم جاوید، جو کہ پائیڈ (PIDE) کے وائس چانسلر اور پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن کے رکن ہیں، نے کہا کہ پالیسی سازی حقائق پر مبنی ہونی چاہیے، نہ کہ خوف پر۔ یہ تبدیل شدہ اعداد و شمار عالمی سطح پر غربت کی پیمائش کے طریقوں میں تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں، نہ کہ پاکستانیوں کے گزر بسر میں کسی ڈرامائی گراوٹ کی۔
اہم خبریں سے مزید