پشاور (ارشد عزیز ملک) باجوڑ میں تحریک طالبان اور مقامی امن جرگے کے درمیان پانچویں بار ہونے والے مذاکرات ایک بار پھر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔
طالبان نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے باجوڑ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق البان کے سخت اور غیر لچکدار مؤقف سے کسی بڑی پیش رفت کا امکان نظرنہیں آ رہا، مذاکرات کے بعد امن جرگہ واپس پہنچ گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ فریقین کے درمیان مختلف نکات پر بات چیت ہوئی تاہم کسی ایک پر بھی مکمل اتفاق رائے نہ ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق طالبان کے مطالبات اور مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ طالبان کا اصرار ہے کہ وہ باجوڑ سے واپس نہیں جائیں گے اور نہ ہی آبادی سے نقل مکانی کریں گے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ طالبان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز گروپ یا قافلے کی شکل میں نقل و حرکت نہ کریں اور جب بھی فورسز اپنی چوکیوں کو راشن یا دیگر سامان سپلائی کریں گی تو اس سے قبل جرگے کے ذریعے طالبان کو اطلاع دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق طالبان کا مؤقف یہ بھی ہے کہ سیکیورٹی فورسز قافلوں کی شکل میں اسلحہ لے کر نہ چلیں اور فریقین میں سے کوئی ایک دوسرے پر حملہ نہ کرے۔
جمعرات کے روز مذاکراتی وفد میں شامل مولانا طارق نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس عمل میں پیش رفت ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دسعلما پر مشتمل وفد کے باعث طالبان کے رویے میں کچھ نرمی محسوس کی گئی اور بات چیت میں بہتری کے آثار نظر آئے ہیں۔