• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غیر ملکی سرمایہ کاری کے راستے کی بڑی رکاوٹ ٹیکس ڈھانچہ، ناصر مگوں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہمارا ٹیکس ڈھانچہ ہے، پاکستان کا ٹیکس نظام آمدن کے حصول کا ذریعہ بننے کے بجائے عالمی سرمائے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے، قومی معیشت چلانے کے لیے مصنوعی ذہانت کو اپنانا ہو گا۔ ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر اور سارک چیمبر کے لائف ممبر میاں ناصر حیات مگوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان دہائیوں سے صنعتی ترقی اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کے سراب کے پیچھے بھاگ رہا ہے، مگر حاصل صرف جمود رہا۔ اگرچہ اکثر سیاسی تبدیلیوں اور معاشی ٹیموں کی اکھاڑ پچھاڑ کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے، لیکن تشخیصی حقیقت کہیں زیادہ سادہ اور بنیادی ہےپاکستان کا ٹیکس نظام آمدن کے حصول کا ذریعہ بننے کے بجائے عالمی سرمائے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔غیر ملکی سرمایہ کار ٹیکسوں سے نہیں بلکہ بے یقینی اور عدم استحکام سے دامن چھڑاتے ہیں۔ موجودہ صورتحال ایک ایسے "خفیہ" بوجھ کی عکاسی کرتی ہے جہاں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکسز ، سپر ٹیکس اور مختلف سیکٹرز کی لیوی ایسا بھاری بوجھ ہیں جو خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ رہی سہی کسر پالیسیوں کی آئے روز تبدیلی نے پوری کر دی ہے،راتوں رات تبدیل ہونے والے قواعد اور اچانک موصول ہونے والے نوٹس طویل مدتی منصوبہ بندی کو ناممکن بنا دیتے ہیں۔ مزید برآں کاغذات کے اندراج کا ایک ایسا پیچیدہ گورکھ دھندا اور ریفنڈز میں سالہا سال کی تاخیر ہے جس نے کاروبار کے مالی بہاؤ (Cash Flow) کا گلا گھونٹ دیا ہے، جس کی وجہ سے ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی توانائیاں جدت کے بجائے "سسٹم کے ساتھ ماتھا مارنے"میں ضائع کر رہی ہیں۔
اہم خبریں سے مزید