• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

100 سال سے زائد پرانے انتقالات پر زمین ریکارڈ تبدیلی کی درخواست خارج

اسلام آباد (رپورٹ :رانامسعود حسین) وفاقی آئینی عدالت نے سو سال سے زائد عرصہ پرانے غیر نافذ شدہ انتقالات کی بنیاد پر زمین کے ریکارڈ میں تبدیلی کی درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اتنے طویل عرصہ کے بعد ریکارڈ میں تبدیلی سے تیسرے فریق کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں، ایسے متنازعہ معاملات کافیصلہ صرف اور صرف سول عدالت ہی کر سکتی ہے،ریونیو افسر کا کام صرف ریکارڈ رکھنا ہے، وہ زمین کی ملکیت کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ، پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت ریونیو حکام صرف وہی غلطی درست کر سکتے ہیں جس پر کوئی بڑا تنازعہ نہ ہو،جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت مکمل کی تھی ، 7صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے قلمبند کیا ،جس میں عدالت نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ 1907 اور 1913 کے انتقالات کے لیے پہلی بار 2020 میں یعنی ایک سوسال بعدعدالت سے رجوع کیا گیا، اتنے طویل عرصہ میں تو اراضی کی کئی بار خرید و فروخت ہوئی ہوگی اور کئی تیسرے فریقین کے حقوق بھی وابستہ ہو چکے ہوں گے۔
اہم خبریں سے مزید