• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ابتدائے آفرینش ہی سے خاندان کا آغاز مَرد اور عورت پر مشتمل جوڑے سے ہوا۔ دُنیا کا سب سے پہلا خاندان حضرت آدمؑ اور بی بی حوّاؑ پر مشتمل تھا۔ یاد رہے، خاندان کی بنیادی اکائی مَرد اورعورت کا حلال تعلق ہے۔ یہ وہ تعلق ہے کہ جو خالقِ کائنات کی تسلیم و رضا سے منسلک و مشروط ہوتا ہے۔ نیز، اللہ ربّ العزّت کا ودیعت اور وضع کردہ تعلق ہی ’’حلال تعلق‘‘ کہلاتا ہے۔ 

اِس ضمن میں سورۃ الملک میں خالقِ کائنات فرماتا ہے کہ ’’کیا وہی نہ جانے گا، جس نے پیدا کیا ہے؟‘‘ تو جس نے خلق کو پیدا کیا، وہ جانتا ہے کہ اُن کو رشتوں میں کس انداز میں اور کن پیمانوں کے تحت باندھنا ہے اور پھر جب ان ہی پیمانوں کے ساتھ خالق کی رضامندی سے طے پانے والے رشتے خاندان کی تشکیل کا باعث بنتے ہیں، تو اس خاندان کو معاشرے میں اوّلین درجہ حاصل ہوتا ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخرخاندان ہوتا کیا ہے؟ توخاندان وہی ہے، جو حضرت آدمؑ اور بی بی حوّاؑ کے دَور سے چلا آرہا ہے۔ یہ تو آج ہم نے اسِے ننھیالی، ددھیالی، میکے اورسُسرالی خاندان میں تقسیم کر دیا ہے۔ درحقیقت، خاندان مَرد و عورت اور اُن کی ذُریّت کے ایک ساتھ رہنے اور بسنے کا نام ہے اور آگے چل کر یہ ذُریّت مزید چھوٹے چھوٹے خاندانوں میں تقسیم ہوجاتی ہے، لیکن اصل خاندان میاں بیوی اور ان کے بچّوں ہی پر مشتمل ہوتا ہے اور اسے ’’معاشرے کی نرسری‘‘ کہا جاتا ہے۔ 

یہ وہ نرسری ہے کہ جو دُنیا کے اس گلشن میں پُھول، پھل، کانٹے یا ببول اُگاتی ہے۔ یہیں سے بہن کا بھائی سے، بھائی کا بہن سے، والدین کا بچّوں سے، بچّوں کا ماں باپ سے، میاں کا بیوی سے اور بیوی کا میاں سے تعلق استوار ہوتا، نکھرتا یا بکھرتا ہے۔ یہی تعلق آگے چل کر دیگر رشتوں کی بنیاد بنتا ہے، جن میں نانا، نانی، دادا، دادی، خالہ، پھوپھی، چچا اورماموں وغیرہ شامل ہیں۔

ابتدائی خاندان ہی کی وجہ سے معاشرے میں دیگر تعلقات اور مراسم نمو پاتے ہیں۔ اگر اس گھرانے کے ارکان کا باہمی تعلق کم زور ہوگا، تو سماجی بُنت کم زور ترین ہو گی اور اگر کُنبے کا آپس میں ربط ضبط خیر پر مبنی ہوگا، تو ہر گلی کوچے ہی میں سلامتی، امان اور عافیت ہوگی۔

خاندان کی تعریف کے بعد ہم باقی رشتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ دُنیا کا پہلا جھگڑا ایک خاندان ہی کے دو افراد کے مابین ہوا تھا۔ حضرت آدمؑ اور بی بی حوّاؑ کی اولاد کے درمیان ایک تعلق کی بنیاد پر جھگڑا اتنا بڑھا تھا کہ نوبت قتل تک پہنچ گئی تھی۔ یہ چپقلش سیاسی تھی، نہ معاشی اور نہ ہی اس کا تعلق آبی وسائل سے تھا۔ آج بھی اقوام کے درمیان پائے جانے والے تنازعات ایک طرف اور خاندانی جھگڑے ایک طرف۔ 

آپ چاہیں، تو تحقیق کرلیں کہ آج بھی دُنیا کے ہر خطّے میں صرف بہو ہی ساس کو ناپسند نہیں کرتی، بلکہ داماد بھی اپنی خوش دامن سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ اِسی طرح صرف ایشیائی مَرد ہی اپنی بیگمات کو جاہل، کم فہم اور ناقص العقل جیسے القابات سے نہیں نوازتے بلکہ دُنیا کے دیگر ممالک میں بھی بیگمات سے متعلق مختلف لطائف اُنہیں بے وقوف ثابت کرتے نظر آتے ہیں۔ 

نیز، صرف ایشیائی بیگمات ہی کو یہ شکایت نہیں کہ اُن کے شوہر اچّھا سودا سلف نہیں لاتے، بلکہ اب یہ ایک ’’بین الاقوامی شکوہ‘‘ بن چُکا ہے اور اس ضمن میں روزانہ سوشل میڈیا پر ڈھیروں پوسٹس شیئر کی جاتی ہیں، جن سے یہ پتا چلتا ہے کہ دُنیا کے ہر خطّے کی عورت نہ صرف اپنےشوہر کو نکمّا اور نالائق سمجھتی ہے، بلکہ اس کا ایسا ہونا ثابت کرکے بھی دکھاتی ہے۔

بہرکیف، خاندان کی ابتدائی نرسری جب ایک باغ میں تبدیل ہوتی ہے، تو گُلشن کا ہر پودا مالی اور مالن کے سلوک، خدمت اور محنت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس باغ کے پھلوں، پُھولوں اور پودوں کے فائدہ مند یا نقصان دہ ہونے کا ذمّے دار محض ہوا، پانی، روشنی اور کھاد کو قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ ان تمام اجزا کو باغ کی سینچائی کے لیے مناسب اور متوازن انداز میں استعمال کرنا اہم ہوتا ہے اور ایک باغ بان ہی پر اس بات کا انحصارہوتا ہے کہ وہ باغ میں موجود پودوں کو ہوا، پانی اور روشنی کتنی مقدار میں فراہم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ پَھلتے پُھولتے ہیں۔

نیز، یہ اَمر بھی اہم ہے کہ حضرت آدمؑ اور بی بی حوّاؑ کی مانند مالی اوّلین دَورکا ہے یا دوسرے دَور میں ان کی اولاد باغ بانی کے فرائض سر انجام دے رہی ہے یا پھر اُس کے بھی بعد والی نسل، مناصب اور رشتے مالی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، کیوں کہ نسل در نسل منتقل ہونے والی محبّت، نفرت، تربیت اورعلمیت کہیں گھٹتی، کہیں بڑھتی، کہیں بنتی اور کہیں بگڑتی رہتی ہے، لیکن یہ طے ہے کہ نرسری کے اوّلین باغ بانوں کی محنت اور طرزِعمل اَن مِٹ نقوش چھوڑجاتا ہے۔ 

بعد ازاں، کہیں نہ کہیں ایک ماں کا ساس کی صُورت، چاہے وہ مَرد کی ہو یا عورت کی، منفی رویّہ خاندان میں زہر گھول دیتا ہے۔ بہن اور بھائی کا رویّہ دیور، جیٹھ، سالی اور نند کی صُورت کٹیلا ہوجاتا ہے اور پھر آگے چل کر رشتوں میں بدلاؤ اور پیچ و خم آتا چلا جاتا ہے اور یہ سب دراصل اُسی ابتدائی نرسری کی دَین ہوتی ہے، وہ چاہے اچّھی ہو یا بُری، نفع بخش ہو یا نقصان دہ، مُہلک ہو یا رُوح پرور۔ 

اس لیے ہم قصوروار کسی ایک رشتے، کسی ایک خاندانی قسم یا کسی ایک تعلق کو نہیں ٹھہرا سکتے، بلکہ اس کی بنیاد میں جس قسم کی تربیت، ماحول اور عوامل شامل ہیں، اگر وہ بہترین ہیں، تو مزید رشتے اور تعلقات بہترین ہوں گے، اس لیے خاندانوں کو ننھیالی، ددھیالی، میکے اور سُسرالی خاندان میں تقسیم کرکے قابلِ گردن زدنی مشہور کردینے سے بہتر ہے کہ اپنی بنیادی اکائیوں پرتوجّہ دیں۔ اگر آپ کے اوّلین اور بنیادی رشتے میں اِخلاص، محبت اور مہر و وفا نمو پاتی ہے، تو یہ تمام صفات نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں گی اور اگر خدانخواستہ اس کے برعکس معاملہ ہو، تو پھر اس کا تاوان نسلیں ادا کرتی ہیں۔