• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

ساڑی بہت پسند ہے

شمارہ موصول ہوا۔ سرِورق پر ایک خاتون، دو حضرات موجود تھے۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘میں عظیم صحابیٔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم، حضرت یاسر اور اُن کے خاندان کی اسلام کے لیے قربانیوں کا دردناک تذکرہ کیا گیا۔ ایسی ہی مقدس ہستیوں کی قربانیوں سے اسلام کو فروغ ملا۔ 

منور مرزا ’’غزہ میں امن کی سحر‘‘ کا مژدہ سُنا رہے تھے، مگر ہمیں تو ابھی تک ظلم کی تاریکی ہی نظر آرہی ہے۔ معاہدے کے باوجود اسرائیل کے حملے جاری ہیں۔ مطلب، اسرائیل کو مکمل لگام ٹرمپ بھی نہیں ڈال سکا۔ (ایسے نوبیل انعام کی آرزو، کیسے پوری ہوگی) سیدہ تحسین عابدی پاکستان کی موسمی آفات پر ترقی یافتہ ممالک کواپنی ذمےداریاں پوری کرنےکا مشورہ دے رہی تھیں۔

’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر عبدالمالک نے فالج سے بچاؤ کے لیے، ڈاکٹر سے فوری رجوع کا مشورہ دیا۔ عرفان جاوید ’’ایک وڈیرے کی کہانی‘‘ کی آخری قسط لائے۔ ڈاکٹر سکندراقبال بچّوں کے اخلاق وکردار سازی کے لیے اساتذہ اور والدین کو تلقین کررہے تھے، تو محمّد صفدرخان بیف پنیر بریانی کی ترکیب لائے۔ ثانیہ انور ’’سینٹر اسپریڈ‘‘کے رائٹ اَپ سے بھرپور انصاف کررہی ہیں۔ عرصۂ دراز بعد ساڑی میں ملبوس ماڈل دیکھی، بھلی لگی۔ ہمیں ساڑی بہت پسند ہے، بھارت سے لائے تھے، مگر بیگم نے پہنی ہی نہیں۔

رؤف ظفر نے ہر دل عزیز شاعر، رحمان فارس سے خوب کھٹی میٹھی باتیں کیں۔ اختر سعیدی نے حسبِ معمول کتابوں پرماہرانہ تبصرہ کیا۔ حنیف طیّب ظہور الحسن بھوپالی کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے تھے۔ واقعی، عجب آزاد مرد تھا۔ نگہت سلطانہ نے اسرائیل کے وحشیانہ مظالم کا نوحہ سُنایا۔ کہیں پڑھا تھا کہ دوسری جنگِ عظیم سے زیادہ صحافی غزہ میں ہلاک ہوئے۔ 

ظالم، ظلم سمیت ایک دن تباہ ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں ثانیہ انور ’’سفر‘‘ کے عنوان سے غربت و بے چارگی کا افسانہ لائیں۔ جاوید جواد حسین نے دل چسپ ادبی شگوفے گوش گزار کیے، خصوصاً علامہ اقبالؒ کا شگوفہ بہترین تھا۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں رانا محمّد شاہد اعزازی چٹھی کے حق دار ٹھہرے، مگر ہم تو محمّد سلیم راجا کے پرستار ہیں۔ (شہزادہ بشیرمحمّد نقش بندی، میرپورخاص)

ج: ویسے بیگم ایک بار پہن کے دکھا ہی دیتیں، تو اچھا تھا۔ کم از کم آج آپ کو اتنی حسرت سے ہماری ماڈل کو تو نہ دیکھنا پڑتا۔

جوئے شیر لانے کے مترادف

آپ کا بہت شُکر گزار ہوں کہ ’’سندھ میں تعلیم کی صُورت حال‘‘ سے متعلق میرامضمون پاکستان کے سب سے کثیرالاشاعت جریدے میں شائع فرما دیا۔ خیال تھا کہ مضمون نہیں چَھپ سکے گا، کیوں کہ اُس میں کئی حکومتی کم زوریوں، کوتاہیوں کی نشان دہی کی گئی تھی۔ مَیں نے خُود ایک حکومتی ادارےمیں ذمّےدارانہ عہدوں پر کام کیا ہے، تو مجھے اندازہ ہے کہ حکومت کے کاموں پر جائز تنقید بھی بڑا مشکل کام ہے۔

مگر بٹیا! ہمارا دنیا میں رہنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہم معاشرے میں اچھائی کی نمو کے لیے اپنا کردار ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ کو ایک دن جواب بھی دینا ہے۔ حکومتی اداروں کا قیام عوام کی خدمت، انہیں آسانیاں مہیا کرنے کے لیے عمل میں آتا ہے، مگر افسوس، بیش تر سرکاری افسران اور ادارے اس کے برخلاف ہی کام کرتے ہیں۔

قوانین وغیرہ بھی ایسے بنائے جاتے ہیں کہ جن سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے، جب کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمّد ﷺ نے حضرت معاذؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو یمن بھیجا، تو ہدایت فرمائی۔ ’’لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، اُنہیں مشکل میں نہ ڈالنا، خوش خبری سُنانا۔‘‘ (صحیح بخاری کتاب الجہادحدیث 3038)

سو، راقم جو بھی مضمون لکھتا ہے، اُس کامقصد صرف اور صرف معاشرتی بہتری کی کوشش ہے کہ78سال کی عُمر میں نہ شہرت چاہیے، نہ کوئی مالی فائدہ۔ اس ضمن میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے، مگر مجھے یہ بھی علم ہے، آپ کو کن کن مجبوریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

آج کے دَور میں اصولوں پر چلنا، جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بندوں کی بھلائی کے کام کرنے کی مزید ہمّت و صلاحیت عطا فرمائے۔ عزت و وقار میں اضافہ ہو، ہمیشہ شادوآباد رہیں۔ (رستم علی خان، سابق ڈائریکٹر، کے ڈی اے، کراچی)

ج: جزاک اللہ سر۔ یہی حوصلہ افزائی ہمارے لیے مہمیز کا کام کرتی ہے۔

چلغوزے، کشمش، بادام بھی...

آپ کا شکریہ کہ میرا خط شائع کیا اور جواب سے بھی نوازا۔ بہت ہی دل چسپ جواب تھا، جس سے خُوب محظوظ ہوا۔ آپ نے فرمایا۔ ’’منظوم تبصرے کو رواں کرنے میں کہیں زیادہ دقّت کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘ اللہ تعالیٰ آپ کو اجر دے۔ بندۂ خاکسار اب علیل ہے، مگر نظم و نثر اور تصویر بناناہی مشغلہ ٹھہرا۔ 

آپ کا یہ فرمانا بھی بجاکہ ’’اگر خط لکھتے وقت حاشیہ کھینچنے کا تردّد فرما ہی لیا تھا، تو اُسےخالی بھی رہنے دیتے۔ ’’نوٹ‘‘ کے عنوان سے بھی اتنی فن کاری دکھا دی کہ بالآخر صفحے پر تِل دھرنے کی جگہ نہ چھوڑی۔‘‘ یہ تِل دھرنے کا محاورہ بھی خُوب لگا۔ 

سردی ہے، تو خیال اُسی طرح چلا گیا۔ آج خاصا حاشیہ چھوڑ دیا ہے، اب آپ اِس پر تِل ہی نہیں، چلغوزے، کشمش، بادام وغیرہ بھی رکھ لیں،مجھےکوئی اعتراض نہیں۔ ’’سنڈے میگزین‘‘ حسبِ معمول بہت عُمدہ لگا۔ ٹائٹل سے لے کر اندرونی صفحات ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ ’’حالات و واقعات‘‘ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ ’’پیارا گھر‘‘ سب ہی ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ ؎ بتایا لوگوں نے، ہر رنگ ہم پہ جچتا ہے… کی تو کیا ہی بات ہے۔ ’’انٹرویو‘‘ میں رؤف ظفر نے رحمان فارس سے بات چیت کی، پڑھ کے لُطف دوبالا ہوگیا۔ ثانیہ انور کے افسانے ’’سفر‘‘ کے بھی ہی کہنے۔

’’ادبی شگوفے‘‘ لُطف دے گئے۔ اختر سعیدی کا ’’نئی کتابیں‘‘ میں چیدہ کتابوں پر تبصرہ لاجواب ٹھہرا اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ بھی اچھا لکھنے کی کوشش کرنے والوں سے جگمگا رہا تھا۔ ہاں، پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک کافالج کے عالمی یوم کے حوالے سے معلوماتی مضمون، پڑھنے کے لائق، انتہائی مفید معلوم ہوا۔ (صدیق فنکار، کلمہ چوک، دھمیال روڈ، عسکری اسٹریٹ، جھاورہ کینٹ)

ج: اول توچلغوزےلائیں کہاں سے، ایک صحافی کے ماہانہ مشاہرے میں تو یہ عیاشی ہو نہیں سکتی۔ دوم، حاشیہ تو چھوڑ دیا آپ نے، پر صفحے کی پشت پوری نیلی (بلیو پین کے استعمال سے) کر ڈالی کہ حاشیے کی جگہ پر چلغوزے کے دوچاردانے رکھ بھی لیے جاتے، تو صفحہ الٹنے سے نیچے ہی جا پڑتے۔ سو، خدارا! اگلی بار کاغذ کی بیک سائیڈ خالی چھوڑنے کا بھی تردّد فرمائیے گا۔

عجب بے چینی سی رہی

چار ماہ سے اومان میں بھائی کے پاس تھا، جنگ اخبار نہ پڑھ سکا۔ لگ بھگ50 برس کی عادت ہے، جنگ اخبار کے مطالعے کی، تو عجب بےچینی سی رہی۔ خیر، واپس آکر سارے پرانے اخبارات وجرائد چٹ کر ڈالے۔ ’’پیارا گھر‘‘ کی نت نئی تراکیب بھی بیگم سے بنوا بنوا کے کھائیں۔ سچ کہوں تو آپ کا ہرجریدہ اپنی جگہ مکمل، مثالی ہی معلوم ہوا۔ (سیّد شاہ عالم زمرد اکبرآبادی، راول پنڈی)

ج: بھائی سے کہتے، آپ کو ہمارے آن لائن ایڈیشن سے استفادے کا طریقہ سمجھا دیتے، ناحق اس قدر بےچینی میں مبتلا رہنے کی کیا ضرورت تھی۔

خُوب روشن ہورہا تھا

’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں صحابیٔ رسول، حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالاتِ زندگی پڑھے۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے غزہ کی صورتِ حال پر روشنی ڈالتے ہوئے درست کہا کہ ’’ٹرمپ کا20 نکاتی امن منصوبہ وقتی طور پر قابلِ عمل ہے، لیکن اس میں کچھ نہ کچھ ردوبدل کرنا پڑے گا، وگرنہ امن کا خواب تعبیر نہیں پاسکے گا‘‘ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر سکندراقبال نے سروائیکل کیسز کے علاج سے متعلق مفید معلوماتی مضمون تحریر کیا۔ 

’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں سحر ملتانی نے شہیدِ ملت، لیاقت علی خان کو شان دار خراج عقیدت پیش کیا۔ ڈاکٹر عبدالستار عباسی نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی ماہدے پر روشنی ڈالی۔ سیّدہ تحسین عابدی سانحۂ کارساز پر تعزیتی مضمون لائیں۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ میں بے بے کی آخری خواہش پوری نہ ہوسکی۔ 

محمّد ریحان نے جھیل سیف الملک (جھیلوں کی ملکہ) کی سیر کروائی۔ محمد سلیم راجا کا افسانہ بےمقصد سا لگا، مگر آسیہ پری وش کاافسانہ پسند آیا۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ کے واقعات سبق آموز تھے۔ اگلے شمارے کے ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا تارکینِ وطن کو سمجھا رہے تھے کہ جس مُلک میں رہ رہے ہیں، اُسی کے مفاد میں کام کریں۔ 

رابعہ فاطمہ نے قیامِ پاکستان سے ہونے والی صنعتی ترقی اور ماحولیاتی بگاڑ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ محمّد تنویر ہاشمی نے چین کی تعمیر و ترقی کا احوال بیان کیا۔ ’’پیارا گھر‘‘ کے مضامین بہترین تھے۔ 

’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر سکندر اقبال نے ذہنی صحت سے متعلق معلوماتی مضمون تحریر کیا۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ کی تمام کہانیاں پسند آئیں اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ہمارا خط شامل تھا، جس سے صفحہ خُوب روشن ہورہا تھا۔ (سیّد زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)

ج: آج دو خطوط کی ایک ساتھ اشاعت سے تو پھر آنکھیں ہی چندھیا گئی ہوں گی۔

                فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

نرجس بٹیا! سدا خوش رہو، اپنے ایک عزیز کے ہاتھ یہ خط بھجوا رہا ہوں۔ اُمید ہے، وہ پوسٹ کردیں گے۔ مَیں کینیڈا کےشہرمانٹریال میں اپنے بیٹے کے ساتھ مقیم ہوں۔ شمالی امریکا میں واقع یہ شہر ٹورنٹو سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں کی کُل آبادی تقریباً19 لاکھ ہے، یعنی ہماری نئی کراچی سے بھی چھوٹا۔60 فی صد لوگ فرینچ بولتے ہیں، 85 فی صد کا تعلق رومن کیتھولک فرقے سے ہے، دوسرےنمبر پر مسلمان ہیں، مانٹریال کا زیادہ ترحصّہ غیرآباد ہے۔ یہ لوگ اپنی قدیم روایات سے بہت محبّت کرتے ہیں، بڑے امن پسند ہیں۔ 

ٹورنٹو اور مانٹریال کے کلچر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ویسے یہاں جنگ اخبار دو دن کی تاخیر سے مل جاتا ہے۔ مجھے یہ دیکھ کربڑی مسرت ہوتی ہےکہ سخت ترین، نامساعد حالات کے باوجود تم نے میگزین کی نگہداشت میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی۔ دراصل تمہاری سخت ترین ایڈمنسٹریشن اور مہارت میگزین کی کام یابی کی ضمانت ہے، پھر نئے اور پرانے لکھاریوں کے امتزاج نے بھی میگزین کا حُسن دوبالا کردیا ہے۔ 

آج کل کی زرد اور سیاست سے لتھڑی صحافت کے درمیان سنڈے میگزین سے وابستہ صحافی کنول کے پھولوں کی مانند ہیں۔ سو، آج مَیں مندرجات کے بجائے جریدے کے لکھاریوں پر تبصرہ کروں گا۔ ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی، علومِ اسلامی کا مستند نام ہے۔ اُن کی تحریروں کو کسی سند کی ضرورت نہیں۔ جو لکھتے ہیں، خُوب لکھتے ہیں۔ منور مرزا اپنے نام کی طرح منوراورروشن و رخشاں ہیں۔ اپنے شعبے عالمی امور کے ماہر اور سدا بہار۔ 

منور راجپوت، فیچرز اور انٹرویوز کے ماہر، معاشرتی مسائل پر بہت خُوب لکھتے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ اُنہیں اس سمت ہی بھرپور توجّہ مبذول رکھنی چاہیے۔ ثانیہ انور، تمہاری بہت ہی اچھی دریافت ہے۔ اُس کی تحریروں میں تمہاری جھلک نظر آتی ہے۔ عرفان جاوید ایک بیورو کرپٹ اور سرکاری افسر ہونے کے باوجود اپنی غیرجانب دارانہ اور زندگی سے بھرپور تحریروں کے ذریعے اردو ادب کی بڑی خدمت کر رہے ہیں۔ 

سیّدہ تحسین عابدی، یوں لگتا ہےکہ میگزین میں بھی حکومتِ سندھ کی نمائندگی کررہی ہیں، پھر ادارے کی جانب سےسُرخ سیاہی سے اُنہیں حکومت سندھ کی ترجمان لکھ دینا بھی اُن کی غیرجانب داری کو مشکوک بناتا ہے۔ ویسے کراچی کے ساتھ حکومتِ سندھ کی ناانصافیاں کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں۔ 

میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں اندرونِ سندھ میں کام یابی کا ریشو75 فی صد اور کراچی میں20 فی صد، یہ وہ تعلیمی قتلِ عام ہے، جس کا خمیازہ یوں بھگتنا پڑے گا کہ ’’ہر شاخ پرایک الو بیٹھا ہوگا۔‘‘ 

آج کراچی کا ماسٹرز ڈگری ہولڈر نوجوان بائیکیا پر فاسٹ فوڈ ڈیلیور کررہا ہے اور سندھ کا نقل سے پاس، سفارشی کراچی کے ہر ضلعےکا ڈی سی، اے سی بنا بیٹھا ہے۔ میرا تو خیال ہے کہ میگزین میں لکھنے والے سب لوگ اپنے آپ کو صرف مضمون نگار کہلوائیں، نہ کہ سیاسی حکومتوں کے ترجمان، رؤف ظفرتحریروں سےخُوب انصاف کرتے ہیں۔ 

منیر احمد خلیلی بھی اچھی دریافت ہیں۔ تاریخ پر مکمل عبور رکھتے ہیں۔ ہمایوں ظفر ناقابلِ فراموش قصّوں سے’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ تک کے سفر پر گام زن ہیں۔ محمود میاں نجمی، مورخ بھی ہی، محدث بھی اور مصنف بھی۔ اُن کی 20 کتابیں تو میری لائبریری میں موجود ہیں۔ 

میرے خیال میں یہ بھی تمہاری ہی دریافت ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کربڑی خوشی ہوئی کہ آج کل دینی تبلیغ کےایک عالمی ادارےسےاُن کی’’قصص القرآن‘‘ پر ہفتہ وار تقاریر کا ایک سلسلہ نشر ہورہا ہے۔

تقاریر اُن ہی مضامین پر مشتمل ہے، جو سنڈے میگزین میں قسط وار شائع ہوچُکے ہیں۔ آج یہ مضامین پوری دنیا میں سُنے جارہے ہیں۔ یقیناً اللہ تبارک اِس کاصلہ اُن سب کودیں گے، جو اِن کی اشاعت و طباعت میں شامل رہے، ان شاء اللہ۔ اچھا بٹیا! اجازت، یہاں درجۂ حرارت چار ڈگری تک رہتا ہے، شدید سردی ہے۔ (پروفیسر سید منصور علی خان، مانٹریال، کینیڈا)

ج: آپ کا بزم میں آنا کس قدر خوشی دیتا ہے، آپ کو شاید اندازہ بھی نہ ہو۔ دُعا ہے کہ اللہ رب العزت آپ کو صحت و تن درستی کی دولت سے مالامال رکھے۔ سیدہ تحسین سندھ حکومت کی ترجمان ضرور ہیں، لیکن اچھی لکھاری بھی ہیں۔ 

اُن کا عہدہ لکھ دینے کا ایک فائدہ یہ تو ہوا کہ قارئین کو اپنے دل کی بھڑاس نکالنے، مسائل اجاگر کرنے کا موقع مل گیا۔ ویسے تو حکومتی ایوانوں تک عوام الناس کی آواز بمشکل ہی پہنچ پاتی ہے اور چوں کہ تحسین یہ صفحہ باقاعدگی سے پڑھتی ہیں، تو چلیں، اِس بہانے کچھ تو سُنی جائے گی۔

گوشہ برقی خطوط

* صحابیٔ رسولﷺ حضرت مصعبؓ بن عمیر کی حیاتِ طیبہ پر ایمان افروز تحریر پڑھنے کو ملی۔ نصرت عباس اور سیّد ثقلین علی نقوی کی نگارشات کےکیا کہنے۔نوحہ خواں’’سچے بھائی‘‘ کا نام مَیں نے اپنے بچپن میں بہت سُنا ہے۔ آم کےفوائد پر پہلے بھی ایک تحریر شایع کی گئی، اب ایک اور کر دی۔ ’’پیاراگھر‘‘میں جامن دیکھ کے دل اداس ہوگیا کہ یہاں تو جامن ملتے ہی نہیں۔ 

آم کی آئس کریم کی ترکیب میں لکھا تھا، آموں کو چھیل کے اچھی طرح دھولیں، تو مَیں نے تو کبھی زندگی میں نہیں سُنا کہ آم چھیلنے کے بعد بھی دھوئے جاتے ہیں۔ افسانہ’’ریٹائرمنٹ‘‘ اُن تمام لوگوں کے لیے درس تھا، جو بڑھاپے کی شادی کوغلط سمجھتے ہیں۔ اگلے شمارے میں قدر پرواز کتب خانوں سے بےگانگی کے المیے پر عُمدہ نگارش لائیں۔ 

مَیں خُود بھی آج تک کبھی کسی لائبریری نہیں گئی۔ ڈھولچیوں پر’’فیچر‘‘ پڑھنے کو ملا۔ مجھےتولگتا ہے،ڈھول کی آواز سُنے بھی صدیاں بیت گئیں۔ ’’اسٹائل‘‘ رائٹ اَپ کے پہلے ہی جملے میں گرامرکی ایک غلطی نظر آئی کہ لکھا تھا ’’مصر میں موجود ایک اہرام‘‘، ایک ہوگا، تو ہرم ہوگاناں، اہرام تونہیں۔ اور ہاں، اسکائی بلیو ڈریس بھی کہیں نہیں ملا۔ 

انصار عبدالقہار نے تو ایک لفظ پر پورا مضمون ہی لکھ ڈالا۔ ثانیہ انور کے افسانے ’’امانت‘‘ کا اختتام سمجھ سے بالاتر رہا۔ ہاں، خاقان ساجدکا ’’کباڑیا‘‘پڑھ کے پاکستان کی زندگی یاد آگئی، جب ہر طرح کے پھیری والےگلی گلی آوازیں لگاتے تھے۔

’’آپ کا صفحہ‘‘ میں محمّد سلام کی بات سے مَیں بھی سوفی صد متفق تھی، لیکن پھرآپ کا جواب پڑھ کے حیران رہ گئی کہ لوگ محض نام اور تصاویر کے لیے پورے فوٹو شوٹ کا خرچ اُٹھا لیتے ہیں۔ اور بنتِ اشفاق کی ای میل کا جواب بہت مزے کا تھا۔ ہاہاہاہا… (قرات نقوی، ٹیکساس، امریکا)

ج: تم نے بالکل درست نشان دہی کی۔ آموں کو دھوکر چھیلنا تھا، نہ کہ چھیل کے دھونا۔ اور جب ’’ایک‘‘ لکھا گیا، تو ہرم ہی لکھنا چاہیے تھا، اہرام نہیں۔ بس روانی میں غور کیے بنا ہی لکھ دیا۔

* کیسے معلوم ہوگا کہ ہماری تحریرقابلِ اشاعت ہے یا نہیں؟؟ (تحریم عامر)

ج: جریدے کے باقاعدہ مطالعے سے۔

قارئینِ کرام کے نام !

ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk

سنڈے میگزین سے مزید