• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: میں جس مکان میں رہتا ہوں، یہ میرے والد کے نام لیز تھا، بعد میں والدہ کے نام منتقل ہوا، پھر والد ین کے انتقال کے بعد مکان کی تقسیم کا عمل ہوا اور میں نے تمام ورثاء کو ان کے حصے دے کر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے مکان اپنی بیوی کے نام کردیا لیکن قبضہ اور تصرُّف نہیں دیا، اس مکان سے ایک لمحے کے لیے بھی تعلق نہیں توڑا، اب میری اہلیہ فوت ہوچکی ہیں اور اہلیہ کے والد، والدہ حیات ہیں، اس کے علاوہ شوہر (یعنی میں فضل الٰہی)، تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ اب اس مکان سے حصہ لینے کے لیے میرے ساس سسر اور ایک بیٹا عبدالصمد نے عدالت میں کیس کردیا ہے، کیا اس مکان میں میرے ساس سسر کا حصہ بنتا ہے؟( فضل الٰہی ، کراچی)

جواب: ہمارے قدیم فقہائے کرام نے تکمیلِ ہبہ کے لیے لازم قرار دیا تھا کہ ہبہ کرنے والا (واہب) ہبہ کی ہوئی چیز (موہوب) کو خالی کرکے جس کو ہبہ کیا گیا ہے، اُس(موہوب لہٗ) کے حوالے کردے اور وہ اُس پر قبضہ کرلے، اِس کی بابت فقہائے کرام کی عبارات درج ذیل ہیں:

تنویرالابصار مع الدّرالمختار میں ہے: ترجمہ:’’ اصل یہ ہے کہ اگر شے موہوب، واہب کی مِلکیت کے ساتھ مشغول ہو، تو یہ ہبہ کے تمام ہونے سے مانع ہے اور اگر شاغل ہو تو نہیں، پس اگر کسی نے ایسا توشہ دان ہبہ کیا، جس میں ہبہ کرنے والے کا اناج تھا یا ایسا مکان ہبہ کیا، جس میں ہبہ کرنے والے کا سامان رکھا ہوا تھا، یا ایسی سواری ہبہ کی، جس پر ہبہ کرنے والے کا زین (کجاوہ) رکھا ہوا تھا، تو یہ ہبہ صحیح نہیں ہوگا، لیکن اس کے برعکس (مثلاً مکان یا توشہ دان میں موجود سامان ہبہ کیا یا سواری کے کجاوے کو ہبہ کیا) تو طعام، سامان اور کجاوے کا ہبہ صحیح ہے، کیونکہ اِن میں سے ہر ایک واہب کی مِلک کو شاغل ہے، اس کے ساتھ مشغول نہیں ہے ‘‘۔

علامہ ابن عابدین شامی اس کے تحت لکھتے ہیں: ترجمہ: ’’جیسا کہ کسی شخص نے اپنے بیٹے کو مکان ہبہ کیا اور باپ بھی اس میں رہائش پذیر تھا یا باپ کا اُس میں سامان تھا (یہ ہبہ تام نہیں ہوگا) کیونکہ وہ مکان قابض کے سامان کے ساتھ مشغول ہے، (جلد5،ص:690-691)‘‘۔

ہمارے قدیم فقہائے کرام کے نزدیک جب موہوب لہٗ ہبہ شدہ چیز پر قبضہ کرلے، تو ھبہ مکمل ہوجاتا ہے اور وہ شے واہب کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور موہوب لہٗ اس کا مالک بن جاتا ہے اور اُسے شے موہوب پر مالکانہ تصرُّف کا حق حاصل ہوجاتا ہے۔ 

قبضہ کی دو قسمیں ہیں : (۱) حقیقی (۲) حکمی۔ حقیقی قبضہ سے مراد یہ ہے کہ عملاً(Physically) موہوب لہٗ موہوب شے پر قبضہ کر لے اور حکمی قبضے سے مراد یہ ہے کہ واہب اس چیز کو اپنے قبضے اور تصرُّف سے اس طرح خالی کردے کہ موہوب لہٗ کے قبضہ کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ 

علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ترجمہ: ’’تاتارخانیہ میں فرمایا: ہم ذکر کرچکے ہیں کہ ہبہ قبضے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا اور قبضے کی دو قسمیں ہیں: (1) حقیقی: وہ تو ظاہر ہے اور (2) حکمی تو وہ تخلیہ سے ہوتا ہے، (مِنْحَۃُ الْخَالِقْ عَلٰی حَاشِیۃ بحرالرّائق ،جلد7، ص:486)‘‘ ۔ تخلیہ(Evacuation) سے مراد یہ ہے کہ شے موہوب کو اپنے قبضے اور تصرُّف سے اس طرح خالی کردیا جائے کہ واہب کے قبضے میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔

صورتِ مسئولہ میں ہبہ کے وقت آپ کی اہلیہ آپ کے ساتھ ہی رہتی تھیں، کسی جدید قبضے کی ضرورت نہیں تھی، شرعی طور پر ہبہ مکمل ہوگیا، امام برہان الدین ابوالحسن علی بن ابوبکر مرغینانی حنفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ جب چیز بعینہٖ موہوب لہٗ کے قبضے میں ہو تو ہبہ کرتے ہی اس کا مالک ہوجائے گا، اگرچہ قبضہ کی تجدید نہ کی گئی ہو، یعنی اپنے قبضے سے نکال کر نئے سرے سے قبضہ نہ کیا ہو، کیونکہ عین موہوب اس کے قبضے میں ہے اور (ہبہ میں) قبضہ ہی شرط ہے، اس کے برعکس جب مالک نے وہ چیز اُسے فروخت کردی کیونکہ بیع کا قبضہ مضمون (Guaranteed) ہوتا ہے تو بطور امانت قبضہ اس کے قائم مقام نہیں ہوگا، جبکہ ہبہ کا قبضہ مضمون نہیں ہوتا تو وہ اُس کے قائم مقام ہوجائے گا۔ 

انہوں نے کہا: اور جب باپ اپنے نابالغ بیٹے کو ہبہ کرے تو ہبہ کرتے ہی بیٹا اُس کا مالک ہوجائے گا، کیونکہ وہ باپ کے قبضے میں ہے، تو باپ کا قبضہ ہبہ کے قبضے کے قائم مقام ہوجائے گا اور اس میں کچھ فرق نہیں کہ وہ اس کے قبضے میں ہو یا جس کے پاس وہ چیز امانت رکھی ہے، اس کے قبضے میں ہو، کیونکہ جس کے پاس چیز ودیعت رکھی گئی ہے، اس کا قبضہ امانت رکھنے والے کے قبضے ہی کی طرح ہے، اس کے برعکس جب وہ شے رہن رکھی گئی ہو یا غصب کی گئی ہو یا بیعِ فاسد میں بیچی گئی ہو، تو ان صورتوں میں مُرتہن یا غاصب یا بیع فاسد کے نتیجے میں مشتری کا قبضہ اصل مالک کے قبضے کے قائم مقام نہیں ہوتا، کیونکہ ان صورتوں میں وہ چیز دوسرے کے قبضے یا دوسرے کی مِلک میں ہے ، (ہدایہ ،جلد 6، ص:246)‘‘۔

علامہ اکمل الدین محمد بن محمد بن محمود بابُرتی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’اور جب عینِ موہوب ،موہوب لہٗ کے قبضے میں ہو تو ہبہ تام ہونے کے لیے جدید قبضہ کی حاجت نہیں ہے، کیونکہ یہاں تکمیلِ ہبہ سے کوئی چیز مانع نہیں ہے اور وہ ہے قبضے کا نہ ہونا، پس جب امانۃً قبضہ پایا جائے تو اس کا ہبہ کے قبضے کے قائم مقام ہونا جائز ہے، (العنایہ فی شرح الہدایۃ ،جلد9،ص:32)‘‘۔

اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیاکے ۲۳ویں سیمینار منعقدہ مارچ2014ء میں پیش کیے جانے والے علمی، تحقیقی مقالات میں اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے مفتی رجب قاسمی لکھتے ہیں: ’’مذکورہ مسئلے میں فقہ حنفی میں کچھ مشکلات نظر آتی ہیں، ان مشکلات کا ہمیں حل نکالنا ہے۔ احقر کے نزدیک اس کے دو حل نظر آتے ہیں: (۱) ہبہ کے سلسلے میں فقۂ حنبلی پر فتویٰ دیا جائے ،(۲)قبضے کے سلسلے میں اُس کے مفہوم میں کچھ عموم رکھاجائے، جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے یعنی فقۂ حنبلی پر فتویٰ دینا، تو چونکہ مکیلات وموزونات ہی میں اُن کے نزدیک قبضہ ضروری ہے، بقیہ میں اُن کے یہاں قبضہ ضروری نہیں ہے اور ہمارے یہاں جو مشکل مسائل ہیں وہ مکیلات وموزونات کی قبیل سے نہیں ہیں، بلکہ اکثر وبیشتر یہ زمین جائیداد کے سلسلے میں ہی ہے اور اس میں مسلکِ حنبلی میں قبضہ شرط نہیں ہے، پس اُن کے نزدیک بغیر قبضے کے ہبہ جائز ہے نیز اُن کے یہاں ’’ہبۃُ المشاع‘‘ (Gift of Joint Property) بھی جائز ہے، اس لیے اس میں تمام جزئیات حل ہوتے نظر آتے ہیں، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ قبضے کے مفہوم کو عام رکھا جائے، یہ فقہ کی رُو سے بھی زیادہ قریب ہے، کیونکہ قبضے کا عموم فقہ کی تمام کتابوں میں درج ہے۔

چنانچہ کُتُبِ فقہ میں ہے: فَاِنَّ قَبَضَ کُلِّ شَیٍٔ وَتَسْلِیمُہٗ یَکُونُ بِحَسبِ مَا یَلِیْقُ بِہٖ، (ہر چیز کا قبضہ اور سپردگی اس کے حسبِ حال ہوگی، البحر الرائق، جلد5، ص:416)‘‘۔ لیکن آج کل جائداد میں قبضہ کی ایک نئی شکل دَر آئی ہے، وہ یہ ہے کہ سرکاری ادارے سے اُس کا رجسٹریشن کرایا جائے، مکمل تفصیلاتِ ضروریہ کے ساتھ، مثلاً مِلکیت سے الگ کیا جانا، جگہ کی حد بندی، مقدار کا تعین وغیرہ۔ (جاری ہے)