اسلام آباد(تنویر ہاشمی،مہتاب حیدر ، کامرس رپورٹر ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور ریونیو نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پالیسی بورڈز کے ذریعے ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے لیے ریگولیٹری اداروں کے اختیارات واپس لینے کے لیے قوانین میں ترامیم پیش کرے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل جیسے ریگولیٹری اداروں کے قوانین میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ پارلیمنٹ کی منظوری سے وزارتِ خزانہ کو یہ تبدیلیاں لانے کا اختیار دیا جائے تاکہ صرف وفاقی حکومت کو ان کی تنخواہیں بڑھانے کا اختیار حاصل ہو۔کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ 18 ریگولیٹری اداروں کے معاملے میں کوئی استثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔ سرکاری اداروں (SOEs) کو بھی اپنی تنخواہیں بڑھانے کے وہی اختیارات حاصل ہیں۔سینیٹکی قائمہ کمیٹی خزانہ میں انکشاف ہوا ہے کہ تین ریگولیٹری اداروں کوایس ای سی پی ، سٹیٹ بنک آف پاکستان اور پی ایم ڈی سی میں تنخواہوں میں از خود اضافے کے اختیارات پر تحفظات کاا ظہار کرتےہوئے قانون میں ترامیم کرنے کی سفارش کر دی ، قائمہ کمیٹی نے مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی جانب سے چینی ، سیمنٹ سمیت دیگر شعبوں کے کارٹلز کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور مسابقتی کمیشن کے مختلف شعبوں کے خلاف کیے گئے فیصلوں کے عدالتوں میں کیس زیر التوا ہونے کے معاملے پر آئندہ اجلاس میں اٹارنی جنرل کو طلب کیاگیا ہے جبکہ گٹھ جوڑ سے قیمتیں مقرر کرنے کے خلاف سی سی پی کو سخت اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی ، ،قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس سینٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت جمعرات کو ہوا ، قائمہ کمیٹی نے دیگر سرکاری اداروںکی تنخواہوں کی تفصیلات بھی وزارت خزانہ سے طلب کر لیں ، قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ مذکورہ تین ریگولیٹری اداروں میں تنخواہوں میں اضافے کا اختیارنہیں ہوناچاہئے اور اس کی حکومت سے منظوری لی جانی چاہئے، ایس ای سی پی کے چیئرمین اور دیگر افسران کی تنخواہوں میں 40فیصد از اضافے پر قائمہ کمیٹی نے نوٹس لیا تھا اور ایس ای سی پی حکام کو طلب کر وضاحت طلب کی اور وزارت قانون کو ریگولیٹری اداروں کی تنخواہ اور مراعات کےلیے قانون میں ترمیم کی ہدایت کر دی ، قائمہ کمیٹی کو ایس ای سی پی کے چیئرمین عاکف سعید نے بتایا کہ ایس ای سی پی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ تنخواہ بڑھا سکے ،سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ اختیار کا نہیں قانون کے غلط استعمال کا معاملہ ہے ، سپریم کورٹ کے جج بھی اپنی تنخواہ خود نہیں بڑھا سکتے، یہ اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے ،سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کئی ریگولیٹر ہیں انھیں بے لگام نہیں چھوڑا جا سکتا اس سے پہلے نیپرا نے بھی کسی کی منظوری کے بغیر ہی اپنے عہدیداران کی تنخواہوں میں لاکھوں روپے کا اضافہ کیا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تمام ریگولیٹری اداروں کیلئے تنخواہ میں اضافہ کیلئے قانون ہونا چاہئے، سینیٹر انوشہ رحمان نےکہا کہ ایس ای سی پی عملے کو 37 کروڑ روپے بانٹے گئے ،علاوہ ازیںچیئرمین سی سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کمیٹی کوبریفنگ میں بتایا کہ کمیشن نے گزشتہ سال عدالتوں میں فعال پیروی کے نتیجے میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 567 سے کم کر کے 280 کر دی ہے۔ اسی عرصے میں عدالتوں کے فیصلوں کے ذریعے 41 کروڑ روپے کے جرمانے ریکور کیے گئے جبکہ کارٹلز کے خلاف 14 فیصلے سنائے گئے جن کے تحت ایک ارب روپے سے زائد کے جرمانے عائد ہوئے۔ کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ کارٹلز اور اجارہ داری کے غلط استعمال کی 20 جبکہ گمراہ کن مارکیٹنگ کی 18 انکوائریاں مکمل کی گئیں۔ مارکیٹ انٹیلی جنس یونٹ نے 193 ممکنہ کیسز کی نشاندہی کی۔ علاوہ ازیں مرجر اینڈ ایکوزیشن کی 117 منظوریوں سے 29 ارب روپے کی غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان میں آئی۔کمیٹی نے سیکٹریٹری قانون کو ہدایت کی کہ عدالتوں میں زیر التوا کمپٹیشن کمیشن کے مقدمات کی جلد سماعت کے لئے کمیشن کے ساتھ تعاون کریں۔ سیکٹری قانون راجہ نعیم نے کمیٹی کو بتایا کہ کمیشن کے سپریم کورٹ میں زیر سماعت 200 مقدمات میں سے 167 مقدمات ، جن میں کمپٹیشن کمیشن کے دائرہ کار کو چیلنج کیا گیا ہے، سپریم کورٹ نے تمام کیس اکھٹے کر کے آئینی بینچ کو بھجوا دیا ہے اور امید ہے کہ اس مقدمے کی سماعت ستمبر میں ہو جائے گی۔ کمیٹی کے اراکین نے کمپٹیشن کمیشن کے سیمنٹ اور شوگر کے سیکٹر میں کارٹلائزیشن کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی ہدایت کی۔