اسلام آباد(عاطف شیرازی)پبلک اکائونٹس کی ذیلی کمیٹی میں بی آئی ایس پی سے سرکاری افسران کو اربوں روپے کے کیش ٹرانسفر کا انکشاف ہوا ہے،سیکڑوں سرکاری افسران اور بیوروکریٹس بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کا فنڈز ہڑپ کر گئے، پبلک اکاونٹس کی ذیلی کمیٹی نے گریڈ 17سے 22 تک کے ملوث افسران پر کرمنل چارج لگانے کی ہدایت کر دی،گزشتہ روز پی۔اے سی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنونئیر معین عامر پیر زادہ کی زیر صدارت ہوااجلاس میں تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ متعدد سرکاری افسران ان کی شریک حیات اور پنشنرز بھی بی آئی ایس پی کے بینیفشری ہیں ۔سرکاری ملازمین اس پروگرام کے بینیفشری نہیں ہو سکتے۔کمیٹی نے کہا ان سے ریکوری کیوں نہیں کی گئی،جس پرسیکرٹری نے بتایا کہ ان کے پاس ریکوری کا کوئی میکانزم نہیں،کمیٹی کو بتایا گیا کہ 85افسران گریڈ 20 کے ہیں 630افسران گریڈ 19 جبکہ گریڈ 22 کے افسران بھی بینیفشیریز ہیں۔زیادہ افسران صوبائی ہیں ایف آئی اے ریکوری کر رہا ہے۔