• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغان طالبان کو خلیجی ملک سے ملنے والے لاکھوں ڈالرز کہاں گئے؟

اسلام آباد (عمر چیمہ) پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) کے خاندانوں کو افغان صوبہ غزنی منتقل کرنے کیلئے ایک خلیجی ملک کی جانب سے دی گئی خطیر رقم کے استعمال کے حوالے سے افغان طالبان کو سخت اسکروٹنی کا سامنا ہے، کیونکہ اس حوالے سے کوئی ٹھوس مالی ریکارڈ سامنے لایا گیا ہے اور نہ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ رقم کیسے اور کہاں استعمال ہوئی، اور کن افراد کو غزنی منتقل کیا گیا۔ اس حوالے سے شفافیت پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ طالبان حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ارکان اور ان کے اہلخانہ کو غزنی منتقل کرکے انہیں غیر مسلح کیا جائے گا۔ اس ضمن میں بطور آزمائشی قدم ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا تھا جس کیلئے ایک خلیجی ملک نے 60؍ لاکھ ڈالر فراہم کیے تھے۔ منصوبہ تقریباً دو ہزار خاندانوں کی آبادکاری پر مبنی تھا۔ تاہم، جب مزید فنڈز کی درخواست کی گئی تو ڈونر ملک نے ابتدائی رقم کے حسابات مانگے۔ ایک ذریعے کے مطابق، افغان طالبان تاحال مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جس سے مخیر ملک سخت ناراضی کا اظہار کر رہا ہے۔ توقع تھی کہ پائلٹ پروجیکٹ کامیاب ہونے پر عالمی سطح پر مزید معانت ملتی۔ لیکن یہ مقصد پورا نہ ہو سکا۔ اس سے قبل پاکستان نے بھی اس منصوبے کی مالی معاونت میں دلچسپی ظاہر کی تھی اور تقریباً 30؍ ارب روپے فراہم کرنے کا عندیہ دیا تھا مگر افغان قیادت پر گہرے عدم اعتماد کے باعث یہ کوشش آگے نہ بڑھ سکی۔ اس بداعتمادی کو اس وقت مزید تقویت ملی جب لشکرِ اسلام کے عسکریت پسند، جنہیں 2021ء میں ارزگان میں بسانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، لیکن یہ لوگ دوبارہ وادی تیراہ میں نمودار ہوگئے۔ ایک پاکستانی عہدیدار کے مطابق، انہیں حیرانی ہے کہ کیوں تمام مطلوبہ افراد افغان طالبان کی حکومت میں شامل ہیں۔ تقریباً تمام افغان طالبان وزراء اب بھی اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں اور انہیں ہر دورے کیلئے انفرادی استثنیٰ درکار ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ بھارت کا طے شدہ دورہ بھی اسی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اہم خبریں سے مزید