انصار عباسی اسلام آباد:…ایک ریاستی ملکیتی ادارے (ایس او ای) کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او)، جنہوں نے محض 32؍ ماہ میں تنخواہوں اور مراعات کی مد میں حیران کن طور پر اور قانوناً اپنے بورڈ کی آشیرباد سے 35؍ کروڑ 50؍ لاکھ روپے وصول کیے، کو اب ایک اور سرکاری ادارے کا سربراہ بنا دیا گیا ہے، جہاں انہیں ایک اور شاندار مالی پیکیج سے نوازا گیا ہے۔ جو بات اس معاملے کو مشکوک بناتی ہے وہ یہ ہے کہ دونوں سرکاری کمپنیاں اسی وزارت کا حصہ ہیں جس کے سینئر عہدیداروں بشمول وزیر نے دی نیوز میں شائع ہونے والی اس خبر پر کوئی کارروائی تک نہ کی کہ کس طرح سرکاری کمپنی کے مذکورہ چیف ایگزیکٹو افسر بے پناہ مراعات سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ اگرچہ، وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام سرکاری اداروں کی گورننس اور مالی امور کا جائزہ لینے کیلئے ایک کمیٹی قائم کی ہے، لیکن اب تک یہ جاننے کیلئے کسی انکوائری کا حکم نہیں دیا گیا کہ کس طرح ان اداروں کے بڑے افسران قومی خزانے کو لوٹ کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ ’’دی نیوز‘‘ کو دستیاب دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ نئے ادارے میں بھی اس سی ای او کا پیکیج اتنا پرکشش ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدوں پر براجمان شخصیات بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ خوش قسمت سی ای او کی ماہانہ تنخواہ 30؍ لاکھ روپے ہے۔ اس کے علاوہ دو سرکاری گاڑیاں (جن میں ایک ان کی پسند کی مقامی اسمبل شدہ ایس یو وی جس کا ڈرائیور الگ جبکہ ایک اور 1800؍ سی سی گاڑی جس کا ڈرائیور الگ)، 500 لٹر ماہانہ فیول، اگر ڈرائیور استعمال نہ کیے جائیں تو ان کی تنخواہیں نقد، اندرون و بیرون ملک بزنس کلاس سفر بمع فائیو اسٹار ہوٹل قیام، پالیسی کے مطابق ڈیلی الائونس، اپنے، اپنی اہلیہ، والدین اور بچوں کیلئے مکمل میڈیکل پیکیج، سالانہ 15؍ اتفاقی، 18؍ میڈیکل اور 30؍ ای ایل، ایک کروڑ روپے کی گروپ لائف انشورنس، کمپنی کی طرف سے موبائل فون بمعہ اخراجات، لیپ ٹاپ، اپنی پسند کے دو کلب کی ممبرشپ کی مد میں لاکھوں روپے، ایک باڈی گارڈ اور 12-12 گھنٹوں کی دو شفٹ میں دو مسلح گارڈز اور بورڈ کی منظوری سے ملنے والی دیگر مراعات شامل ہیں۔ سابقہ سرکاری کمپنی (ایس او ای) میں اسی افسر کو اسپیشل پروفیشنل پے اسکیل تھری پیکیج پر مقرر کیا گیا تھا جس میں 5 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ تھی، لیکن محض 32؍ ماہ میں انہوں نے مختلف بونس اور الائونسز کی صورت میں ساڑھے 35؍ کروڑ روپے سے زائد وصول کیے۔ ایس او ای ایکٹ 2023ء کے تحت بااختیار بورڈ نے بھاری بونسز، الائونسز اور مراعات کی منظوری دی، جس سے ان کی مراعاتی آمدنی بنیادی تنخواہ سے کئی گنا بڑھ گئی۔ ان میں 5؍ کروڑ 63؍ لاکھ روپے کا فکسڈ بونس، 2؍ کروڑ 75؍ لاکھ روپے کے پرفارمنس بونس، 5؍ کروڑ 20؍ لاکھ روپے کی سابقہ تنخواہوں میں اضافہ، اور 4؍ کروڑ 60؍ لاکھ روپے سے زائد کی سیورنس و گریجویٹی شامل تھی، حالانکہ وہ خود استعفیٰ دے کر دوسرے ادارے میں جا چکے تھے۔ اس کے علاوہ، متعدد سرکاری گاڑیاں ہونے کے باوجود کار مونیٹائزیشن کے نام پر بھاری رقم، چھٹیوں کی کیش ویلیو، تقریباً 5؍ کروڑ 90؍ لاکھ روپے کے غیر ملکی دورے، ڈائریکٹر فیس اور دیگر مدات شامل تھیں۔ یہ اپنی نوعیت کا سرکاری پیسے پر عیاشی کی بدترین مثال کا کیس ہے۔ سرکاری حلقوں میں اس اقدام پر حیرانی اور سوالات اٹھ رہے ہیں کہ ان تمام تر انکشافات کے باوجود متعلقہ وزارت اور وزیر کیوں خاموش ہیں۔ یہ کیس واضح کرتا ہے کہ کس طرح ایس او ای ایکٹ 2023 نگرانی سخت کنٹرول کی بجائے سرکاری اداروں کو بورڈز اور مینجمنٹ کی من مانیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔ اب جب کہ یہی شخص ایک اور اہم سرکاری کمپنی کا سربراہ ہے، سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے یا پھر وہ واقعی یہ شخص اس قدر با اثر ہے کہ اس کی ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔