اسلام آباد (محمد صالح ظافر، خصوصی تجزیہ نگار) حکومت کےساتھ تحریک انصاف کا رابطہ ابتدائی طور پرنتیجہ خیز رہا ہے جس کے بعد امکان ہے کہ حکمران اتحاد اور سنی اتحاد کونسل پر مشتمل تحریک انصاف کا پارلیمانی گروپ آئندہ ہفتے مذاکرات کے لئے آمادہ ہوسکتے ہیں۔ جنگ/دی نیوز کو جمعرات کی شب قابل اعتماد پارلیمانی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس مذاکراتی عمل میں تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی تائید یا اجازت شامل نہیں ہوگی تاہم مذاکرات کے ایجنڈے میں اڈیالہ کے اسیر کی رہائی بھی شامل ہوگی۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق جنہوں نے حکومت کے ساتھ تحریک انصاف اور حزب اختلاف کے دوسرے پارلیمانی گروپس کے درمیان مذاکرات کی نظامت کی تھی اس مرتبہ بھی وہ مذاکراتی عمل کا محور ہونگے توقع ہے کہ حکومتی اتحاد کی طرف سے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، رانا ثناء اللہ خان اور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ مذاکرات کار ہوسکتے ہیں جبکہ سنی اتحاد کونسل بیرسٹر گوہر علی خان، انجینئر علی محمد اور چیف وھپ ملک عامر ڈوگر کے ذریعے مذاکراتی عمل میں حصہ لے گی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ آئندہ پیر کو قومی اسمبلی کااجلاس شروع ہونے کے فوری بعد مذاکرات کا ڈول ڈالنے کے لئے سنجیدہ پیش رفت ہوگی۔