کراچی( اسٹاف رپورٹر) جامعہ کراچی نے سلور جوبلی گیٹ کے قریب زمین پر قبضے کی کوشش ناکام بنادی۔ بتایا جاتا ہے کہ چند برس قبل خانہ بدوشوں نے سلور جوبلی گیٹ کے قریب قبضہ کر کے رہائش اختیار کرلی تھی جسے جامعہ کراچی نے پولیس اور رینجرز کی مدد سے خالی کراکے آئندہ قبضہ سے بچنے اور خوبصورتی کے لیے وہاں ایل نرسری قائم کردی تھی تاہم جمعہ کو اچانک کے ڈی اے کے ریٹائرڈ افسر جمیل بلوچ کے ڈی اے حکام کے ساتھ جامعہ کراچی کی نرسری کی جگہ خالی کرانے وہاں پہنچے تو معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کے ڈی اے حکام پر جامعہ کی زمین پر قبضے کی کوشش کا الزام عائد کردیا۔ جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ کے ڈی اے حکام کراچی یونیورسٹی کی زمین پر قبضہ کرنے آئے ہیں، یونیورسٹی انتظامیہ نے کے ڈی اے حکام کو روکنے کی کوشش بھی کی۔ کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی (کے یو ٹی ایس) نے جامعہ کراچی کی زمین پر قبضے کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جامعہ کراچی کی اراضی تعلیمی مقاصد کے لیے مختص ہے اور اس پر کسی قسم کی غیرقانونی تجاوزات یا قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کو جامعہ کراچی کے گیٹ نمبر ایک کے سامنے کے ڈی اے حکام اور پولیس کی موجودگی میں زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش انتظامیہ اور اساتذہ برادری کے لیے نہایت تشویشناک اور ناقابلِ قبول عمل ہے۔کے ڈی اے کی پریس ریلیز کے مطابق جامعہ کراچی کی جانب سے سلور جوبلی گیٹ کے سامنے قائم نرسری کی جگہ وہگزار کرانے کے لیے جب دورہ کیا تو کے ڈی اے کے حکام نے طلباء کو استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی و غیر اخلاقی مداخلت کا مظاہرہ کیا ۔