پشاور(نیوز رپورٹر)پشاور ہائی کورٹ نے ایف بی آر کی جانب سے خیبرپختونخوا میں26 ٹوبیکو فیکٹریوں کو سیل کرنے اور وہاں پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے خلاف دائر رٹ پر تمام فیکٹریوں کو فوری طور پر کھولنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ ہفتے کے روز اس حوالے تحریری حکم جاری کر دیا گیا۔پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس اعجاز خان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے خیبرپختونخوا میں 26 ٹوبیکو فیکٹریوں کی بندش کے اور سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے خلاف دائر رٹ درخواستوں پر سماعت کی۔درخواست گزاروں کے وکیل اسحاق علی قاضی نے عدالت کو بتایا کہ ایف بی آر نے تمباکو کے کارخانوں میں کیمرے نصب نہ کرنے کے پاداش میں صوبے کی 26 سگریٹ فیکٹریوں کو سیل کر دیا ہے حالانکہ خیبرپختونخوا کے علاوہ ملک کے کسی بھی صوبے میں فیکٹریوں میں کیمرے نصب نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایف بی آر کی ہدایت پر فیکٹریوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جا چکے تھے اور 25 اگست تک کا وقت بھی دیا گیا تھا اس کے باوجود فیکٹریوں کو سیل کر دیا گیا جو غیر آئینی اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبہ پہلے ہی سے دہشت گردی اور قدرتی آفات کی وجہ سے مسائل سے دوچار ہے ان خالات میں مذید لوگوں کو بے روزگار کیا جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔اسحاق قاضی نے مذید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے سرمایہ کاروں کے لئے مزید مسائل پیدا ہونگے لہذا ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے تا کہ سرمایہ کاری بڑھ سکے ۔ اس دوران عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ صرف خیبرپختونخوا کی ٹوبیکو فیکٹریوں کو کیوں بند کیا گیا ہے؟۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سیکشن 14 بی کے تحت کارخانوں میں افسران کی تعیناتی بھی کی جا چکی ہے لیکن اس کے باوجود فیکٹریوں کو سیل کر دیا گیا۔دوران سماعت عدالت نے کہا کہ ایف بی آر کی کارروائی کے باعث سگریٹ انڈسٹری میں کام کرنے والے درجنوں ملازمین بے روزگار ہو گئے ہیں۔ عدالت نے ایف بی آر سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا اور درخواست گزاروں کیخلاف کسی بھی کارروائی سے روک دیا۔بعد ازاں عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے آئندہ تاریخ پر مزید دلائل طلب کر لیے۔