کراچی(نیوزڈیسک)وفاقی اردو یونیورسٹی میں ریٹائرڈ اساتذہ و ملازمین کی کمیٹی کنوینر ڈاکٹر توصیف احمد خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے وفاقی محتسب کے واضح احکامات کے باوجود ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین کے بعد از ریٹائرمنٹ بقایاجات کے مسئلے کو سینیٹ کے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے بلکہ اساتذہ برادری میں شدید تشویش اور اضطراب کا باعث بھی بنا ہے۔تفصیلات کے مطابق ریٹائرڈ اساتذہ نے وفاقی محتسب کی عدالت میں شکایت درج کروائی تھی کہ یونیورسٹی کے پاس پینشن فنڈز میں خطیر رقم کی موجودگی کے باوجود بقایاجات کی ادائیگی اور ماہانہ پینشنز میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ عدالت میں اپنے جواب میں یونیورسٹی نے اعتراف کیا کہ اس کے پاس پینشن اور جی پی فنڈز میں 670 ملین روپے کے فنڈز موجود ہیں جو مختلف اسکیموں میں سرمایہ کاری کی غرض سے محفوظ کیے گئے ہیں۔وفاقی محتسب کی عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا تھا کہ یہ معاملہ سینیٹ کے اجلاس میں پیش کیا جائے اور تقریباً 270 ملین روپے مالیت کے بقایاجات فوری طور پر ادا کیے جائیں۔ تاہم وائس چانسلر نے نہ صرف اس فیصلے پر عمل درآمد میں تاخیر کی بلکہ اسے آئندہ سینیٹ اجلاس کے ایجنڈے میں بھی شامل نہیں کیا۔ ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین نے وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور وائس چانسلر کو حکم دیں کہ وفاقی محتسب کے فیصلے کو عدالتی ہدایات کے مطابق سینیٹ کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے تاکہ ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین کو ان کا حق مل سکے۔