• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سری لنکا کا معاشی بحران، قرضوں نے عوام سے منہ کا نوالہ چھین لیا

کراچی (نیوز ڈیسک) سری لنکا کا معاشی بحران،قرضوں نے عوام سے منہ کا نوالہ چھین لیا۔ شدید بحران کی بڑی وجوہ میں غیر پائیدار قرضے، ناقص مالیاتی نظم و نسق اور سخت آئی ایم ایف شرائط شامل ہیں۔معاشی بحالی کے نام پر نجکاری، سبسڈیز خاتمہ، ٹیکسزاور پنشن و اجرتوں پر دباؤسے مشکلات،افریقہ سے ایشیا اور لاطینی امریکہ تک، اربوں لوگ بھوکے جبکہ قرض خواہ منافع کما رہے ہیں۔ صحت ، تعلیم پر اخراجات کم ، قرضوں پر سود کی ادائیگی کئی گنا زیادہ ، یہ صرف سری لنکا کا مسئلہ نہیں۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سری لنکا 2022 کے معاشی دیوالیہ پن کے بعد اب بھی شدید بحران سے گزر رہا ہے ۔ اندازوں کے مطابق 63 لاکھ افراد کھانے کے لیے خوراک چھوڑنے پر مجبور ہیں جبکہ لاکھوں شدید قلتِ خوراک کا شکار ہیں۔ صحت اور تعلیم پر اخراجات کم جبکہ قرضوں کے سود کی ادائیگی کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ صرف سری لنکا کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے گلوبل ساؤتھ کا بحران ہے، جہاں نصف دنیا ایسے ممالک میں رہتی ہے جو تعلیم و صحت کے مقابلے میں زیادہ پیسہ قرضوں کے سود پر خرچ کرتے ہیں۔ ماہرین اور عوامی تحریکیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ قرضوں کے نظام میں بنیادی تبدیلی کی جائے، تاکہ عوامی مفاد کو قرض خواہ اداروں کے منافع پر ترجیح دی جا سکے۔

دنیا بھر سے سے مزید