• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غزہ فوج بھیجنے کیلئے تیار، حماس کو غیرمسلح کرنے کے مخالف، پاکستان

اسلام آباد ( ماریانہ بابر/ فاروق اقدس) پاکستان غزہ میں فوج بھیجنے پر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے حماس کو غیر مسلح کرنے کی مخالفت کردی ہے ، نائب وزیراعظم ووزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ غزہ میں فوج بھیجنے کیلئے تیار ہیں تاہم حماس کو غیر مسلح کرنے کے مخالف ہیں ، انہوں نے واضح کیا کہ عالمی استحکام فورس میں ضوابط کار اور مینڈیٹ کےفیصلے تک اس فورس میں شرکت نہیں کریں گے،ہمارا کام غزہ میں امن قائم رکھنا ہے نافذ کرنا نہیں ہے،افغانستان کے اندر کارروائی کرنا چاہتے تھے، قطر نے ہمیں روک دیا،فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے پاک افغان سرحد کو کھول کر افغانستان کے عوام کے لئے کچھ ضروری انسانی خوراک کی اشیاء بھیجنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، سرحد پر ٹرکوں میں موجود خوراک کی یہ کھیپیں بھیجنے سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کا انتظار ہے، طالبان کی رجیم میں آدھے صلح پسند ہیں اور آدھے چاہتے ہیں یہ سب چلتا رہے، وہ وقت دور نہیں جب مسلم اور غیرمسلم دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے اکٹھے ہو جائیں گے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے دفترِ خارجہ میں میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔پاکستان نے اکتوبر میں تمام سرحدی گزرگاہیں اس وقت بند کر دی تھیں جب طالبان فورسز نے سرحدی علاقوں میں پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کیے تھے، جن میں متعدد پاکستانی فوجی شہید ہوئے تھے۔دفترِ خارجہ میں میڈیا بریفنگ کے دوران نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے بتایا’’گزشتہ روز اقوامِ متحدہ نے مجھ سے افغانستان کے لیے ضروری خوراک کی انسانی امداد بھیجنے پر غور کرنے کی درخواست کی۔ میں نے گزشتہ شب فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے بات کی اور انہوں نے اس کی منظوری دے دی ہے۔ اب وزیر اعظم شہباز شریف کی اجازت درکار ہے، جو اس وقت لندن میں ہیں اور ابھی ان سے بات ہونا باقی ہے۔ امید ہے کل تک کوئی مثبت پیش رفت ہوگی۔‘‘ڈار نے زور دیا کہ یہ انسانی بنیادوں پر بھیجا جانے والا سامان افغان عوام کے لیے ہے، کسی اور کے لیے نہیں، خصوصاً ٹی ٹی پی کے لیے نہیں۔ایک طنزیہ جملے میں انہوں نے کہااگر ممکن ہو تو میں خوراک کے تمام پیکٹس پر یہ لیبل لگا دوں کہ اگر ٹی ٹی پی نے یہ چیزیں کھائیں تو انہیں دست لگ جائے گا۔‘‘پہلی مرتبہ نائب وزیر اعظم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستان افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کے خلاف “کائنیٹک آپریشن” کے لیے مکمل تیار تھا اور صفائی کے اس بڑے آپریشن کے آغاز کا فیصلہ کرلیا گیا تھا۔ لیکن قطر نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں ہر گھنٹے فون کر کے درخواست کی کہ اس فیصلے کو روکا جائے اور ثالثی کے ذریعے سفارت کاری کو موقع دیا جائے۔“قطر کو ہمارے طے شدہ حرکی ( کائینیٹک) آپریشن کا علم ہو گیا تھا اور انہوں نے ہم سے رکنے کی درخواست کی اور پاکستان و افغانستان کے درمیان مسئلہ حل کرنے کی ذمہ داری لی۔ بعد ازاں میں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے رابطہ کیا۔ دونوں نے اتفاق کیا اور میں نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس آپریشن کو روکا۔‘‘تاہم انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ کائنیٹک آپریشن کا آپشن اب بھی میز سے ہٹا نہیں ہے اور اگر افغانستان کی حکومت نے سرحد پار سے ہونے والے حملے نہ روکے تو پاکستان یہ فیصلہ کن کاروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔ڈار نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے جاری حملے اب ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں اور جب وہ افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پاکستانی فوجیوں کی نمازِ جنازہ میں شریک ہوتے ہیں تو انہیں شدید مشکل صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا افغانستان سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ میں اس مسئلے کا مخلصانہ حل چاہتا تھا اسی لئے تین بار کابل گیا۔ میں افغانستان کے لیے بہت احساس رکھتا ہوں، وہ مسلمان ملک ہے، خشکی سے گھرا ہوا ہے اور تعلقات کی کئی دہائیوں کی تاریخ ہے۔‘‘افغانستان کی جانب سے نئی تجارتی راہیں تلاش کرنے کے بارے میں، جن میں بھارت کے ساتھ امکانات بھی شامل ہیں، ڈار نے کہا کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں:’’ عزتِ نفس اور وقار کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ ہم سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس بھی متبادل تجارتی راستے موجود ہیں۔ مگر اگر افغانستان بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اپنائے گا تو پاکستان سو قدم آگے بڑھے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ اب بھی پرامید ہیں اور قطر و ترکی کی ثالثی جاری ہے۔وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان غزہ کے لیے بین الاقوامی امن فورس میں اپنے فوجی بھیجنے کے لیے تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر فورس مہیا کرے گا۔ مگر حکومت دوبارہ مشاورت کر رہی ہے کیونکہ اب نئے نکات سامنے آئے ہیںجن کے مطابق اس فورس کو حماس کو غیر مسلح کرنے کا کام بھی دیا جاسکتا ہے۔ابتدا میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اصولی طور پر اس میں شرکت کی منظوری دی تھی۔انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) کا تصور ٹرمپ امن معاہدے کا حصہ تھا۔وزیر اعظم نے بھی اصولی طور پر پاکستان کی شرکت پر آمادگی ظاہر کی تھی۔لیکن ڈار نے واضح کیا کہ اب یہ دعویٰ سامنے آرہا ہے کہ ISF کی ذمہ داری حماس کو غیر مسلح کرنا ہوگی۔انہوں نے کہاکہ حماس کو غیر مسلح کرنے کی بات پہلی بار ریاض میں دو ریاستی حل کے حوالے سے ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔ ہم اس کے لئے تیار نہیں۔ یہ ہمارا کام نہیں بلکہ فلسطینی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے۔ ہمارا کردار امن قائم کرنا ہے، امن مسلط کرنا نہیں۔ ہم ISF میں شرکت کےلئے تیار ہیں لیکن اس وقت تک فیصلہ نہیں ہوسکتا جب تک فورس کا مینڈیٹ اور TORs طے نہ ہوجائیں۔ میری معلومات کے مطابق اگر اس میں حماس کو غیر مسلح کرنا شامل ہوا تو میرے انڈونیشی ہم منصب نے بھی اپنی غیر رسمی تشویش ظاہر کی ہے۔‘‘ابتدا میں انڈونیشیا پہلا اسلامی ملک تھا جس نے 20 ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کیا تھا، لیکن غیر مسلح کرنے کی شرط نے اسے بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ڈار نے آخر میں کہا کہ پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ ایسے کسی بھی مشن کا مینڈیٹ واضح اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہونا چاہیے۔فاروق اقدس کے مطابق اسحاق ڈار نے افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والے حملوں پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی رجیم میں آدھے صلح پسند ہیں اور آدھے چاہتے ہیں یہ سب چلتا رہے۔‘اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’مسئلے کا حل ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی میں ہے۔ ان کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا اور اپنی کمزوری کو دور کرنا ہوگا۔ ’وہ وقت دور نہیں جب مسلم اور غیرمسلم دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے اکٹھے ہو جائیں گے۔‘ہفتےکو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’چین کے ساتھ کیا ہوا ہے، امریکا میں کیا ہوا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب مسلم اور غیرمسلم دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے اکٹھے ہو جائیں گے۔ اس سے بہتر نہیں ہے کہ ہم مل کر اپنے خطے کو دہشت گردی سے پاک کر لیں۔

اہم خبریں سے مزید