اسلام آباد( نمائندہ جنگ)نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان واحد ملک ہے جو کلمہ پر بنا۔جس نے اس ملک کی خدمت کی اللّٰہ نے اس کو اجر دیاجس نے پاکستان سے غداری کی اور اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی وہ عبرت کا نشان بنے، انہوں نے ان خیا لات کا اظہار ہفتہ کے روزوزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام منعقدہ بین الاقوامی قرات مقابلے کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر وزیرمذہبی امورسرداریوسف نے کہا کہ نظام صلوۃ اور باجماعت نماز کا نظام پورے ملک میں علماء کی مشاورت سے شروع کر رہے ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کنڈی،وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور وزیر ریلوے حنیف عباسی بھی شریک ہوئے۔پہلے بین الاقوامی مقابلہ قرات میں ملائیشیا کے قاری ایمن رمضان نے پہلی پوزیشن حاصل کی ۔ایران کے قاری عدنان مومن نے مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔پاکستان کے قاری عبدالرشید بین الاقوامی مقابلہ قرات میں تیسرے نمبر پر رہے۔افغانستان کے قاری چوتھے انڈونیشیا کے قاری نے مقابلہ میں پانچویں،مراکش کے قاری نے چھٹی پوزیشن حاصل کی۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اوروفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے پوزیشن حاصل کرنے والے قرآ میں انعامات تقسیم کئے۔تفصیلات کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں غزہ،غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر ، لبنان، عراق، شام کے حالیہ واقعات سمیت ایران اور قطر پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کو بالخصوص اور باقی دنیا کو بالعموم بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحد ہوکر زمین کی کوئی طاقت ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے امت کو وسائل سے نوازا ہے۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کسی بھی قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کی اجازت نہیں دیتی اور یہ کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے جبکہ ایک انسان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے اور اس جنگ میں سب متحد ہیں، انہوں نے کہا کہ 2017 اور 2018 میں نواز شریف کے دور حکومت میں انہوں نے پاکستان سے دہشت گردی اور خودکش دھماکوں کی لعنت کو مکمل طور پر ختم کردیا تھا۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرنا چاہیے ، انہوں نے کہا کہ سال 2021 سے 2025 کے دوران سیکورٹی فورسز کے تقریباً 4 ہزار بہادر بیٹوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جام شہادت نوش کیا جب کہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ موجودہ حکومت اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر دہشت گردی کے کینسر کو سرزمین سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کےلئے پرعزم ہیں۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مختلف ممالک سے آنے والے تمام شرکاءکو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ اس بین الاقوامی ایونٹ کو سالانہ فیچر بنایا جائے گا۔ انہوں نے نوجوان شرکاءکو نصیحت کی کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کریں اور امت مسلمہ کو مضبوط کرنے اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کےلئے ہمدردی، محبت، انسانیت، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے اوصاف کو پروان چڑھائیں۔ نائب وزیر اعظم نےکہا کہ پاکستان کا آئین اسلامی تعلیمات کے تصورات پر مبنی ہے۔وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر سے آئے قرا کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام تقریب ہمارے لئے باعث فخر ہے۔قرآن دلو ں کو جوڑتا اور سکون کا باعث ہے۔پاکستان کے لئے اعزاز کی بات ہے کہ پاکستان کی نسبت قران سے جڑی ہے۔پاکستان 27 رمضان کو بنا،قران بھی 27 رمضان کو نازل ہواپاکستان کی نسبت قرآن سے منسک ہے37 ممالک کے قرا پاکستان میں آئے ہم خوش نصیب قرا کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ قران مجید ہمارے لیے ہدایت کا سر چشمہ ہےقرآن مجید کو نازل کرکے ہم پر اللہ کا احسان ہے پاکستان میں تلاوت اور فروغ کے لئے کردار خراج تحسین کے قابل ہے۔قرا کی تلاوت سے دل منور ہوادنیا کے قرا کا اس تقریب میں شامل ہوکر یکجہتی کا پیغام دیا۔مختلف ممالک کے سفرا اور ارکان پارلیمنٹ نے بھی شرکت کی ہمیں اپنی زندگی قران کے مطابق گزارنی چائیے۔نوازشریف کے دور حکومت میں ہم نے اسلامی اصلاحات کیں ،جو بعد میں تعطل کا شکار ہوئیں۔ نظام صلوۃ سمیت دیگر اصلاحات پر موجودہ حکومت نے دوبارہ کام شروع کیا ہے۔نظام صلوۃ اور باجماعت نماز کا نظام پورے ملک میں علماء کی مشاورت سے شروع کر رہے ہیں۔ عربی سیکھنا بہت ضروری ہےپاکستان میں ہم قران مجید کی تلاوت کرتے ہیں مگر سمجھنے سے قاصر ہیں ۔عربی زبان سکھانے سے متعلق یونیورسٹی میں کورسز کا آغاز کر رہے ہیں ۔ہر سال ہم بین الاقوامی مقابلہ قرات کروائیں گے۔دنیا بھر کے قرا نے مقابلہ میں قرات کی پاکستان سمیت دنیا بھر کے ججز نے اس ایونٹ میں اپنا اہم کردار ادا کیاہم قران کی تعلیمات نبی پاک کی اسوہ حسنہ سے ملک اور دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہےبین الاقوامی قرات مقابلہ سےپیغام قران پوری دنیا جائے گا۔ہم اگلے سال مسلم ممالک سمیت جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں ان تمام ممالک کو دعوت دیں گے۔ وزیراعظم شہبازشریف ،قاری سید صداقت اور فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر سمیت دفتر خارجہ کے تعاون پر شکرگزار ہوں۔اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل او آئی سی طارق علی بخیت نے کہا کہ آج کی تقریب میں شرکت کرنا باعث فخر ہے۔قرآن مجید کی تلاوت دلون کو سکون دیتی ہے۔ قرآن مجید کی ترویج کے لئے پاکستان او آئی سی کے ساتھ اہم تعاون کر رہا ہے۔ قرآن کی تعلیمات پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک لڑی میں پروتے ہیں۔ ایسے ایونٹ سے امہ میں مزید اتحاد و اتفاق پیدا ہوگا۔قرآ ت مقابلہ میں تمام شرکا کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔