• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے اپنے قومی مفاد میں کئے ہر فیصلے کی چین حمایت کرتا ہے، چینی قونصل جنرل

لاہور(آصف محمود بٹ ) لاہور میں تعینات چینی قونصل جنرل ژائو شیرین نے کہا ہے کہ پاکستان کے اپنے قومی مفاد میں کئے گئے ہر فیصلے کی چین حمایت کرتا ہے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ چین پاکستان دوستی پر کوئی آنچ نہ آئے۔ چین اور پاکستان کی اعلی سیاسی قیادت کے درمیان ایک اعتماد اور اعتبار موجود ہے۔پاکستان کے سابق قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان نے انڈیا کو جنگ میں شکست دیکر انڈو پیسفک سٹرٹیجی کا بیڑہ غرق کردیا اور چین کو نئی زندگی دی ہے۔ خارجہ امور کے ماہر محمد مہدی نے کہا کہ چین کی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کیلئے بھرپور حکمت عملی اپنائی جائے۔ میجر (ر) نئیر شہزاد کا کہنا تھا کہ پاکستان کوچین اور امریکہ تعلقات میں بیلنس رکھنا ہوگا۔مقامی کلب میں ’’پاکستان چین تعلقات اور امریکہ ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کے دوران چینی قونصل جنرل نے مزید کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی، عسکریت پسندی اور انتہا پسندی سے بہت نقصان ہوا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ پاکستان یہ جنگ جیتے گا ہم پاکستان کے ساتھ ہیں چاہے اس کی کچھ بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ اس کے لئے آئیں مل کر کام کریں ۔ چینی قونصل جنرل ژائو شیرین نے کہا تاریخ میں ہمیشہ امریکہ نے دہشت گردی کی بات کی جبکہ چین نے ہمیشہ پاکستان کی معیشت کی بات کی۔چینی قونصل جنرل نے نے انکشاف کیا کہ ایم ایل ون منصوبہ پاکستان ریلوے اور چین مل کر ایشین انفراسٹرکچر بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی مدد سے شروع کرہے ہیں ۔ ژائو شیرین نے کہا کہ ایم ایل ون منصوبہ پاکستان ریلوے کی ماڈرنائزیشن اور ریجنل کنکٹویٹی کے لئے ایک اہم ترین پراجیکٹ ہے ،اس پر ابتدائی کام ہوچکا ہے اور آئندہ سال ایم ایل ون منصوبے کا کراچی سے روہڑی سیکشن کا افتتاح ہو جائیگا۔ ژائو شیرین نے کہا کہ جب سے سی پیک شروع ہوا ، سوشل میڈیا پر ایک نام نہاد ’’ڈیٹ ٹریپ ‘‘ (Debt Trap) کا بیانیہ شروع ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین پاکستان کو قرض دے رہا ہے لیکن یہ قرض پاکستان پر بوجھ نہیں ۔ پاکستان کے سابق قومی سلامتی کے مشیر لیفٹننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان نے چین سے صرف لیا ہی نہیں بلکہ چین کے لئے بہت کچھ کیا بھی ہے جو ہمارے لئے فخر کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف اپنے پرانے دشمن بھارت کو شکست دی ہے بلکہ چین کے مستقبل کے دشمن کو بھی شکست دی ہے۔قومی سلامتی کے سابق مشیر نے کہا پاکستان ایک عظیم قوم ہے جس نے چین کو ایک نئی لائف لائن دی ہے اور سی پیک بھی ایک لائف لائن ہے۔ سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ انشی ایٹو سے پاکستان چین کو افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک لے کر جائیگا اور پاکستان ہی ہے جو ایشیا کو یوریشیا بنائے گا۔ خارجہ امور کے ماہر محمد مہدی نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں جن میں تعاون، پابندیوں اور پالیسی تبدیلیوں کے نشیب و فراز شامل رہے ہیں۔محمد مہدی نے کہا کہ جنرل مشرف کے دور میں امریکہ کا بھارت کے ساتھ سول نیوکلیئر معاہدہ اور پھر انڈو پیسفک حکمت عملی خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرنے کا سبب بنے، اس کے برعکس 2019 کی بالا کوٹ کشیدگی میں چین نے پاکستان کی واضح حمایت کی جبکہ ابتدائی میں امریکہ کا جھکائو بھارت کی طرف تھا۔محمد مہدی نے پاک چین تجارت میں عدم توازن کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اس میں پاکستان کی اپنی پالیسی کمزوریاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ چین کی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے لیے بھرپور حکمت عملی اپنائی جائے۔ میجر (ر) نئیر شہزاد نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں لیکن چین کے ساتھ دوستی کا رشتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک سپر پاورز ہیں اس لئے پاکستان کو دونوں ملکوں کے ساتھ تعلقات میں بیلنس رکھنا ہوگا۔ پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ ماس کمیونیکیشن کی سربراہ ڈاکٹر سویرا نے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی دوستی لازوال ہے اور ہم کو بہت اہمیت دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں تعاون مزید بڑھانا چاہئیے۔ منہاج یونیورسٹی کے شعبہ فنانس کے سربراہ ڈاکٹر اشفاق نے کہا کہ سی پیک ایک گیم چینجر ہے جس سے پاکستان کی معیشت کو فائدہ ہوگا۔ یو ایم ٹی کی پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ کاظمی نے کہا کہ پاکستان نے چین سے ملٹری ہارڈوئیر لیا جو آپریشن بنیان مرصوص میں نظر آیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پالیسی میکرز کے لئے امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھنا چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید