ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید اور ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے کہا ہے کہ نیپا واقعے کی انکوائری شروع کردی ہے کہ مین ہول کا ڈھکن کیوں نہیں تھا۔
سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ جس کی بھی غفلت ہوگی اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو1122 اور واٹر کارپوریشن کا عملہ موقع پر موجود ہے، بچے کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے نیپا واقعے کے بعد تمام ریسکیو اداروں کو الرٹ کردیا ہے اور بچے کو جلد از جلد تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ریسکیو ٹیمیں اور کے ایم سی حکام سمیت واٹر کارپوریشن اور سندھ سالٹ ویسٹ کا عملہ بھی موقع پر موجود ہے۔
واضح رہے کہ 3 سال کا ابراہیم ولد نبیل نیپا شورنگی پر واقعے ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں شاپنگ کے لیے آئی فیملی کے ساتھ آیا تھا کہ وہاں موجود کھلے ہوئے مین ہول میں گر گیا۔