اسلام آباد(فاروق اقدس) پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جب تک افغان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی کی روک تھام کی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی جاتی اس وقت تک سرحد بند رہے گی، مسئلہ صرف ٹی ٹی پی یا ٹی ٹی اے نہیں افغان شہری بھی پاکستان میں سنگین جرائم میں ملوث ہیں، سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس کا علم ہے، ترکیہ وفد کے نہ آنے کی وجہ طالبان کا عدم تعاون ہوسکتا ہے،اسرائیل کیساتھ کسی قسم کا تعاون نہیں ہو رہا، جاسوسی یا اسپائی ویئر سے متعلق تمام رپورٹس محض قیاس آرائیاں ہیں،صدر پیوٹن کا دورہ بھارت دونوں خودمختار ممالک کا باہمی معاملہ ہے، بھارتی حکومت کی مسلمانوں کیخلاف امتیازی پالیسوں پر تشویش ہے، پاکستان،چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے متعلق معاملات میں اسکی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعہ کو اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کل بابری مسجد کا 33 واں یوم شہادت ہے ہمارے لیے یہ واقعہ اج بھی تشویش اور دکھ کا باعث ہے مسلم مذہبی علامتوں اور تاریخی بر ورثے کو نقصان پہنچانے کے ہر عمل کا شفاف احتساب ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کی تنظیموں کی جانب سے موصول ہونے والی باضابطہ درخواست کے بعد پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کی باضابطہ اجازت دی ہے تاہم تجارت کیلئے بندش برقرار رہے گی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی معاملے میں خصوصا جاسوسی کے سامان یا اس نوعیت کے کسی بھی آلے پر کسی قسم کا کوئی بھی تعاون نہیں ہے۔ ترجمان نے اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے اسے سختی سے مسترد کر دیا۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اکتوبر میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد دو طرفہ سرحد بند ہے اور صرف افغان شہری جو پاکستان سے بے دخل کیے جا رہے ہیں اور انکے پاس گزرنے کا اجازت نامہ بھی موجود ہے وہی افغان سرحد عبور کر سکتے ہیں۔ طاہر اندرابی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان چین کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت سے متعلق معاملات میں چین کی مکمل حمایت کرتا ہے اور چین کی جانب سے زنگنان (ارونا چل پردیش) سے متعلق بیان پر اور بھارتی میڈیا کے رد عمل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام صورتحال سے اگاہ ہے اور چین کی وزارت خارجہ کے بیان پر نوٹس لیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ ترک صدر نے دو ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ ایک اعلی سطحی ترکیہ اسلام آباد آئیگا، ترکیہ وفد کے نہ انے کی وجہ شیڈولنگ ہو سکتی ہے یا پھر طالبان کی طرف سے تعاون کی عدم دستیابی ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے سرحد کی بندش ہم نے اپنی حفاظت کیلئے کی ہے ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے شہری دہشت گردی کا نشانہ بنیں۔