السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
ساتھ دو تصاویر بنوائیں
چند ہفتوں کی غیرحاضری کے بعد ایک بار پھر بزم میں شریک ہوں۔ تازہ شمارہ دیکھا، بے حد اچھا، ہر لحاظ سے معیاری لگا۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں عظیم المرتبت صحابیٔ رسول ؐ ، حضرت عمّار بن یاسرؓ سے متعلق محمود میاں نجمی کی تحریردِلوں کی روشنی کے لیے بہترین کاوش تھی۔ سیّدہ تحسین عابدی، سندھ حکومت کی ترجمان ہیں، لیکن جو تحریر لکھی، قارئین کے دِلوں میں اُتر گئی۔ ’’عالمی یومِ فالج‘‘ کے موقعے پر پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک نے مرض سے متعلق نہایت مفید معلومات فراہم کیں۔
’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ میں ’’ایک وڈیرے کی کہانی‘‘ زبردست تھی۔ مرتّب، عرفان جاوید کے حُسنِ انتخاب کو داد دیتا ہوں۔ شعلہ بیاں مقرر، صحافی اور زندگی بھر دُکھی انسانیت کے لیے سرگرمِ عمل ظہور الحسن بھوپالی سے متعلق حاجی حنیف طیِب کامضمون بھی اچھا تھا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں ثانیہ انور نے ’’سفر‘‘ کی صُورت بہترین افسانہ پیش کیا۔
مَیں نے بھی’’یہ ہے قانونِ قدرت‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر رقم کی تھی، جسے آپ نے ’’ناقابلِ اشاعت کی فہرست‘‘ میں ڈال دیا، جس سے مجھے دلی صدمہ ہوا، حالاں کہ وہ کہانی حقیقت پر مبنی تھی۔ اور اب آخر میں بات، اپنے استاد سید سلیم احمد سلمٰی، المعروف چاچا چھکن کی۔ مَیں نے گزشتہ دِنوں اُن کے بُک اسٹال پر جاکراُن سےملاقات کی۔ وہ بھی مجھے دیکھ کے بہت مسرور ہوئے۔ اس موقعے پر ہم نے ساتھ دو تصاویر بھی بنوائیں، جو ارسالِ خدمت ہیں۔ (اسلم قریشی، آٹو بھان روڈ، ٹھنڈی سڑک، حیدرآباد)
ج: فیس بُک، واٹس ایپ ڈی پیز کی صُورت، لوگوں کے اتنے بڑے بڑے منہ (کلوز شاٹس) دیکھ دیکھ کر ویسے ہی طبیعت اوب گئی ہے اور اب یہ نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔ بھئی، آپ کی مہربانی، یہ ایسی سلفیز آپ اپنے ریکارڈ کے لیے سنبھال رکھیں، ہمیں غیرضروری طور پر کسی کی تصاویر دیکھنے، سنبھال رکھنے میں قطعاً کوئی دل چسپی نہیں۔
پوری لسٹ پڑھ ڈالی
’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا موجود تھے، مضمون ہمیشہ کی طرح بہت پسند آیا۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کی کہانی ’’ایک وڈیرے کی کہانی‘‘ کا جواب نہ تھا، بہت ہی اچھی لگی۔ بے حد شکریہ، عرفان جاوید!! اختر سعیدی تین عدد نئی کتابوں پر تبصرہ فرما رہے تھے۔
’’متفرق‘‘ میں شیراز عالم مری نے ضلع کوہلو کے تعلیمی صورتِ حال کا نوحہ بیان کیا۔ ارے واہ! ’’ڈائجسٹ‘‘ میں ادبی شگوفے پڑھ کر تو دل ہی خوش ہوگیا اور ہاں، ’’ناقابلِ اشاعت‘‘ کی لسٹ بھی پوری پڑھ ڈالی۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)
ج: آپ کی مہربانی، ویسے فہرست پڑھنے ہی کے لیے شائع کی جاتی ہے۔
ہمارے قائد کے پیغام پرعمل
محمود میاں نجمی، حضرت عثمان بن مظعون ؓ سے متعلق ایمان افروز تحریر لائے۔ منور مرزا تارکینِ وطن کو دیارِغیر کے قوانین کے احترام کی نصیحت کررہے تھے۔ رابعہ فاطمہ پاکستان میں ماحولیاتی بگاڑ پر نوحہ کُناں تھیں۔ دراصل قیامِ پاکستان کے بعد ہی سے یہاں جاگیردارانہ نظام حکومتوں کی مجبوری بن چُکا ہے۔ تنویر ہاشمی چین کے دورے سے متعلق قلم آراء تھے۔
ویسے چین کا نام سُنتے ہی دل کو چَین سا ملتا ہے کہ چینیوں نے ہمارے قائد کے پیغام ’’کام، کام اور کام‘‘ پر بھرپورعمل کیا۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں جمشید صدیقی بھنڈی کی افادیت بتا رہے تھے، تو ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں ماڈلز میرب اور ملائکہ کی جوڑی نے خُوب رونق لگائی۔
ڈاکٹر سکندر اقبال بہترین موضوعات کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں۔ منورراجپوت کتابوں پر بہترین تبصرہ کر رہے تھے۔ عرفان جاوید بھی ہر ہفتے کوئی نہ کوئی سبق آموز افسانہ چُن لاتے ہیں۔ اور… بزم کے سبھی قارئین کے خطوط اعلیٰ تھے، تو جوابات اعلیٰ تر۔ (شمائلہ نیاز، دائرہ دین پناہ، تحصیل کوٹ ادّو، ضلع مظفّرگڑھ)
لاکٹ سونے کا تھا یا آرٹی فیشل؟
شمارہ ملا، اِس بار ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ پر ماڈلز صبا، احمد اور حمزہ جلوہ افروز تھے، جنہوں نے میگزین کو خُوب رونق بخشی۔ دُعا ہے، ہمیشہ ہنستے مُسکراتے رہیں، سلک کی پیرٹ گرین اور سیاہ رنگ ساڑی میں ملبوس ماڈل چاند چہرے کے ساتھ اچھی لگی، بس، اِس سے زیادہ تعریف نہیں کروں گا کہ اِس معاشرے میں تو تعریف بھی جُرم بن جاتی ہے۔ اب پتا نہیں، صبا کے گلے میں پڑا لاکٹ گولڈ کا تھا یا آرٹی فیشل؟ خیر، میگزین کے مندرجات پر بات کرتے ہیں، ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ پر ’’روشنی کے مینار‘‘ کے تحت، محمود میاں نجمی صحابیٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت عمّار بن یاسر ؓ اور اُن کے خاندان کی زندگیوں پر روشنی ڈال رہے تھے۔
منیر احمد خلیلی کی تحریر شاملِ اشاعت نہیں ہورہی، جانے کیا وجہ ہے۔ ثانیہ انور کے ’’سفر‘‘کا جواب نہ تھا، بلکہ یہ شمارے کی نمبر ون تحریر تھی۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کا رائٹ اَپ بھی ثانیہ انور نے لکھا اور بےمثال لکھا۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں سیّدہ تحسین عابدی کا مضمون ’’پاکستان اور موسمیاتی تبدیلی‘‘ بہت اچھا تھا۔ ماہین خان، جامعہ کراچی کی طالبہ انیقہ سعید کی حادثاتی موت کا ذکر کررہی تھیں، جس پر دلی دُکھ ہوا۔ اب کی بار’’آپ کا صفحہ‘‘تو مَردوں (میل) کا صفحہ بنا ہوا تھا، کسی بھی خاتون نامہ نگار کا خط شامل نہ ہوا۔
شمائلہ نیاز، رونق افروز، نرجس مختار، شائستہ اظہر، حتیٰ کہ قرات نقوی کی ای میل بھی نہ تھی۔ ویسے میگزین کی ہر تحریر ایک سے بڑھ کر ایک تھی، لیکن اتفاق سے تمام کے تمام لکھاری ڈاکٹر تھے، جس سے یوں لگا، جیسے میگزین کا مطالعہ نہیں کررہے، گوجرانوالہ کے سول اسپتال کے دورے پر ہیں۔ شیراز عالم مری نے ضلع کوہلو کے سنگین تعلیمی بحران کا احوال بتایا۔ اربابِ اختیار کواس جانب توجّہ کی ضرورت ہے۔ جب کہ منور مرزا ’’غزہ میں امن کی سحر…‘‘ کے عنوان سے شان دارتجزیے کے ساتھ آئے۔ نگہت سلطانہ نے بھی عالمی ضمیروں کو خوب جھنجھوڑا۔ اورہاں،رفاقت حیات کی تحریر ’’ایک وڈیرے کی کہانی‘‘ کی آخری قسط بھی بہترین تھی۔ (محمّد صفدر خان ساغر، نزد مکی مسجد، محلہ شریف فارم، راہوالی، گوجرانوالہ)
ج: کچھ لوگوں سے متعلق کبھی خیال آتا ہے کہ ’’شاید کچھ زیادہ ہی ہوگیا ہے۔‘‘ اور کچھ سے متعلق دل کہتا ہے۔ ’’ابھی ہاتھ تھوڑا ہولا ہے، طبیعت ٹھیک سے صاف کی جانی چاہیے۔‘‘اور چشمِ بد دُور، آپ کا شمار موخرالذکر میں ہوتا ہے۔ ماڈل کالاکٹ، گولڈ کا ہو یا آرٹی فیشل، آپ کی دیکھنے، چھونےکی حسرت کم ازکم اِس جنم میں تو پوری ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ اور رونق افروز برقی کو کہاں خواتین میں شامل کرلیا، وہ توآپ ہی کے ہم جنس ہیں۔
حفیظ میرٹھی کا شعر ہے؎ اِک اجنبی کے ہاتھ میں دے کر ہمارا ہاتھ..... لو، ساتھ چھوڑنے لگا، آخر یہ سال بھی۔ ’’سالِ نو‘‘ لاکھ اجنبی، ناشناسا ہو، لیکن ’’اپنا‘‘ بن ہی جاتا ہے بلکہ بنانا، اپنانا ہی پڑتا ہے۔ جیسے 2025ء اپنایا گیا۔
سالِ رفتہ کے 52 ہفتے، 365 ایّام، 8760 گھنٹے بھی جیے ہی گئے یا یوں کہہ لیں، جینے ہی پڑے۔ بقول خوشبیر سنگھ شاد؎ کوئی سوال نہ کر، اور کوئی جواب نہ پوچھ..... تُو مجھ سے عہدِ گزشتہ کا اب حساب نہ پوچھ..... سفینے کتنے ہوئے اِس میں غرقِ آب نہ پوچھ..... تُو میرے دل کے سمندر کا اضطراب نہ پوچھ۔
ہاں، مگر ہر سال کی طرح، اِمسال بھی ’’سال 2025ء کی بہترین چِٹھی‘‘ سے متعلق ضرور پوچھا جائے گا۔ کوئی نہ بھی پوچھے، بتانا یوں واجب ٹھہرا کہ روایت ڈالی ہے، تو نبھانےکاحوصلہ تو رکھنا ہی چاہیے۔ سو، لیجیےحاضرِخدمت ہے، سال بھرکے شماروں کی اعزازی چِٹھیوں کا ایک سرسری جائزہ اور سال 2025ء کی بہترین چٹھی اور بہترین ای میل کے اعزاز یافتگان کے ناموں کا اعلان۔
ہمارا ’’سالِ نو ایڈیشن 2025ء‘‘ ٭ 5 جنوری کو شایع ہوا، جس میں سالِ گزشتہ کے شاہ کار خط کا اعزاز سمیٹا، سیال کوٹ کی شائستہ اظہر صدیقی نے، جب کہ شان دار ترین ای میل کی سند عروبہ غزل کے حصّے آئی۔ ماہِ جنوری کا دوسرا شمارہ ٭ 12 جنوری کوشایع ہوا اور اس ہفتے تخت نشیں ہوئیں،کراچی کی شاہدہ ناصر۔ ٭19 جنوری، شیخوپورہ کے حافظ عُمرعبد الرحمٰن ڈار کی مسند نشینی کا یوم تھا، تو ٭ 26 جنوری، ایمن علی منصور کی کام رانی کا۔٭ 2 فروری کو شیما فاطمہ کرسیٔ صدارت پردکھائی دیں، تو ٭ 9 فروری سے میرپورخاص کے شہزادہ بشیر محمد نقش بندی کا بھی کھاتہ کُھل گیا۔ ٭16 فروری کو گلشنِ اقبال،کراچی سے چاچا چھکن کی آمد ہوئی اور ٭23 فروری کی بزم، ایمن علی منصور کو دوسری بار شاد کام کرگئی۔٭2 مارچ کا ایڈیشن، سالِ نو کےشمارے کے بعدپہلا خاص شمارہ تھا، جو استقبالِ رمضان اورخواتین کےعالمی یوم کی نسبت سے ترتیب دیا گیا، اوربزم کی حُکم رانی شہزادہ بشیر کے حصّے آئی۔ ٭ 9 مارچ ایڈیشن بھی ماہِ صیام کا خاص شمارہ ٹھہرا، جب کہ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی ہاٹ سیٹ دوسری بار چاچا چھکن کے حصّے آئی۔ ٭16 مارچ کی ونرقرار پائیں، دہلی کالونی، کراچی کی عائشہ ناصر۔ عین ’’یومِ پاکستان‘‘ ٭23 مارچ کو پرنٹ ہونے والا ایڈیشن شہزادہ صاحب کی تیسری فتح کی نوید لایا۔ اور ٭ 30 مارچ کا خاص الخاص ’’عیدالفطر ایڈیشن‘‘ چاچا چھکن کی بھی تیسری فتح یابی کا مُژدہ سمیٹ لایا۔٭6 اپریل سے گلستان کالونی، بورے والا کے رانا محمّد شاہد بھی اعزاز یافتگان کی فہرست میں شامل ہوگئے۔ ٭ 13 اپریل کو بستی عثمان والی، بہاول نگر کے ظہیرالدین کی اینٹری ہوئی اور ٭ 20 اپریل کورانا شاہد نےاعزازی فہرست میں دوسری بار نام درج کروالیا۔ ٭ 27 اپریل، ہر دل عزیز مکتوب نگار، پروفیسر سیّد منصور علی خان کی سند پر مُہر کا دن تھا۔ (پروفیسر صاحب مانٹریال، کینیڈا سدھار کر بھی وقتاً فوقتاً مجلس آراء رہتے ہیں)٭4 مئی کا دن شہزادہ بشیر کی چوتھی کام یابی، سُرخ روئی کے ساتھ طلوع ہوا۔ ٭11 مئی کا شمارہ،خصوصی ایڈیشنز میں بھی سرِفہرست ’’مدرزڈےاسپیشل‘‘ رانا شاہد کو ہیٹ ٹرک سے نوازگیا، تو ٭18 مئی، جھڈو، میرپور خاص کے مستقل نامہ نگار، ضیاء الحق قائم خانی کی سرفرازی کا دن تھا، جب کہ بزم کی خاص بات ’’گوشہ برقی خطوط‘‘ کی بہترین لکھاری عروبہ غزل کی ’’ای میل آف دی ویک‘‘ بھی تھی۔ اور ٭25 مئی کو شہزادہ صاحب نے پانچویں سیڑھی پر قدم رنجہ فرمایا۔٭ یکم جون کا ایڈیشن ایک بارپھررانا شاہد کے نام ٹھہرا، تو ٭8 جون (شمارہ، تعطیلاتِ عیدالاضحیٰ کے باعث جمعہ 6 جون کو شایع ہوا)’’عیدالاضحیٰ اسپیشل ایڈیشن‘‘ کی اسپیشل چیئر کےحق دار ایک مرتبہ پھر شہزادہ بشیر ہی ٹھہرائے گئے، جب کہ ’’مشرقی لڑکی‘‘ کی لاجواب ای میل کو ’’ای میل آف دی ویک‘‘ کااعزازملا۔ ٭15 جون، ایک اورخاص الخاص شمارہ ’’فادرزڈے اسپیشل ایڈیشن‘‘ سعدی ٹاؤن، کراچی کے محمّد ادریس سلیمان کے نام رہا۔٭22 جون، رانا محمّد شاہد کی 5 ویں جست کے ساتھ، ملتان کے طائوس کی ای میل آف دی ویک کے اعزاز کا بھی یوم تھا۔ ٭29 جون، قریباً سال کے وسط میں لال کوٹھی، فیصل آباد کےمحمّد سلیم راجا کی طویل وقفے کے بعد آمد ہوئی اور پھر وہی ہوا۔ ’’وہ آیا، اُس نے دیکھا اور فتح کر لیا۔‘‘
٭6 جولائی، ہمارا عاشورۂ محرم ایڈیشن، حافظ عمر عبدالرحمٰن کے نام سے مسجّع تھا، تو ٭13 جولائی کی بزم، شہزادہ بشیر کی ساتویں فتح کی خوشی سے مزیّن۔ ٭20 جولائی کا جریدہ رانا شاہد کو چھٹی بار سنگھاسن پر براجمان کرگیا، اور ٭27 جولائی،حسبِ توقع سلیم راجا کے لیے ایک اور اچھی خبر لایا۔٭ 3 اگست کا عام سا دن، بہت خاص یوں ہوا کہ بہت پیاری نامہ نگار، سیال کوٹ کی شائستہ اظہر صدیقی رونقِ بزم ہوئیں اور ہمیشہ کی طرح سب پر بازی لے گئیں۔ ٭10 اگست کا شمارہ، ’’جشنِ آزادی ایڈیشن‘‘ تھا، جس نے راجا صاحب کو تیسری بارگدّی نشین کیا، توساتھ ہی ’’مشرقی لڑکی‘‘ کی ایک بہت خُوب صُورت ای میل نے بھی محفل کو ہزار چاند لگائے۔ ٭17 اگست کو رانا صاحب ساتویں بار صاحبِ مرتبہ ہوئے اور ہمارے ایک اور بہت ہی پیارے، دل کے بےحد قریب شمارے ٭24 اگست کے ’’عالمی یومِ حجاب ایڈیشن‘‘ کے توسّط سے راجا صاحب چوتھی بار تخت نشینی کے مستحق قرار پائے۔ ٭31 اگست کو بھی سلیم راجا ہی بینر اُٹھائے رہے۔٭7 ستمبر کا (شمارہ ہفتہ6 ستمبرکو شایع ہوا) ہمارا ’’ربیع الاوّل ایڈیشن‘‘ رانا شاہد کی آٹھویں فتح مندی کی نوید لایا۔ اور ٭14 ستمبر کچھ یوں خاص ہوا کہ قارئین کی پسندیدہ ترین نامہ نگار، سنجاوی، بلوچستان کی البیلی، چُلبلی دوشیزہ، اسماء خان دمڑ نےکافی وقفے کےبعد محفل کوعزت بخشی اورخُود بھی عزت پائی۔ ٭21 ستمبر، سلیم راجا کی چھٹی اور ٭28 ستمبر ساتویں صدرنشینی کے ایّام تھے۔٭5 اکتوبر کورانا شاہد نویں بار، ٭12 اکتوبر کوسلیم راجا آٹھویں بار، ٭19 اکتوبر کو راجا صاحب نویں مرتبہ اور٭ 26 اکتوبر کو رانا صاحب دسویں بار ’’ہفتہ وار بہترین چٹھی‘‘ کے چوکھٹے میں فٹ ہونے میں کام یاب رہے۔٭2 نومبر کو سلیم راجا نے دسویں فتح بھی اپنے نام کرلی۔ ٭9 نومبر کوعائشہ ناصردوسری بار ونر ٹھہریں۔ ٭16 نومبر کو راجا صاحب گیارہویں پوڑھی (سیڑھی) بھی چڑھ گئےاور٭23 نومبر کودرجن بھراعزازی چٹھیوں کےساتھ، سال کے بیچ میں آکربھی، تمام ترخطوط نگاروں پرحاوی ہوگئے۔ ٭30 نومبر کو رانا شاہد نے گیارہویں اعزازی خط کے ساتھ راجا کو ٹکر دینے کی کوشش کی۔٭7 دسمبر، سال کے آخری ماہ کے پہلے ہفتے میں سلیم راجا نے تیرہویں فتح کے ساتھ ’’سبقت‘‘ کی مُہر کچھ اور پکی کرلی۔ ٭14 دسمبر،رانا شاہد بھی ’’درجن‘‘ کا تمغہ سینے پر سجانے میں کام یاب ہوگئے۔ مگر٭21 دسمبر کو راجا صاحب نے گویا 14 ویں فتح سمیٹ کر گَل ہی مُکا دی۔ ٭28 دسمبر، سال 2025ء کا آخری شمارہ، اس اعتبار سےخاص الخاص رہا کہ ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی تیسری ہردل عزیز نامہ نگار، خیرپورکی ڈاکٹر تبسم سلیم نےبھی بالآخر اینٹری دے ہی دی۔ وہ کیا ہے کہ ؎ بڑی دیر کی، مہرباں آتےآتے۔ مگر ’’دیر آید، درست آید۔‘‘
سال بھر کی، ہفتہ وار بہترین چٹھیوں کا اجمالی جائزہ اور پھر "Bestest" کا انتخاب کچھ آسان نہیں۔ گو، ایڈیٹرکا فیصلہ حتمی ہی مانا جاتا ہے، لیکن کوشش بہرحال یہی ہوتی ہے، ایک اچھے خط کے تمام تر لوازمات پیشِ نگاہ رہیں، تو قارئین کی کڑی نظر بھی ہماری نظرمیں ہوتی ہے۔ محمّد سلیم راجا کا سال کے وسط میں آنا اورآکرچھانا اپنی جگہ، راناشاہد اورشہزادہ بشیر کا عُمدہ طرزِتحریر، مستقل مزاجی بھی قابلِ صد ستائش ہے۔
دیگر اعزاز یافتگان کی محنت و لیاقت پربھی ہرگز کوئی شبہ نہیں، لیکن وہ کیا ہے کہ ؎ ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی.....مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ تو شائستہ اظہرکےسحر کاآج بھی کوئی توڑنہیں۔ سو، پچھلے دو برسوں کی طرح سال 2025ء کی بہترین چٹھی کی ٹرافی ایک بار پھر ’’شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ‘‘ کے نام ہوئی۔ جب کہ ’’ای میل آف دی ایئر‘‘کا اعزاز جاتا ہے، ’’مشرقی لڑکی‘‘ کو۔ (اب اس خوشی میں وہ اپنےاصل نام سےآجائیں، تو کیا ہی اچھا ہو۔) دیگر خطوط اور برقی خطوط نگاروں میں رونق افروز برقی، پرنس افضل شاہین، سید زاہد علی، ڈاکٹرحمزہ خان ڈاھا، نواب زادہ بےکارملک، شمائلہ نیاز، محمد صفدر ساغر، صدیق فنکار، محمد عارف قریشی، ملک محمد نواز تھہیم، مصباح طیب، صبورمشتاق حسن، محمد عثمان، محمد سلام، اسلم قریشی، چوہدری قمر شاہ جہاں پوری، حسن شیرازی، نازلی فیصل، جمیل ادیب، جاوید اقبال، سعید احمد خانزادہ، جاوید جواد حسین، تجمل حسین مرزا، تبسم انصار، منصور وقار، طاہر گرامی اور قرأت نقوی، صاعقہ سبحان، محمد کاشف، قراۃ العین فاروق، فوزیہ ناہید سیال، ثناء توفیق، عمیر جمیل، بلقیس متین، ثناءاللہ سید، حریم شفیق، شائستہ عابد، طوبیٰ سعید، محمد فاروق منیر، افشاں حسن اور تحریم عامر کے بھی ہم تہہ دل سے ممنونِ احسان ہیں کہ ہماری ’’خطوط نگاری کے احیاء‘‘ کی دیرینہ خواہش کی تکمیل کے لیے مسلسل کوشاں، مستقل ممّد ومعاون ہیں۔ بقول رحمان فارس ؎ تیری خُوشبو اور کھنک مَیں خط سے کرلوں گا کشید…چُوڑیوں والے حنائی ہاتھ کی تحریر بھیج۔ تو بلاشبہ آپ کی یہ تحاریر ہی اِس صفحے کی اصل تابندگی و درخشندگی، بلکہ زندگی کاذریعہ و ضمانت ہیں۔
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk