اسلام آباد ( طاہر خلیل ، رانا غلام قادر ) صدر مملکت آصف علی زرداری نے سال نو کے آغاز پر جمہوری قوتوں کو آئینی راستے پر واپس لانے کیلئے قومی مفاہمت اور مصالحتی خدمات کی پیشکش کر دی اور کہا کہ یہ وقت محاذ آرائی ماحول میں شدت اور حرارت پیدا کرنے کا نہیں بلکہ روشنی پیدا کرنے کا ہے، پاکستان کو محاذ آرائی نہیں تعاون کی ضرورت ہے، اعتماد بحالی اور تمام جمہوری قوتوں کو آئینی راستے پر واپس لانے کیلئے وفاق کی علامت کے طور پر میں قومی مفاہمت اور مصالحتی عمل کی قیادت کیلئے تیار ہوں تاکہ فاصلے کم کئے جائیں ۔وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا کہ خدا کرے نئے سال کا ہر دن ملکی سالمیت، قومی ہم آہنگی جیسی اقدار کومضبوط تر کرے،صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے سال نو 2026 کے موقع پر پاکستان کے عوام، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور عالمی برادری کو دلی مبارکباد اور نیک تمناؤں کا پیغام د یا اور کہاکہ جب ہم اپنے 79 ویں یومِ آزادی کے قریب پہنچ رہے ہیں تو یہ لمحہ قومی خود احتسابی اور اجتماعی عزم کا ہونا چاہیے، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خدا کرے کہ نئے سال کا ہر دن ملکی سالمیت، قومی ہم آہنگی جیسی اقدار کومضبوط تر کرے۔ صدر زرداری نے مزید کہاکہ انفرادی نئے سال کے عہد سے آگے بڑھتے ہوئے ہمیں اجتماعی طور پر پاکستان کے مشترکہ مستقبل کے نگہبان ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کی تجدید کرنا ہوگی، اتحاد، استقامت، تخلیقی صلاحیت اور یقین کے ساتھ ہم ان مشکلات پر قابو پاسکتے ہیں۔ صدر نے کہاکہ تعلیم، صحت، نوجوانوں، تخلیقی شعبوں، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری ہماری بقا اور ترقی کےلئے ناگزیر ہے،موسمیاتی تبدیلی اب کوئی دور دراز خطرہ نہیں رہی بلکہ ایک قومی سلامتی کا چیلنج بن چکی ،ماحولیاتی مطابقت کو نقصانات کے ازالے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہوگا،ہمیں ہر قسم کی انتہاپسندی کو مسترد کرنا ہوگا اور تشدد کی ہر صورت سے لاتعلقی اختیار کرنا ہوگی،سیاسی اظہار کو ریاستی اداروں کو مضبوط بناناے میں معاون ہونا چاہیے، کمزور کرنا نہیں،صدر نے تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ عوام کی بہتری کےلئے پارلیمان میں تعمیری کردار ادا کریں، کوئی بھی سیاسی مقصد دشمن قوتوں کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونا چاہیے ،انہوں نے کہا اس سال کے اوائل میں پاکستان کو ایک سنگین سلامتی کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا، عوام کے اتحاد اور ہماری مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت نے ہماری خودمختاری کا دفاع یقینی بنایا۔، اگرچہ ہم امن کے خواہاں ہیں لیکن اسے نہ ہماری کمزوری سمجھا جائے اور نہ اس میں کوئی ابہام ہونا چاہیے، پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے اور کسی بھی وجودی خطرے کا بھرپور قومی عزم اور 25 کروڑ پاکستانیوں کی طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے سال نو کے پیغام میں کہا ہے کہ تمام اہلیان وطن کو نئے سال کی خوشیاں مبارک ہوں،اللہ تعالی کے حضور دعا گو ہیں کہ نئے سال کا سورج خوشیوں ،خوشحالی اور اللہ کافضل و کرم لئے طلوع ہو، انہوں نے کہا کہ 2025 کا سال دفاع وطن کے اعتبار سےتاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جا ئے گاجب مسلح افواج اور قوم نے شانہ بشانہ دشمن کے عزائم کو ناکام بناتے ہوئے معرکہ حق میں تاریخ رقم کی، انشاءاللہ پوری قوم اپنی دلیر، بہادر اور باصلاحیت افواج کے ساتھ مل کر ملک کے دفاع میں ہمیشہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوگی،گزشتہ برس، دہشت گردی کے حملوں میں مادر وطن کے لئے اپنی جان کی قربانی پیش کرنے والے شہداء کو بھی پوری قوم کی طرف سے آج کے دن خصوصی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔حکومت ملک کی معاشی خوشحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور حالیہ معاشی اعشاریوں میں بہتری حکومت کی درست اور مثبت سمت کی عکاس ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اس عہد کی تجدید کرتا ہے کہ وہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے اپنی پرخلوص کاوشوں کو جاری رکھے گا۔ آج کے دن میں حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کے لیےخیر سگالی کے جذبات کا اظہار کرتا ہوں،اللہ تعالی پاکستان کو دہشت گردی، فرقہ واریت ،جرائم اور معاشرتی تقسیم جیسے شر سے محفوظ رکھے۔