کراچی( ثاقب صغیر )متروکہ وقف املاک بورڈ نے پہلے قانونی نوٹسز کئے تھے،ایف آئی اے۔ ملکیتی دستاویزات بادی النظر میں جعلی اور دیگر بے ضابطگیاں سامنے آئیں،میئر مرتضیٰ وہاب کو جوابی خط ۔ تفصیلات کے مطابق میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ کو خط لکھنے پر ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون نے مرتضیٰ وہاب کو جوابی خط لکھ دیا۔خط میں یکطرفہ کارروائی کے الزام پر ایف آئی اے کا جواب دیا گیا ہے۔خط کے مطابق تمام کارروائی قانون اور ریکارڈ کی بنیاد پر کی گئی۔متروکہ وقف املاک بورڈ نے پہلے سے قانونی نوٹسز کئے تھے۔خط کے مطابق وفاقی ادارے نے ایف آئی اے سے مدد مانگی تھی۔ملکیتی دستاویزات بادی النظر میں جعلی اور دیگر بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔اس کے ساتھ ہی عمارت کا کمرشل استحصال بھی رپورٹ ہوا۔جوابی خط کے مطابق عمارت میں 213 کرایہ دار موجود تھے۔کرایہ داروں سے ماہانہ کرایہ اور چارجز وصول کئے جارہے تھے۔خط کے مطابق پگڑی جیسے غیر رسمی بندوبست بھی جانچے جا رہے ہیں۔یہ سب غیر قانونی کمائی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایف آئی اے کے جواب میں کہا گیا ہے کہ کے ایم سی ریکارڈ کے حوالے سے خط میں بتایا گیا ہے۔ 17فروری 2003کا مبینہ لیز ایکسٹریکٹ سرکاری ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا۔متعلقہ اہلکار کا 161 کے تحت بیان بھی شامل ہے۔ایف آئی اے کی جانب سے مکمل جواب مئیر کراچی کو ارسال کردیا گیا ہے۔