لاہور(خبر نگار)پاکستان کے نامور صحافی، سینئر ایڈیٹر، تجزیہ کار اور ممتاز ادیب و دانشور جناب مجیب الرحمٰن شامی نے آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے زیرِ اہتمام اے پی این ایس ٹاکس کے سلسلے میں منعقدہ ایک یادگار شام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور بقا کے لیے مملکتِ خداداد کو محاذ آرائی کی دلدل سے نکالنا ناگزیر ہو چکا ہے۔تقریب سے صدر اے پی این ایس سید سرمد علی، جمیل اطہر ، حبیب اکرم ودیگرنے بھی اظہار خیال کیا۔ مجیب الرحمان شامی نے اس موقع پر زور دیا کہ قومی استحکام، جمہوری رویّوں، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور سنجیدہ مکالمے کے فروغ کے بغیر ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پانا ممکن نہیں۔ صدر اے پی این ایس سید سرمد علی نے اپنے ابتدائیہ کلمات میں تمام معزز شرکاءکو پرتپاک خوش آمدید کہا اور مجیب الرحمن شامی صاحب کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے علم، تجربے اور بصیرت کے سامنے طفلِ مکتب ہیں۔ چیئرمین پنجاب کمیٹی اے پی این ایس جمیل اطہر قاضی نے اپنے کلمات میں کہا کہ پاکستان نے دو مجیب دیکھے ایک نے پاکستان کو توڑا اور دوسرا آج تک جوڑنے میں لگا ہوا ہے۔ سینئر صحافی حبیب اکرم نے شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جب سرگودھا سے لاہور منتقل ہوئے تو قدم قدم پر ان کو مجیب الرحمن شامی کی رہنمائی ملی ۔عمر مجیب شامی کا کہنا تھا کہ میرے والد کا ظاہر اور باطن ایک ہے ۔ ڈاکٹر سویرا شامی ،سلمان غنی،اجمل جامی سمیت دیگر شرکاءکا کہنا تھا کہ آمرانہ پالیسیوں کے خلاف بھی مجیب الرحمن شامی نے بے باکی سے آواز بلند کی،۔ایک سوال کے جواب میں مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے دور میں صحافت قدرے آزاد رہی اورصحافیوں پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی ، پاکستان کے جن معروف ایڈیٹرز، صحافیوں، اور میڈیا مالکان نے اس شام میں شرکت کی ان میں نوید کاشف، نوید چوہدری،ڈاکٹر سویرا شامی،عمر مجیب شامی،نوشاد علی،ایثار رانا،شفقت عباس(ڈی جی پی آئی ڈی )،ڈاکٹر صغریٰ صدف،احمد بلال محبوب،اسامہ غازی،رانا عابد، ڈاکٹر فائزہ ، علی شامی و دیگرشریک ہوئے۔