لاہور (آصف محمود بٹ)پاکستان سول سروسز اکیڈمی لاہور میں زیرِ تربیت 53ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے پروبیشنری افسران نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مطالعاتی دورے کے ابتدائی دو دن مکمل کر لیے۔30 سے زائد وفاقی اداروں کا دورہ، تربیت کو عملی حکمرانی سے جوڑنے کی کوششاخلاقی قیادت، شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی پر زور دیا گیا۔ اس دورے کا مقصد مستقبل کے سول افسران کو وفاقی حکومت کے انتظامی ڈھانچے، پالیسی سازی اور عوامی خدمات کی فراہمی کے عملی پہلوؤں سے روشناس کرانا ہے۔اس مطالعاتی دورے میں پاکستان سول سروسز اکیڈمی لاہور میں زیر تربیت 136 افسران نے شرکت کی جنہیں 11مختلف موضوعاتی سنڈیکیٹس میں تقسیم کیا گیا۔ افسران نے 30سے زائد وفاقی وزارتوں، محکموں، ریگولیٹری اداروں، تحقیقی اداروں اور تھنک ٹینکس کا دورہ کیا۔ یہ سرگرمی سی ٹی پی کی تربیت کا اہم حصہ ہے جس کا مقصد کلاس روم میں حاصل کردہ علم کو زمینی حقائق سے جوڑنا ہے۔ماحولیاتی گورننس اور کاربن مارکیٹس کے سنڈیکیٹ نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اور مری میں فاریسٹ سروسز اکیڈمی کا دورہ کیا۔ حکام نے پاکستان کے بین الاقوامی موسمیاتی وعدوں، کاربن ٹریڈنگ کے بڑھتے ہوئے امکانات اور مؤثر مانیٹرنگ، رپورٹنگ اور ویری فکیشن نظام کی اہمیت پر بریفنگ دی۔صحتِ عامہ، آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی کے سنڈیکیٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز، بنیادی صحت مراکز اور پالیسی ریسرچ اداروں کا دورہ کیا۔ ماہرین نے آبادی کے بدلتے ہوئے رجحانات، خاندانی منصوبہ بندی کی ضروریات، خواتین کی تعلیم اور بہتر صحت کے درمیان گہرے تعلق پر زور دیا اور قابلِ اعتماد اعداد و شمار کی اہمیت کو اجاگر کیا۔وفاقیت اور نئے صوبوں کے موضوع پر کام کرنے والے سنڈیکیٹ نے کونسل آف کامن انٹرسٹس، وزارتِ خزانہ، وزارتِ قانون اور بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کے حکام سے ملاقات کی۔ اجلاسوں میں آئینی طریقہ کار، این ایف سی ایوارڈ، مالیاتی بندوبست اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق انتظامی امور پر غور کیا گیا۔