نیویارک(عظیم ایم میاں)امریکا بھر کی نگاہیں تاریخ کے پہلے مسلمان سٹی میئر ظہران ممدانی پر،اطلاعات کے مطابق ظہران ممدانی اپنے مئیر کے عہدے کا حلف قرآن پر ہاتھ رکھ کر اٹھائیں گے ۔ یہ بھی نیویارک سٹی کی تاریخ میں ایک اضافہ ہوگا۔ غیر آباد سب وے اسٹیشن میں عوامی حلف برداری، انتخابی جیت کے بعد مقبولیت میں مزید اضافہ، نیویارک کے ایک ممتاز اور موثر راسخ العقیدہ یہودی مذہبی رہنما ربائی موشے انڈگ نےجنگ/ جیو کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ہم نے اپنے یہودی عقائد کی پیروی کرکے ممدانی کی حمایت کی۔تفصیلات کے مطابق امریکی تاریخ کے 111ویں نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے اپنے عہدےکے حلف اٹھانے کی جگہ اور نوعیت کو منفرد انداز دے کر نیویارک کے عوام میں مزید مقبولیت حاصل کرلی ہے جبکہ انتخابی کامیابی کے بعد نو منتخب میئر کے طور پر اپنی تقاریر میں عوامی مسائل اور مطالبات کا ذکر مسلسل کرنے صدر ٹرمپ سے خوشگوار ملاقات اور بعض اہم تقرریوں میں مہارت ، اہلیت اور تجربہ کو بنیاد تقرری بنانے پر بھی ظہران ممدانی کے بارے میں ایک اچھا تاثر قائم ہوا ہے اور یکم جنوری کو عہدہ کا حلف اٹھانے سے قبل بھی ان کی عوامی مقبولیت میں پہلے کے مقابلہ میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ظہران ممدانی نیاسال 2026شروع ہونے سے چند لمحے قبل ،ایک محدود اور پرائیویٹ تقریب میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے جس میں صرف ممدان فیملی کے افراد اور چند اہم افراد شریک ہوں گے جبکہ اس کے بعدزیر زمین سب وے اسٹیشن میں منعقد کرنے کے انتظامات مکمل ہوچکے ہیں یہ سب وے اسٹیشن متروک ہوچکی ہے ۔ نیویارک کی تاریخ میں پہلے مسلمان میئر نیویارک سٹی ظہران ممدانی کی انتخابی جیت پر امریکا بھر کے اہم شہروں میں بھی بڑا تجسس پایا جارہا ہے کیونکہ ممدانی کے انتخابی منشور میں نیویارک شہر میں مفت بسیں چلانے، رہائش گاہوں کے کرائے منجمد کرنے ، بچوں کی مفت نگہداشت، غذا کی قیمتوں میں کمی سمیت نیویارک کی انتخابی تاریخ میں انقلابی وعدے کئے گئے ہیں اور امریکا کی دونوں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کی قیادت بھی میئر ممدانی کی کارکردگی اور کامیابی یا ناکامی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ظہران ممدانی کی قیادت کی انتخابی حکمت عملی اور مختلف نسل رنگ اور مذاہب سے وابستہ ووٹروں کی حمایت حاصل کرکے خود کو اعلانیہ مسلمان قرار دینے والے ممدانی کی انتخابی جیت کے متعدد دلچسپ پہلو بھی سامنے آرہے ہیں کہ غزہ کی جنگ اور تباہی کے ماحول میں غزہ کے فلسطینوں کی حمایت کرنے ، نیتن یاہو کی مذمت کرنے اور صدر ٹرمپ کی جانب سے اعلانیہ مخالفت اور تنقید کے باوجود نیویارک کی مسلم کمیونٹی کے حمایت یافتہ ایشیائی نژادظہران ممدانی نے نیویارک کے ارب پتی خاندانوںکی سیاسی اور مالی مخالفت کے باوجود بعض یہودی مذہبی رہنماؤں اور یہودی کمیونٹی کے ووٹ بھی حاصل کرلئے۔ نیویارک کے ایک ممتاز اور موثر راسخ العقیدہ یہودی مذہبی رہنما ربائی موشے انڈگ نے نمائندہ جنگ/جیو سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے اس مذہبی عقیدہ کی تصدیق کی ہے کہ یہ بات ان کے مذہبی مسلک کا عقیدہ ہے کہ اسرائیل کی ریاست کا وجود بالکل ناجائز ہے صہونیت اور نیتن یاہو کے فلسطینیوں پر موجودہ مظالم قابل مذمت اور یہودی مذہب کا حصہ نہیں ہیں اورلہذا ربائی موشے انڈگ نے اپنے حلقہ اثر سے مشورہ کرکے ابتدا سے ہی ممدانی کی حمایت کا اعلان کردیا تھا اور انتخاب کے بعد کئی ہزار یہودیوں کے اجتماع میں ممدانی کی جیت کی خوشی منائی گئی۔ یہودی ربائی نے تاریخ میں مسلمانوں اور یہودیوں کے باہمی تعاون کے حوالے سے کہا کہ امریکا کے سیاسی نظام میں یہودی مسلم اشتراک سے بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔