• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پروفیسر ڈاکٹر مجیداللہ قادری

روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے جو حضور اکرمﷺ کی مکہ مکرمہ سے مدینۂ منورہ ہجرت کے دوسرے سال فرض کیے گئے، یعنی اسلام میں روزے سنہ دو ہجری سے فرض قرار دیے گئے جس کے بعد سے پوری دنیا میں مسلمان روزہ رکھتے چلے آ رہے ہیں۔ روزے کی فرضیت سے متعلق قرآن حکیم میں ﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: ”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے“۔(سورۃالبقرہ: 183)

قرآن حکیم کی جس آیت میں روزہ فرض کیا گیا، اسی میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ عمل ایسے ہی لازم ہے جیسے کہ ماضی کی قوموں پر فرض تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام سے قبل بھی اقوام میں روزہ رکھنے کی روایت موجود تھی۔ لیکن جس طرح اسلام نے نماز، زکوٰۃ میں جامعیت و مرکزیت پیدا کرکے، انھیں دیگر ادیان و مذاہب کی نماز وزکوٰۃ سے ممتاز بنادیا۔ 

اسی طرح سے روزے کو بھی دیگر مذاہب کے روزوں کے مقابلے میں اختصاص و امتیاز عطا کیا گیا ہے چنانچہ اسی غرض سے صوم یعنی رمضان کے روزوں کو ایک مہینہ کے لیے خاص کیاگیا اور پھر اس کے لیے وہ مہینہ منتخب کیاگیا، جس میں اللہ کی جانب سے مسلمانوں کو دستور ہدایت یعنی قرآن حکیم مرحمت فرمایا گیا، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں نازل کیاگیا قرآن جو انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح دلیل اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا ہے، لہٰذا جو اس مہینے کو پائے تو اُس کے روزے ضرور رکھے“۔(سورۃالبقرہ)

روزہ کو عربی میں صوم کہتے ہیں۔ صوم کے معنی ہیں کسی چیز سے رک جانا اور شرعی اصطلاح میں ایک مخصوص طرز پر صبح صادق سے غروب آفتاب تک مخصوص شرائط اور نیت کے ساتھ کھانے پینے سے رک جانا روزہ ہے۔ صوم سے صرف رمضان المبارک کے فرض روزے ہی نہیں، بلکہ اس سے تمام طرح کے روزے مراد ہیں۔

روزہ کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے انسان کے اندر صبر و استقامت کی قوت پیدا ہوتی ہے (جو انسان کے لیے بڑی خوبی کی چیز ہے) روزے دار کے سامنے عمدہ اور مرغوب غذائیں، ٹھنڈا اور شیریں پانی رکھا رہتا ہے، مگر وہ ان کی طرف نگاہ اُٹھاکر بھی نہیں دیکھتا، حالانکہ بظاہر اسے ان چیزوں کے استعمال کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی، لیکن اس کا ضمیر اس کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنے روزے کو برباد کرکے اللہ کے غضب کا مستحق بنے۔ 

ایک مہینے کی یہ مشق و تمرین لامحالہ انسان کے اندر استقلال و استقامت کی طاقت پیدا کردیتی ہے۔ ماہرین نفسیات نے اپنے علم و تجربے کی بنیاد پر یہ بات کہی ہے کہ روزہ سے زیادہ ارادوں میں پختگی اور عزائم میں پائیداری پیدا کرنے والی کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔

روزے میں خواہشاتِ نفسانیہ کو دبانے سے قوتِ روحانیہ کو تقویت حاصل ہوتی ہے، روزے میں خواہشِ نفس وبطن کی شکست و ریخت ہوتی ہے اس لیے لازمی طور پر روحانیت کو قوت و طاقت ملتی ہے اور اسی جوہرِ روحانی مے میسر آجانے پر آدمی انسان کہلاتا ہے تو گویا روزے کے ذریعے انسانیت کی تشکیل و تکمیل ہوتی ہے۔

روزہ سے جہاں روح کو طاقت ملتی ہے، وہیں اس سے بدن کی بھی اصلاح ہوتی ہے۔اسلام میں روزہ کا اصلی مقصد تقویٰ و پرہیزگاری تو ہے ہی مگر روحانی اور قلبی سکون کے علاوہ طبّی لحاظ سے بھی روزوں کے بے شمار فوائد ہیں جن کی آج کی جدید طبی سائنس بھی تصدیق کرتی ہے۔

روزے کا اصل مقصد تقویٰ وپرہیزگاری ہے۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ مسلمانوں کے لیے روزے رکھنے کے ساتھ ذکرو فکر، تسبیح و تہلیل، کثیر تلاوت و نوافل اور صدقہ و خیرات کا باعث بھی بنتا ہے۔ اس مہینے میں ہر نیک عمل کا اجروثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس کی برکت سے پچھلی زندگی کے تمام صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

اس ماہ میں ایک نیکی فرض کے برابر اور فرض ستّر فرائض کے برابر ہوجاتا ہے، اس ماہ کی ایک رات جسے شبِ قدر کہا جاتا ہے وہ ہزار مہینوں سے افضل قرار دی گئی ہے۔ روحانی اورقلبی سکون کے علاوہ طبّی لحاظ سے بھی روزوں کے بے شمار فوائد ہیں اور جدید طبی سائنس بھی روزے سے وابستہ فوائد کی تصدیق کرتی نظر آتی ہے۔ سائنس داں اپنی تحقیقات و تجربات کی بدولت ایسے فوائد دریافت کر چکے جن سے انسان پہلے ناواقف تھا۔ انسانی عمر میں اضافہ اور انسان کی ذہنی صلاحیتوں کا طاقتور ہونا روزوں کے دو بڑے طبّی فائدے ہیں۔

پروفیسر والٹر لونگو امریکہ کی یونیورسٹی آف ساوتھرن کیلیفورنیا سے منسلک خلیاتی حیات داں ہیں۔ وہ فاسٹنگ (یعنی روزوں) پہ عرصۂ دراز سے تحقیق کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق روزے رکھنا انسانی جسم میں ایک پیدائشی نظام ہے۔ اس نظام کی مدد سے انسانی جسم زہریلے عناصر اور کوڑے کرکٹ سے نجات پاتا ہے، لیکن جدید انسان چونکہ ہر وقت کھاتا پیتا رہتا ہے، اس لیے یہ نظام اب غیر متحرک ہو چکا۔ ماہرین کے مطابق ایک انسان ’تین سو ستّر کھرب‘ سے زائد خلیوں (cells) کا مجموعہ ہے۔ یہ خلیے جینز (genes) کی ہدایات پہ عمل کرتے ہیں۔ 

روزوں سے متعلق پروفیسر والٹر لونگو کی تحقیق سے افشاء ہوا کہ جب انسانی جسم میں بھوک پیاس جنم لے اور اسے کیلوریز (calories) یا حرارے نہ ملیں تو ایسے جین متحرک ہو جاتے ہیں جو خلیوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ اپنی سرگرمیاں روک دیں، تاکہ اپنے وسائل محفوظ رکھ سکیں۔ معنی یہ کہ خلیے تقسیم ہو کر نشوونما پانے کے بجائے جامد ہو جاتے ہیں۔ 

غذا اور پانی نہ ملنے سے خلیوں کا اپنی روایتی سرگرمیاں روک دینے کا عمل سائنسی اصطلاح میں آٹوفیگی (autophagy) کہلاتا ہے۔ اس عمل میں داخل ہو کر کوئی مرض خلیوں پر اثر انداز نہیں ہو پاتا۔ نیز وہ دباؤ (stress) اور سوزش (inflammation) سے بھی محفوظ ہو جاتے ہیں جو انسان پربڑھاپا لانے والے عناصر ہیں۔ اس کے برعکس خلیے اعضاء کے خراب حصوں کی مرمت کرنے لگتے ہیں۔ نیز انسانی جسم میں جو خلویاتی فضلہ جمع ہو گیا ہوتا ہے، اسے نکال باہر کرتے ہیں۔

پروفیسر مارک میٹسن امریکہ کی جان ہوپکنز یونیورسٹی سے منسلک مشہور نیورو سائنس داں ہیں۔ ان کے مطابق جب انسان بارہ گھنٹے یا زائد عرصے کھانے پینے سے پرہیز کرے تو اس کے جسم میں گلائکوجن کم ہو جاتا ہے۔ یہ گلوکوز کی ایک قسم ہے جسے خلیے بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ گلائکوجن کی کمی کے بعد خلیے اپنے کام جاری رکھنے کے لیے انسانی جسم میں محفوظ چربی یا چکنائی کو بطور ایندھن استعمال کرنے لگتے ہیں۔ 

جب چربی استعمال ہو تو انسانی جسم میں خاص قسم کے سالمے یا مالیکیول، کیٹون (ketone) پیدا ہوتے ہیں۔ یہ توانائی فراہم کرنے والے سالمے ہیں جنھیں ہمارا جگر بناتا ہے۔ تحقیق و تجربات سے پتا چلا ہے کہ جب انسانی جسم چربی بطور ایندھن استعمال کرنے لگے اور کیٹون پیدا ہوں، تو یہ تبدیلی انسان کو تندرستی عطا کرتی ہے جو کہ خصوصاً اس کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کیٹون کی ایک قسم ـ بی ایچ بی (beta-hydro xybutyrate) کی دماغ میں کثرت ہو جاتی ہے جو انسان کی یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت بہتر کرتی ہے۔ نیز اس میں آٹوفیگی کا عمل جنم دینے میں مددگار بنتی ہے۔ اسی قسم کے باعث ہمارا دماغ دماغی طاقت بڑھانے والے نیورون یا دماغی خلیے پیدا کرتا ہے۔ ان دماغی خلیوں میں سب سے اہم بی ڈی این ایف (brain-derived neurotrophic factor) ہے۔ 

اسے ہمارے دماغ میں یادداشت کا مرکز سمجھا جانے والا علاقہ ہپوکیمپس (hippocampus) جنم دیتا ہے۔ بی ڈی این ایف ایک پروٹینی مادہ ہے جو ہماری یادداشت تیز کرتا ہے۔ سیکھنے کی ہماری صلاحتیں مانجھ دیتا ہے۔ نیز ہمارا موڈ یا مزاج بھی بہتر کرتا ہے۔ 

یہی وجہ ہے، جو انسان کئی گھنٹے بھوکے پیاسے رہتے ہیں، وہ پہلے کی نسبت زیادہ ہوشیار، تازہ دم اور چاک و چوبند ہو جاتے ہیں۔ ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تیز ہوتی ہے۔ حواس بہتر انداز میں کام لگنے لگتے ہیں۔ وہ سستی اور مایوسی سے چھٹکارا پا لیتے ہیں۔ اگر انسان دن بھر کھاتا پیتا رہے تو اسے یہ فوائد حاصل نہیں ہوپاتے۔

عمر اور دماغی صلاحیتوں میں اضافے کے علاوہ روزے رکھنے سے معدے کی بیماریاں بھی ٹھیک ہو جاتی ہیں اور نظام ہضم بھی بہتر ہو جاتا ہے۔ شوگر لیول، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر میں اعتدال آجاتا ہے۔ روزے کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے اور ا س کی وجہ سے دل کو انتہائی فائدہ مند آرام پہنچتا ہے۔ 

روزے سے جسمانی کھچاؤ، ذہنی تناؤ، ڈپریشن اور نفسیاتی امراض کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ روزہ رکھنے سے موٹاپے میں کمی واقع ہوتی اور اضافی چربی ختم ہو جاتی ہے۔ مگر یہ تمام طبی فائدے اسی وقت ملتے ہیں جب روزے دار ایسی غذا کھائے جس میں چکنائی، نمک اور چینی معتدل مقدار میں ہوں۔ ورنہ ان اشیا کا زیادتی سے استعمال روزے رکھنے کے بیشتر فوائد زائل کر دیتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ سحرو افطار میں نہایت میانہ روی سے غذا استعمال کریں، تاکہ روزے کے دینی اور طبّی فوائد حاصل ہو سکیں۔

اقراء سے مزید