• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’رمضان المبارک‘‘ کے شب و روز میں بندہ مومن کا لائحہ عمل اور اس کی عبادات و معمولات

ڈاکٹر نعمان نعیم

’’ماہِ رمضان ‘‘عبادات و مناجات اور رحمت و مغفرت کا موسم بہار ہے،یہ رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔ اس کے شب و روز اللہ کی رحمت سے معمور اور پُرنور ہیں۔ ایسے دنوں میں خصوصیت کے ساتھ بڑھ چڑھ کر نیک اعمال، رب کے حضور توبہ و مناجات، دعا اور کثرت سے استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس مقدس مہینے کی سب سے اہم عبادت روزہ ہے۔جو ایک دینی فریضہ اور اسلام کا بنیادی رکن ہے۔

رمضان المبارک نہ صرف روزوں کے حوالے سے معروف ہے بلکہ رحمت، برکت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ بھی ہے۔ رمضان کے پہلے عشرے کی اہمیت اس لحاظ سے بھی زیادہ ہے کہ یہ ایک ایسا دورانیہ ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنی بے شمار رحمتیں بندوں پر نازل کرتا ہے۔ اس عشرے کی فضیلت قرآن و حدیث میں بھی بیان کی گئی ہے۔ پہلا عشرہ ’رحمت کا عشرہ‘ کہلاتا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی خاص عنایات بندوں پر ہوتی ہیں اور ان کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔

حدیث میں آتا ہے کہ جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں زمین پر نازل کرتا ہے۔ اس عشرے میں نفل عبادات، قرآن کی تلاوت، روزہ اور ذکر کی برکات بے شمار ہیں، جو انسان کو اللہ کے قریب لے جاتی ہیں۔ یہ عشرہ اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنے، دل و دماغ کو پاک کرنے اور روحانی بہتری کے لیے بہترین وقت ہے۔

رمضان کا روزہ محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ صبر، تقویٰ اور روحانی پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ عشرہ اس بات کی یاددہانی کراتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر وقت بندوں کے ساتھ ہے اور وہ ہر اس بندے کو معاف کرنے کو تیار ہوتا ہے جو خلوصِ نیت سے رجوع کرے۔ رمضان کے پہلے عشرے میں عبادات کی کثرت سے انسان اللہ کے قریب ہوتا ہے، اور اس دوران مانگی گئی دعاؤں کی قبولیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

حدیث شریف میں آتا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں، اگر وہ مجھ سے رحمت کی امید رکھے گا تو میں اسے اپنی رحمت عطا کروں گا۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان اس عشرے میں زیادہ سے زیادہ عبادت، دعا، استغفار اور توبہ کریں تاکہ اللہ کی رحمت سے مستفید ہو سکیں۔ رمضان کے پہلے عشرے میں نفل عبادات، قرآن کی تلاوت، ذکر و اذکار اور صدقہ و خیرات کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔ جو مسلمان اس عشرے میں عبادات میں مشغول ہوتے ہیں، انہیں اللہ کی خاص عنایات اور برکتیں نصیب ہوتی ہیں۔

روزے کی حالت میں صبر اور ضبطِ نفس کی مشق کی جاتی ہے، جو انسان کو اخلاقی اور روحانی طور پر بہتر بناتی ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے جس میں انسان اپنی زندگی میں بہتری لا سکتا ہے اور اپنی عادات میں مثبت تبدیلیاں پیدا کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کو انسان کے لیے ایک ایسا خاص موقع بنایا ہے جس میں وہ اپنی گناہوں بھری زندگی سے نکل کر نیک اعمال کی طرف متوجہ ہو سکے۔

جو لوگ رمضان کے پہلے عشرے میں اللہ کی رحمت کے طلبگار ہوتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ بے شمار برکتوں اور انعامات سے نوازتا ہے۔ حضرت ابو مسعود غفاری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ’’اگر لوگوں کو رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں کا علم ہوجائے، تو میری امت تمنّا کرتی کہ پورا سال رمضان ہی ہو۔‘‘ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’کتنے ہی روزے دار ہیں، جنہیں بھوک و پیاس کے سوا کچھ نہیں ملتا اور کتنے ہی راتوں کو نماز پڑھنے والے ہیں، جنہیں اپنی نمازوں سے رت جگے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘

قیامِ لیل میں تراویح کی بڑی فضیلت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ تراویح اور وتر پڑھا کرتے تھے۔ (مجمع الزوائد)۔ تراویح کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ روزانہ تراویح باجماعت پڑھنے کے ثواب کے علاوہ مہینے میں کم از کم ایک بار پورا قرآن سننے کا شرف اور ثواب حاصل ہوجاتا ہے۔

اس ماہِ مبارک مہینے میں تہجّد کا اہتمام بھی بہت آسانی سے کیا جاسکتا ہے، اس کے لیے سحری سے بیس منٹ قبل اٹھ کر تہجد کی نماز ادا کی جاسکتی ہے،جو قربِ الٰہی اور قبولیتِ دعا کا بہترین وقت بھی ہے۔ حضور اکرم ﷺکا فرمان ہے کہ ’’ فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل تہجّد کی نماز ہے۔‘‘ (مسندِاحمد)

رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے: انسان جو بھی نیک عمل کرتا ہے، اس کا اجر اسے دس گنا سے سات سو گنا تک ملتا ہے، لیکن روزے کی بابت اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ یہ عمل (چونکہ) خالص میرے لیے ہے،اس لیے میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ (کیوں کہ) روزے دار صرف میری خاطر اپنی نفسانی خواہشات، کھانا اور پینا چھوڑتا ہے۔

روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں، ایک خوشی اسے روزہ افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اسے اس وقت حاصل ہوگی، جب وہ اپنے رب سے ملے گا اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ (بخاری و مسلم)

بندۂ مومن جب روزہ رکھے تو اسے چاہیے کہ اس کے کانوں کا بھی روزہ ہو، اس کی آنکھ کا بھی روزہ ہو، اس کی زبان کا بھی روزہ ہو، اور اسی طرح اس کے دیگر اعضاء وجوارح کا بھی روزہ ہو، یعنی اس کا کوئی بھی عضو اور جزء اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال نہ ہو۔ اس کے روزے کی حالت اور غیر روزے کی حالت ایک جیسی نہ ہو، بلکہ ان دونوں حالتوں میں فرق و امتیاز نمایاں اور واضح ہو۔

روزے کا دوسرا بڑا سب سے زیادہ باعثِ اجر عمل قیام اللیل ہے۔ قیام اللیل کا مطلب ہے، راتوں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی بارگاہ میں عجزو نیاز کا اظہار کرنا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے عبادالرحمن (رحمن کے بندوں) کی جو صفات بیان فرمائی ہیں، ان میں ایک یہ ہے: ترجمہ:’’ان کی راتیں اپنے رب کے سامنے قیام و سجود میں گزرتی ہیں‘‘۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جس نے رمضان (کی راتوں) میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے قیام کیا، تو اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے‘‘۔(صحیح بخاری) راتوں کا قیام رسول اللہ ﷺ کا بھی مستقل معمول تھا۔ صحابہ کرام ؓ اور تابعینؒ بھی اس کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ رمضان المبارک میں اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔

رمضان المبارک کا تیسرا بڑا عمل صدقہ و خیرات کرنا ہے۔حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں، نبی کریمﷺ بھلائی کے کاموں میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے تھے، آپ کی سب سے زیادہ سخاوت رمضان کے مہینے میں ہوتی تھی۔ اس مہینے میں (قرآن مجید کا دور کرنے کے لیے) جب آپﷺ جبرائیل امینؑ سے ملتے تو آپﷺ کی سخاوت اتنی زیادہ اور عام ہوتی جیسے تیز ہوا ہوتی ہے،بلکہ اس سے بھی زیادہ۔(صحیح مسلم) رمضان المبارک میں عام دنوں کے مقابلے میں صدقہ و خیرات کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔

رمضان المبارک کا ایک بڑا عمل روزے داروں کے روزے کھلوانا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس نے کسی روزے دار کا روزہ کھلوایا، تو اسے بھی روزے دار کی مثل اجر ملے گا، بغیر اس کے کہ روزے دار کے اجر میں کوئی کمی کی جائے۔(ترمذی) ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہے: ترجمہ: جس نے کسی روزے دار کا روزہ کھلوایا، یا کسی مجاہد کو سامان حرب دے کر تیار کیا تو اس کے لیے بھی اس کی مثل اجر ہے۔ (شعب الایمان)

قرآن مجید کا نزول رمضان المبارک میں ہوا، اس لیے قرآن مجید کا نہایت گہرا تعلق رمضان المبارک سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ماہ میں نبی کریمﷺ جبرائیل امین ؑکے ساتھ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے، اور صحابہ کرامؓ بھی اس ماہ میں کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کیا کرتے تھے، ان میں سے کوئی دس دن میں، کوئی سات دن میں، اور کوئی تین دن میں قرآن مجید ختم کرلیا کرتا تھا۔

قرآن مجید کو پڑھتے اور سنتے وقت انسان پر خوف اور رقت کی کیفیت بھی طاری ہونی چاہیے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب پڑھنے اور سُننے والے مطالب اور معانی سے بھی واقف ہوں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے فرمایا، ’’مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ‘‘ حضرت ابن مسعودؓ نے عرض کیا: ’’میں آپ کو پڑھ کر سناؤں؟ حالانکہ قرآن تو آپ پر نازل ہوا ہے‘‘۔

آپ ﷺ نے فرمایا، ’’میں اپنے علاوہ کسی اور سے سُننا چاہتا ہوں‘‘چناںچہ حضرت ابن مسعودؓ نے سورۂ نساء کی تلاوت شروع کی جب وہ اس آیت پر پہنچے۔ ترجمہ: ’’اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر اُمت میں سے ایک گواہ حاضر کریں گے، اور (اے محمدﷺ) ان سب پر آپ کو گواہ بنائیں گے‘‘۔ (سورۃ النساء) تو آپﷺ نے فرمایا، ’’بس کرو‘‘ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ ﷺکی دونوں آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ (صحیح بخاری)

ایک حدیث میں نبی اکرمﷺ نے فرمایا ’’سات آدمیوں کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا، ان میں سے ایک وہ شخص ہوگا جس کی آنکھوں سے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عظمت وہیبت کے تصور سے آنسو جاری ہو جائیں۔

اللہ تعالیٰ کا خوف ہر مسلمان کے دل میں ہونا چاہیے، اس کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت تفکر وتدبراور غور و فکر سے کی جائے، اس کے معانی و مطالب کو سمجھا جائے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت کو قلب و ذہن میں مستحضر رکھتے ہوئے قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کی جائے۔ نیز اپنے گناہوں پر ندامت اور خلوص نیت سے توبہ و استغفار کی جائے۔

اقراء سے مزید