پروفیسر خالد اقبال جیلانی
سورۂ بقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ''رمضان وہ مہینہ ہے کہ جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔ لہٰذا جو بھی اس مہینے کو پائے اس پر لازم ہے کہ اس پورے ماہ کے روزے رکھے'۔
عموماً رمضان المبارک کا ذکر آتے ہی ہمارے ذہنوں میں صرف روزے ہی کا خیال آتا ہے ،حالانکہ اس آیت میں جو قرآن کریم کی واحد آیت ہے جس میں رمضان کا ذکر کیا گیا ہے، اس میں پہلے تفصیل سے قرآن کریم کے نزول اور وجہ نزول کے بارے میں بتایا گیا، اس کے بعد روزے کی فرضیت اور اس کے احکام کو بیان کیا گیا ہے۔ اس سے ایک بات تو یہ واضح ہو گئی کہ رمضان المبارک کے مہینے کی معنویت روزوں سے آگے بڑھ کر اور بھی بہت کچھ ہے، واضح رہے کہ اس سے روزے کی اہمیت کو کم کرنا ہرگز مقصود نہیں ہے۔
روزوں کی اہمیت کا اندازہ رسول اللہ ﷺکے اس ارشاد گرامی سے بخوبی ہوتا ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا '' ابن آدم کے لئے نیک اعمال کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ کیونکہ بندہ میرے لیے اپنی خواہش نفس اور کھانے پینے کو چھوڑ دیتا ہے۔
روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ،ایک افطار کے وقت اور دوسری اس وقت کی جب اس کی اپنے رب سے ملاقات ہوگی۔(صحیح بخاری) غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ایمان والے مختلف ریاضتوں اور سخت ترین مجاہدوں کے ذریعے اپنی تزکیہ و تربیت کی کوشش کرتے ہیں، لیکن رمضان کا مہینہ جو مکمل عبارت ہی تزکیہ و تر بیت سے ہے، اس کے حوالے سے ہمارے درمیان بڑے پیمانے پر بے شعوری اور بے حسی پائی جا تی ہے۔
رمضان المبارک کا پورا مہینہ اس کے شب و روز صبح و شام ایک ایک ساعت، ہر ہر لمحہ دراصل تزکیہ و تربیت اور عبادت الٰہی کا مہینہ ہے۔ ذکر و استغفا ر کا مہینہ ہے، قرآن کو پڑھنے، سمجھنے اور سمجھانے کا اور انسانی معاشرے کو قرآن کے نظام میں ڈھال دینے کا مہینہ ہے، جبکہ ہم نے اسے سستی، کاہلی، آرام و سکون اور کھانے پینے سے بڑھ کر بسیار خوری کا مہینہ بنا کر رکھ دیا ہے۔
ذرا غور کریں رمضان کے مہینے میں ہمارے گھروں میں آنے والے راشن اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کے اخراجات غیر رمضان سے کم ہوتے ہیں یا زیادہ؟ اگر زیادہ ہوتے ہیں تو پھر یہ روزہ کہاں ہوا؟ پھر ہم غریبوں مسکینوں کی حالت زار کو سمجھنے کے قابل کہاں رہے اور رمضان مواسات، خیر خواہی اور ہمدردی کا مہینہ کیسے رہا ؟ یہ تو صرف ایک طرح سے خانہ پُری ہو گئی۔
سوچئے رمضان میں ہماری نیند کا دورانیہ عام دنوں سے زیادہ ہو تا ہے یا کم ؟ اگر زیادہ ہوتا ہے تو پھر رمضان کی راتیں قیام و سجود اور تلاوتِ قرآن کی راتیں کہاں رہیں؟ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم رمضان کوبر کت، رحمت، مغفرت کا مہینہ بھی کہیں، اسے اپنے لیے سعادت و خوش بختی کا مہینہ بھی سمجھیں اور پھر اس کا بیشتر حصہ سوتے ہو ئے گزار دیں۔
حقیقت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺاور صحابۂ کرامؓ کے رمضان اور ہمارے رمضان میں اتنا ہی فرق ہے جتنا کہ ایک زندہ وجوداور ایک بے جان لاشے میں ہوتا ہے۔ دیکھنے میں تو دونوں ایک جیسے معلوم ہو تے ہیں لیکن ایک میں روح ہوتی ہے اور زندگی سے رواں دواں اور دوسرابے جان و مردہ ہوتا ہے۔
اب آئیے ذرا ایک نظر دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺکا رمضان کیسا ہوتا تھا؟ اس کے بعد ہم اس کا موازنہ اپنے آج کے رمضان کے نظام الاوقات اور اپنی دیگر رمضان کے ساتھ مخصوص مصروفیات سے کریں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آخر دونوں میں ایسا کیا فرق ہے کہ ہمارے روزے غور کرنے پر بالکل ہی بے جان سے معلوم ہوتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺکے روزوں کی کیفیت کا اندازہ کرنے کے لئے سب سے پہلے دو احادیث کا مطالعہ فرمائیں۔ آپ ﷺکا رشاد گرا می ہے :جس نے بہ حالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے ،اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جا تے ہیں" (صحیح بخاری) دوسری حدیث پاک میں ہے" جو روزے میں جھوٹی (بری) بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کے بھوکا، پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں" (صحیح بخاری) بس ہم میں سے ہر شخص اپنے روزے کو رسول ﷺکی بیان کردہ ـ"ایمان و احتساب "اور بری بات کو ترک نہ کرنے کی کسوٹی پر پرکھ لے۔
رسول اللہ ﷺیوں تو غیر رمضان میں بھی قیام اللیل کی بہت پابندی فرماتے، لیکن رمضان میں خصوصاً آپ ﷺاورزیادہ خوب چاک و چوبند ہو جاتے، اور اپنے ساتھ اپنے اہل و عیال کو بھی قیام اللیل کے لیے اٹھاتے، اس کے ساتھ ساتھ صحابۂ کرا مؓ کو بھی رمضان کی راتوں میں نمازیں پڑھنے کی کثرت سے تاکید و ہدایت فرماتے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺصحابۂ کرامؓ کو فرضیت کے بغیر قیامِ رمضان کی ترغیب دیتے اور فرماتے "جس شخص نے ایمان اور احتساب (محاسبہ نفس کرنے) کے ساتھ رمضان کی راتوں میں قیام کیا، اس کے پچھلے سارے (صغیرہ ) گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں" (ترمذی ) خیال رہے کہ روزے کی طرح یہاں بھی "ایمان و احتساب " مرکوز ہے ۔
رمضان المبارک میں رسول اکرم ﷺکا قرآن کریم سے شغف بہت زیادہ بڑھ جاتا۔ روایات کے مطابق آپ ﷺہر سال رمضان المبارک میں حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کے نازل شدہ حصوں کو دہرایا کر تے، جس سال آپ ﷺکاوصال ہوا، اس برس آپ ﷺنے جبرائیل امین علیہ السلام کے ساتھ دوبار دورِ قرآن فرمایا ۔(بخاری و مسلم)
رسول اللہ ﷺیوں تو لوگوں میں سب سے سخی و فیاض تھے، لیکن آپ ﷺکی سخاوت کا در یا رمضان میں بہت زیادہ اور تیزی سے رواں دواں ہو جاتا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺتمام لوگوں سے بڑھ کر سخی تھے، لیکن رمضان میں جب حضرت جبرائیل امین ؑ کے ساتھ آپ کی ملاقات ہو تی تو آپ ﷺبہت زیادہ سخاوت کیا کر تے اور اس وقت آپﷺ کی سخاوت تیز ہوا کے جھونکوں سے بھی بڑھ جاتی تھی۔ (صحیح بخاری )
رمضان المبارک میں رسول اللہ ﷺروزے داروں کو افطار کرا نے کا خصوصی اہتمام فرماتے اور صحابۂ کرامؓ کو بھی اس کی تلقین اس انداز سے فرماتے کہ'' جس نے کسی روزے دار کو افطاری کرائی، اسے بھی اتنا ہی اجر و ثواب حاصل ہوگا جتنا روزے دار کو اور اس روزے دار کے اجر و ثواب میں کوئی بھی کمی نہیں کی جائے گیــ" (ترمذی)
رسول اللہ ﷺکا عام دنوں میں بھی معمول تھا کہ فجر کی نماز کے بعد طلوعِ آفتاب تک مسجد ہی میں بیٹھ کر ذکر و اذکار کا اہتمام فرماتے۔ لیکن رمضان میں آپ ﷺاس معمول پر اور زیادہ سختی سے عمل پیرا ہوتے، پھر طلوعِ آفتاب کے بعد دو رکعت نماز نفل اشراق کی ادا فرما کر گھر تشریف لے جاتے۔ اشراق کو اللہ کے رسول ﷺنے حج و عمرہ کے ثواب کے برا بر قرار دیا۔ (ترمذی)
اسی طرح رمضان شریف میں رسول اللہ ﷺاپنی پوری زندگی میں رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرماتے رہے اور جس سال آپﷺ نے وصال فرمایا ،اس سال بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔ اسی طرح رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شبِ قدر میں خود بھی عبادت کا بہت زیادہ التزام فرماتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی راتوں کو اٹھا کر شبِ قدر میں عبادت کی تاکید فرماتے - یہ تھا صاحبِ اسوۂ حسنہ نبی کریم ﷺکا رمضان، ایک ایسار مضان جو انسان کی زندگی بدل دے، انسان کو اندر سے تبدیل کر دے۔
آئیے اب ایک نظر ہم اس رمضان پر ڈالتے ہیں جو ہم میں سے بیشتر لوگ بسر کرتے ہیں۔ ہم سحری کھانے کے لیے بالکل آخری وقت اٹھتے ہیں، جبکہ سحری کا وقت ختم ہو رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں تہجد کی نماز کا کیا خیال و سوال، پھر سحری کھانے کے بعد عموماً مسجد میں فجر کی نماز کے لیے جانا گراں گزرتا ہے۔ اس لئے گھر پر ہی فجر پڑھ کر اور کبھی بغیر پڑھے ہی سو جاتے ہیں۔
جو فجر کے لئے مسجد جاتے ہیں، وہ بھی نماز پڑھتے ہی گھر آکر سو جاتے ہیں، ان کے پاس بھی فجر کے بعد کے معمولات ذکر وا ذکار کے لئے مسجد میں قیام کی کوئی گنجائش ہی نہیں بس اب ظہر تک سونا ہی سونا، ظہر پڑھ کر سامان خورو نوش کی خرید و فروخت کے لیے بازاروں کا رخ کر لینا جہاں سے عصرکے وقت واپسی ہوتی ہے اور جو افطاری کا سامان رہ گیا تھا، اس کی خریداری کے لئے عصر پڑھ کر پھر بازار کی جانب چل دیتے ہیں۔
مغرب سے خاصا پہلے دستر خوان سجانا شروع کر دیتے ہیں اور انواع و اقسام کی متعدد نعمتوں کے باوجود اس بات پر کفِ افسوس ملتے ہیں کہ آج فلاں چیز لانا ہی بھول گئے، فلاں ڈش تو بنی ہی نہیں۔ پھر اس افطاری میں ایسے مشغول ہوتے ہیں کہ مغرب کی جماعت وقفے کے باوجود نکل جاتی ہے، جیسے تیسے مارے بندھے گھر پر ہی مغرب کی نماز کو لپیٹ دیا جاتا ہے۔
مغرب کے بعد افطاری سے طبیعت اتنی بوجھل ہو رہی ہوتی ہے کہ تراویح تو درکنار عشاء کی نماز کی ہمت بھی نہیں کر پاتے اور بے وقت کا خود ساختہ گڑھا ہوا قیلولہ کرنے لگتے ہیں یا اگر عشاء کی نماز یا تراویح کی ہمت کر بھی لیں تو ایسی مسجد کا انتخاب کرتے ہیں، جہاں کم سے کم وقت میں قرآن کریم کو سمیٹ دیا جاتا ہو۔
تراویح کے بعد کھانا اور اس کے بعد سڑکوں، ہوٹلوں کا رخ کر لیتے ہیں اور رات ان ہی سیر سپاٹوں میں گنوا دیتے ہیں۔ ان مصروفیات اور اشغال میں تہجد کا کوئی خانہ بنتا ہی نہیں۔ یہ رمضان ہرگز وہ نہیں جو شریعت کو مطلوب ہے۔ اللہ ہمارے رمضان روزوں کو اتباع سنّت اور اسوۂ حسنہ کا عملی نمونہ بنائے۔