• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ماہِ رمضان‘‘ رحمت و مغفرت کا موسمِ بہار

مولانا شعیب احمد فردوس

الحمد للہ! ایک مرتبہ پھر رحمتوں کا مہینہ اپنی تمام تر برکتوں کے ساتھ آگیا، رحمتوں کی پھوار موسلا دھار بارش میں تبدیل ہو گئی، جہنّم کے دروازے بند کر دئیے گئے، شیاطین پابند سلاسل ہو گئے، فرشتے " اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو" کا مژدہ سنانے لگے، آسمان سے " ہے کوئی مغفرت چاہنے والا" کی ندا آنے لگی۔

وہ مہینہ آ ہی گیا جسے " ماہِ نزولِ قرآن " کا شرف حاصل ہے، جس میں ایک ایسی قیمتی رات ہے جسے " ہزار راتوں سے بہتر" ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جس کا عشرۂ اوّل رحمت، ثانی مغفرت اور ثالث جہنّم سے آزادی کا پروانہ لیے ہوئے ہے، جس میں سیئات کو حسنات سے بدلنے کا سنہری موقع ہے، نیکیاں کمانا اور گناہوں سے پیچھا چھڑانا نہایت آسان ہے۔

قرآن کریم کے حکم :" اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو"۔( سورۃ التحريم ) پر عمل کرتے ہوئے رجوع الیٰ اللہ انتہائی سہل ہے۔ گناہوں کا دفتر لانے والے کے لئے مغفرت کا سمندر موجود ہے۔ " اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ " ( سورۃ التحريم ) کے امر پر عمل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ یہ مہینہ رحمتوں کا خزینہ اور برکات کا گنجینہ ہے۔ یہ با برکت مہینہ نیکیوں کا موسمِ بہار اور گناہوں کا موسم خزاں ہے۔ اس کے دن بھی بابرکات اور راتیں بھی پر نور ہیں۔

دامن پھیلانے، سرجھکانے ہاتھ اٹھانے آنسو بہانے میں تاخیر ہو سکتی ہے، اللہ ربّ العزت کی رحمت و مغفرت کے دروازے وا ہونے میں تاخیر نہیں ہو سکتی ۔ جن لوگوں کے قلوب بینا ہو گئے، انہوں نے اس ماہِ مبارک میں بہت کچھ پا لیا ۔ یہ وہ بات برکت مہینہ ہے جس میں دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، جنّت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اور جنّت کے ان دروازوں میں سے " باب الريّان " روزے داروں کے داخلے کے لئے مخصوص ہے۔

اس ماہِ رحمت میں بندۂ مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تبارک و تعالیٰ کو بوئے مشک سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ روزے دار کا اس قدر اکرام کہ سمندر کی مچھلیاں تک اس کے لئے دعا گو رہتی ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ جس میں اعمال کی قدر و قیمت عنداللہ بڑھ جاتی ہے۔

ایک فرض کا اجر و ثواب ستّر فرائض کے برابر اور نفل عبادات کا ثواب فرض کے برابر کر دیا جاتا ہے۔ افطار کے وقت روزے دار کی مانگی ہوئی دعائیں رد نہیں کی جاتیں۔ یہ وہ بات برکت مہینہ ہے جس میں اگر بندہ محض اللہ تعالیٰ کی خوش نودی کی خاطر صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور شہوات سے رکا رہے تو اس کا بدلہ خود اللہ ربّ العزت عطا فرمائے گا۔

یہ وہ مہینہ ہے جس میں اہل ایمان کو اعتکاف جیسی عبادت دی گئی ہے جو بندوں کو ہر طرح کے اسباب سے نگاہ ہٹا کر صرف مسبب الاسباب سے لو لگانے کا سبق دیتی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس ماہِ رحمت کی آمد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غفلت کی دلدل سے نکل کر دائمی اطاعت کی پوشاک پہن لیں، نیکیوں کی جستجو کریں، گناہوں سے دور بھاگیں، اطاعت کی حرص کریں، نفسانی خواہشات پر عمل کی حوصلہ شکنی کریں۔ دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر کا مظاہرہ کریں ۔ در در کا بھکاری بننے کے بجائے احکم الحاکمین کے در پر آ بیٹھیں، کیوں کہ جب اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں تو اس کی عطا بھی بے انتہا ہے۔

یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہم اللہ تعالیٰ کی خوش نودی کی خاطر " بھوک " کی لذت کو حاصل کریں اور خواہشات ِنفسانی کی قربانی دیں تاکہ ہم میں غم خواری اور ایثار کا جذبہ بے دار ہو۔ رمضان کا مہینہ ایک طرح سے نیکیوں کے مقابلے کا امتحان ہے، تاکہ مسلمان عبادات میں ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہوئے ثواب اور نیکیوں میں سبقت لےجائیں اور اپنی آخرت سنوار سکیں۔ 

یہ دعا ہمارے لبوں پر رہے کہ اے اللہ! اس ماہِ مبارک میں ہم پر اپنا خاص فضل فرما کر ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کی بخشش ہو گئی اور ہمیں ان " ہلاکت زدہ" لوگوں میں شامل نہ فرما جو اس ماہِ مبارک کو تو پاتے ہیں، مگر اپنی بخشش نہیں کرواتے۔

اقراء سے مزید