پاکستان بن جانے کے بعد امّاں جی کا مستقل قیام لاہور میں رہا۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد گھر کے حالات سخت پریشان کن ہو گئے تھے۔ ہم بھارت سے تقریباً خالی ہاتھ آئے تھے۔ ہمارے پاس سرمایہ تھا، نہ گھر کی ضروریات کا سامان۔ متروکہ سامان حاصل کرنے کیلئے جس مستعدی، ہوش مندی جیسی صفات کی ضرورت تھی، اُن کا ہم سب میں فقدان تھا لیکن اللہ کا کرم و فضل شاملِ حال رہا۔ والدہ کی بلندہمتی اور سلیقہ شعاری نے اُن صبرآزما حالات میں پورے خاندان کو سنبھالا دیے رکھا۔ آہستہ آہستہ یہ تنگی فراخی میں تبدیل ہوتی گئی۔1965ءمیں والدہ کی آنکھوں میں موتیا اُتر آیا۔ یہ عمل تو کئی سال سے جاری تھا مگر اب بینائی بالکل کمزور ہو گئی تھی۔ اُنہیں سب سے زیادہ قلق اِس بات کا تھا کہ وہ قرآن مجید کی زیارت اور تلاوت سے محروم ہو گئی ہیں۔ جنگ بندی کے بعد آپریشن ہوا جو اَللہ کے فضل سے کامیاب رہا۔ اِس آپریشن کی وجہ سے اُنہیں جسمانی اور دِماغی کمزوری لاحق ہو گئی جو عمر کے تقاضوں کے پیشِ نظر دُور نہ ہو سکی۔ خانہ داری کی ذمےداریاں بہوؤں نے سنبھال لی تھیں لیکن گھر کے معاملات کی سرپرستی بدستور اُنہی کے پاس رہی۔
حرمین شریفین کی زیارت اور شعائر اللّٰہ کو آنکھوں سے دیکھ کر والدہ، بھائی گُل حسن اور اُن کی اہلیہ ۱پریل 1968ءمیں واپس پہنچے۔ اُس دن گھر میں جشن کا سماں تھا۔ تمام عزیزواَقارب اور رِشتےدار پُرخلوص استقبال اور مقبول دعاؤں کا تحفہ وصول کرنے کیلئےموجود تھے۔ ہر طرف مبارکباد کی صدائیں تھیں۔ گویا محبت کا چشمۂ زم زم پورے جوش و خروش سے موجزن تھا۔ وہ سب گھر والوں کے لیے کوئی نہ کوئی تحفہ ضرور لائی تھیں۔ یہ اُن کے کردار کی عظمت کا بیّن ثبوت تھا۔
1971ء کے انتخابات کے نتیجے میں مسٹربھٹو مغربی پاکستان کے اُفق پر لیڈر بن کر اُبھرے۔ اُس وقت ہمارے ادارے کی مطبوعات ماہنامہ ’’اردوڈائجسٹ‘‘ اور ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ میں بھٹوصاحب کی سوچ اور فسطائی رویّے کے بارے میں قوم کو بروقت آگاہ کرنے کے لیے مضامین کا ایک باقاعدہ سلسلہ جاری کیا گیا تھا جو بھٹوصاحب کو سخت ناگوار گزرا۔ چنانچہ اُنھوں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد پنجاب اسمبلی کے باہر کارکنوں کے وسیع مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’مَیں قریشی برادران کو فکس اپ کر دوں گا، اگر نہ کر سکا، تو میری اولاد کرے گی۔‘‘بعض رشتےداروں نے اِس تقریر کا متن اخبارات میں پڑھ کر والدہ کو بتایا۔ اُنھوں نے جواب دیا ’’مَیں نے اپنی اولاد کو کبھی بےوضو دُودھ نہیں پلایا۔ جب تک مَیں زندہ ہوں، اُن پر کوئی آنچ نہ آئے گی لیکن میرے بعد محتاط ہو جانا۔‘‘ اُن کا یہ فرمایا بعدازاں حقیقت ثابت ہوا۔وسط 1971ء میں اُن کا فشارِ خون بہت بڑھ گیا۔ ڈاکٹر نے معائنہ کر کے علاج تجویز کیا مگر اُس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اُن پر فالج کا شدید حملہ ہوا جو اِتنا سخت تھا کہ زبان بند ہو گئی اور جسم کا پورا دَایاں حصّہ مفلوج ہو گیا۔ اتفاق سے جس دن فالج کا حملہ ہوا، ہم بھائیوں میں سے کوئی بھی اُن کے پاس نہ تھا۔ برادر گُل حسن عمرے کیلئے سعودی عرب گئے ہوئے تھے۔ حافظ افروغ حسن ملازمت کے سلسلے میں کنگن پور میں تھے۔ بھائی اعجاز کاروباری معاملے میں کراچی جبکہ مَیں قاہرہ میں تھا۔بھائی اعجاز کو بذریعہ ٹیلیفون اطلاع ملی، تو وہ اُسی شام بذریعہ جہاز لاہور پہنچ گئے۔ حافظ صاحب بھی اگلے دن والدہ کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ تین چار دِن بعد مَیں بھی پہنچ گیا مگر بھائی گُل حسن کی واپسی میں تقریباً ایک مہینہ لگا۔ لاہور میں علاج معالجے کے اسباب کی کوئی کمی نہیں۔ ڈاکٹروں سے علاج جاری رہا۔ اُن کے مشورے کے مطابق وقتاً فوقتاً دوسرے ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جاتی رہیں۔ مختلف حکیم بھی وسیع تجربات کی روشنی میں علاج تجویز کرتے رہے مگر کوئی افاقہ نہ ہوا۔ایک دن تھوڑی دیر کے لیے اُنہیں ہوش آیا، تو اُنہوں نے تین باتیں کیں: وضو کر کے نماز پڑھی۔ وصیت کی کہ مجھے دفنانے میں دیر نہ کی جائے۔ تیسرا یہ کہ میری نمازِ جناہ بڑا بیٹا پڑھائے۔ آخری کام اُنہوں نے یہ کیا کہ اُن کے پاس کسی کی کچھ رقم امانتاً پڑی تھی، وہ اُنہوں نے بڑی بہو کے حوالے کر دی۔ آخر وہ وَقت آ ہی گیا جو ہر ذی روح کیلئے مقرر ہے۔ یکم اپریل 1972ء کو بروز ہفتہ عین اُس وقت جب وہ سحرخیزی کے معمول کے مطابق رب کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اُس سے رازونیاز کیا کرتی تھیں، دعوتِ اجل کو لبیک کہتے ہوئے جان خالقِ حقیقی کے سپرد کر دی۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔
ہم سب ایسے سایۂ رحمت و شفقت سے محروم ہو گئے جو نہایت ٹھنڈا، سہانا، فرحت بخش، دلنواز، روح پرور اَور حوصلہ افزا تھا۔ اُس سائے میں ہمارے لیے ہر قسم کے رنج و مِحن، آلام و مصائب اور شدائد و خطرات سے تحفظ کا احساس، امن و سلامتی، برکت و عافیت اور رَاحت و رَحمت کی خنکی موجود تھی۔ امّاں جی کے آخری سانس لینے کے فوراً بعد فجر کی اذان کی ایمان پرور صدائیں فضا میں گونجنے لگیں۔ حق ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ ساری کائنات پر اُسی کی خدائی و فرمانروائی ہے۔ کامیابی سے ہمکنار ہو گیا وہ جو اُس کا ہوا، تباہ و برباد ہو گیا وہ جس نے اُس سے منہ موڑا۔
والدہ کو غسل اُن کی بہوؤں اور بیٹیوں نے دیا۔ نہلانے اور کفنانے کے بعد جب میّت کمرے میں رکھی گئی، تو چہرے پر عجیب قسم کی روحانیت اور نورانیت تھی۔ اُن کی وصیت کے مطابق برادر گُل حسن نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ روتی ہوئی آنکھوں، تڑپتے بلکتے دِلوں اور لرزتے کانپتے ہاتھوں سے میانی صاحب کے قبرستان میں منوں مٹی کے نیچے اُنہیں دفنا دیا گیا جہاں وہ محوِ استراحت ہیں۔اُن کا سایہ اولاد کیلئے کتنا باعثِ برکت اور موجبِ رحمت تھا، اِس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا سے اُٹھ جانے کے تین دن بعد ہی4؍اپریل 1972ء کو مجھے اور بھائی اعجاز حسن کو مارشل لا ضابطے کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ ہمارے رسالے بند کر دیے گئے۔ فوجی عدالت قائم ہوئی جس نے یک طرفہ سرسری سماعت کے بعد ہمیں دو دو سال قید بامشقت اور لاکھوں روپے جرمانے کا حکم سنایا۔ یقیناً ماں کی آغوش ہی سب سے بڑی پناہ گاہ ہے اور مَیں آج بھی اُسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوں۔