دبئی(عبدالماجدبھٹی) کرکٹ میں بھارتی چوہدراہٹ پر پاکستان بنگلہ دیش بھی ناراض ہوگیا، ورلڈ کپ سے 33دن قبل آئی سی سی کو نئے بحران کا سامنا، بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمن کو آئی پی ایل سے نکالنے کے بھارتی بورڈ کے فیصلے کے خلاف احتجاجا ً بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹی 20 ورلڈکپ کیلئے ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان کردیا،بنگلہ دیش میں کھیل اور نوجوانوں کے امور کے عبوری مشیر آصف نذرل نے کہا ہے کہ غلامی کے دن پورے، بنگلہ دیشی کرکٹ کی توہین برداشت نہیں کرینگے، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ ہمارے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کیے جائیں، بنگلہ دیش میں آئی پی ایل کی نشریات بھی روکنے کا حکم دیا،بھارتی کرکٹ بورڈ کے ذرائع نے کہا ہے کہ صرف ایک ماہ باقی رہ جانے کے بعد میچز کا مقام تبدیل کرنا “تقریباً ناممکن” ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی خواہش پر میچز نہیں بدل سکتے، یہ لاجسٹک طور پر بہت مشکل ہے، بنگلہ دیش نے بھارت میں بڑھتی ہندو انتہا پسندی کی وجہ سے کھلاڑیوں کی سیکورٹی پر خدشات کا اظہار ہے، بنگلہ دیش کرکٹ کے فیصلے پر آئی سی سی نے تبصرے سے گریز کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت اور سری لنکا میں ہونے والے ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ سے33دن پہلے انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کو ایک نئے بحر ان کا سامنا ہے۔بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمن کو آئی پی ایل سے نکالنے کے بھارتی بورڈ کے فیصلے کے خلاف احتجاجا بنگلہ دیش نے بھارت جا کر ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کھیلنے سے انکار کردیا ہے جس کے بعد آئی سی سی کو لاجسٹکس مسائل کا سامنا ہے۔پاکستان کے بعد بنگلہ دیش نے بھی اپنے میچ سری لنکا میں کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستانی کرکٹ ٹیم پہلے ہی بھارت جانے سے انکار کرچکی ہے پاکستان کے میچ سری لنکا میں ہوں گے۔بھارت اور پاکستان کا میچ بھی کولمبو میں شیڈول ہے۔کئی گھنٹوں کی مشاور ت اور سوچ وبچار کے بعد بنگلہ دیش نے بھارت کھیلنے سے انکار کردیا۔بنگلہ دیش بورڈکی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق بی سی بی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ہنگامی میٹنگ اتوار کودوپہر ہوئی جس میں بھارت اور سری لنکا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی پیش رفت سے متعلق سے جائزہ لیا گیا۔ہنگامی اجلاس میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور بورڈ آف گورنرز نے فیصلہ کیا کہ بنگلہ دیش کی قومی ٹیم بھارت نہیں جائیگی۔ یہ اقدام کھلاڑیوں ٹیم آفیشلز بورڈ ممبرز اور دوسرے اسٹیک ہولاڈرز کی حفاظت کیلئے ضروری ہے ۔بنگلہ دیش بورڈ منتظر ہے کہ آئی سی سی صورتحال کو سمجھتے ہوئے جلد اس معاملے پر جواب دیگا۔بورڈ کے مطابق اس فیصلے سے آئی سی سی کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا گیا اور بنگلہ دیش بورڈ منتظرہے آئی سی سی صورتحال کو سمجھتےہوئے جلد اس معاملے پر جواب دے گا۔آئی سی سی کی جانب سے اس معاملے پر ابھی تک کوئی ردعمل نہیں آیا۔قبل ازیں بنگلہ دیش کے مشیر برائے کھیل نے اعلان کیا کہ بنگلہ دیش ورلڈ کپ کھیلنے کیلئے بھارت کا دورہ نہیں کرے گا، ہم اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں جوبھارتی کرکٹ بورڈ کی جارحانہ اورفرقہ وارانہ پالیسیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ بھارتی انتہا پسندوں کے دباؤ میں آکر آئی پی ایل سے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ریلیز کیا گیا جسکے بعد بھارت اور بنگلہ دیشی بورڈ میں کشیدگی بڑھی۔ بنگلہ دیش آئی سی سی کو خط لکھے گا جس میں نئے شیڈول کا پوچھا جارہا ہے۔واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 7 فروری سے 8 مارچ تک بھارت اور سری لنکا کی میزبانی میں کھیلا جائے گا۔بنگلہ دیش گروپ سی میں ہے اور وہ اپنی مہم کا آغاز 7 فروری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ سے کریں گے۔ وہ ممبئی میں نیپال کے خلاف گروپ مرحلے کے اختتام سے قبل کولکتہ میں ویسٹ انڈیز، انگلینڈ اور اٹلی سے کھیلے گی۔اس سے پہلے بنگلہ دیش کے مشیر کھیل آصف نذرل نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ آئی سی سی سے ورلڈکپ میں ٹیم کی سیکیورٹی کی ضمانت لے، بنگلہ دیش بھی پاکستان کی طرح ورلڈکپ کے مقابلے سری لنکامیں کھیلنے کے لئے آئی سی سی سے رابطہ کرے۔ ہفتے کو بی سی سی آئی نے اپنے متعصبانہ فیصلے میں آئی پی ایل کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئندہ آئی پی ایل 2026 سیزن کیلئے اسکواڈ سے ریلیز کردے۔جسکے بعد انہیں فارغ کردیا گیا۔